صنعتی صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں سہولت کی پالیسی نہ بنانے کا حکومتی اقدام قابل افسوس: جسٹس شجاعت علی خان

صنعتی صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی میں سہولت کی پالیسی نہ بنانے کا ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران صنعتی صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے سہولت دینے کی پالیسی وضع نہ کرنے کے وفاقی حکومت کے اقدام کو افسوس ناک قراردے دیا،مسٹر جسٹس شجاعت علی خان نے اس حوالے سے بیرسٹر راحیل کامران شیخ کی وساطت سے دائردرخواست پرماسٹر ٹائلز اینڈ سرامکس انڈسٹریز کومارچ اور اپریل کے سوئی گیس کے بل قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت اور فرم کے سوئی گیس کنکشن کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے قراردیا کہ حکومت ایک طرف واشگاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران صنعتی اداروں کو بلوں کے حوالے سے سہولت دینے کی کوئی پالیسی ہی نہیں بنائی گئی ہے،ماسٹر ٹائلز اینڈ سرامکس انڈسٹریز کی طرف سے معروف قانون دان بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ لاک ڈاؤن کے باعث درخواست گزارکمپنی مارچ اور اپریل میں سوئی گیس کے بل جمع نہیں کرواسکی،کمپنی نے ان مہینوں کے بلوں کی قسطوں کے لئے سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈکو درخواست دی،درخواست منظور کرنے کی بجائے محکمہ سوئی گیس نے درخواست گزار کمپنی کا کنکشن ہی کاٹ دیاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ 1995ء سے لے کر آج تک درخواست گزار کمپنی نے بلوں کے حوالے سے کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا،بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے صنعتی اداروں کو یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کے لئے قسطوں کی سہولت دینے کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے حوالے بھی دیئے،بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے مزید کہا کہ حکومت نے تعمیرات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے لئے رقم کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کرنے کی پالیسی جاری کررکھی ہے،سرامکس بھی تعمیرات کے شعبہ کا ایک حصہ ہے لیکن سرامکس کی صنعت کو یوٹیلیٹی بلوں کی قسطوں میں ادائیگی تک کی سہولت نہیں دی جارہی،وفاقی حکومت اور سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈکے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹس کے فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج ہوچکے ہیں اوریہ کہ بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر سوئی گیس کے کنکشن بحال نہیں کئے جاسکتے، وفاقی حکومت کے وکیل نے مزید کہا کہ قسطوں میں بلوں کی ادائیگی کی سہولت صرف گھریلو صارفین کے لئے ہے،صنعتی اداروں کو یہ سہولت حاصل نہیں،عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ نے تاحال کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا،سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈکے وکیل نے کہا کہ اگر ماسٹر ٹائلز اینڈ سرامکس انڈسٹریز کی درخواست منظور کرلی گئی تو ایسی درخواستوں کا سیلاب آجائے گا،فاضل جج نے فریقین کا موقف سننے کے بعد درخواست منظور کرلی اور متعلقہ حکام کو مارچ 2020ء کے بل کی پہلی قسط 10کروڑ روپے کی وصولی اور درخواست گزارکمپنی کا سوئی گیس کنکشن فوری طور پر بحال کرنے کاحکم دیا،عدالت نے مزید ہدایت کی کہ درخواست گزار کمپنی مارچ کے بل کی دوسری قسط 15جون اور تیسری قسط 30جون تک اداکرے گی جبکہ اپریل کے بل کے حوالے سے عدالت نے حکم دیاکہ یہ بل بھی 3قسطوں میں وصول کیا جائے،درخواست گزار کمپنی کے وکیل بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کمپنی صرف مارچ اور اپریل کے بلوں کی قسطیں کروانا چاہتی ہے،کرنٹ بل معمول کے مطابق اداکریں گے،فاضل جج نے مزید قراردیا کہ درخواست گزار کمپنی اگر واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے ڈیفالٹ کرے تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی کا اختیار ہوگا۔

یوٹیلٹی بلز قسطیں

مزید :

صفحہ آخر -