وزارت خزانہ کا ٹیکس اہداف پر آئی ایم ایف سے اختلاف،اخراجات گھٹانے پر اتفاق

        وزارت خزانہ کا ٹیکس اہداف پر آئی ایم ایف سے اختلاف،اخراجات گھٹانے پر ...

  

اسلام آباد(آن لائن) وزارت خزانہ نے ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ غیر ضروری اخراجات میں واضح کمی لائی جائیگی، دوسری طرف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد کرنے اور بجٹ میں ٹیکس اہداف سے متعلق وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے موقف سے ا ختلاف کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2020-21 کے بجٹ اہداف کے حوالے سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہوگیا۔ بجٹ کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ رواں ہفتے بھی جاری رہے گا۔حکومت نے آئی ایم ایف پر واضح کردیا ہے کہ موجودہ حالات میں 5ہزار 1سو ارب روپے سے زائد کا تجویز کردہ ٹیکس ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا۔ وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق بجٹ اہداف سے متعلق یہ تیسرا بات چیت کا دور تھا جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا۔وزارت خزانہ کاموقف ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا یا پھر ٹیکسوں کا ہدف زیادہ رکھا گیا تو اس سے حکومت کیلئے مشکلات بڑھیں گی البتہ آئی دسمبر میں قرض کی اگلی قسط کے حصول کے حوالے سے پاکستان کے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہونگے۔ آئی ایم ایف نے بجٹ مذاکرات کے دوران واضح کیا کہ اگر غیر ضروری اخراجات اور خریداریوں میں کمی نہ لائی گئی تو حکومت کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اِس وقت آئی ایم ایف کی شرائط نہ ماننے سے قرض پروگرام متاثر ہوسکتا ہے۔

قرض فیص

مزید :

صفحہ اول -