کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی، لیاقت آباد پولیس سبقت لے گئی

        کراچی: ایس او پیز کی خلاف ورزی، لیاقت آباد پولیس سبقت لے گئی

  

کراچی(رپورٹ/ندیم آرائیں)کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی میں ماڈل تھانہ لیاقت آباد سبقت لے گیا،پورا ہفتہ صبح 8 بجے سے کھلنے والی زیادہ تر دکانیں رات کے آخری پہر تک کھلی رہتی ہیں، پولیس اہلکار ہوٹلز میں ایس اہ پیز پر عمل درآمد کرانے کی بجائے خود ہوٹل میں بیٹھ کا کھانا تناول کرنے لگے، افسران کی چشم پوشی کورونا پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے،شہریوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ لیاقت آباد پولیس کی مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔تفصیلات کے مطابق ھکومت کی جانب سے پیر سے جمعہ صبحٰ 8بجے سے شام7بجے تک شہریوں کو ایس او اپیز کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی تھی،جبکہ ہفتہ اور اتوار کو تمام کاروبار بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے اور اس پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سونپی گئی تھی،لیاقت آباد پولیس نے کورونا کے معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے مختلف کاروبار کرنے والوں کو نو لاک ڈاؤن کا لائسنس جاری کردیا،جس کے بعد دیکھنے میں آیا ہے کہ لیاقت آباد میں زیادہ تر دکاروبار صبحٰ 8بجے سے رات کے آخری پہر تک جاری رہتا ہے،جبکہ میڈیکل اسٹورز کو وقت پر بند کرانے کی اطلاعات بھی ہیں،لیاقت آباد ڈاکخانے پر مشہور گول گپے والا دن گیارہ بجے سے رات تین بجے تک نہ صرف اپنی دکان پر شہریوں کو پارسل دے رہا ہوتا ہے بلکہ اپنی دکان سے کچھ فاصلے پر ٹھیلے میں گول گپے رکھ کر آنے والے شہریوں کو کھانے کے لیے بھی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں جبکہ حکومتی احکامات کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء ہوم ڈیلیوری کے زریعے ہی بیچی جاسکتی ہیں،اسی طرح ڈاکخناے پر ہی موجود دو آئسکریم دکانیں بھی دن بارہ بجے کے بعد کھلنے کے بعد رات گئے تک کھلی رہتی ہیں،زرائع کے مطابق رات دیر تک کھلنے والی آئسکریم کی دکان کے مالک کو لیاقت آباد پولیس اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر تھانے لے گئی تھی اور کچھ ہی دیر بعد توڑ جوڑ کرکے اسے دکان پر واپس لے آئی،اس کے ساتھ ہی نرالا سویٹس صبحٰ 8بجے کھلنے کے بعدرات گئے تک کھلی رہتی ہے،جس میں شٹر گراکر رات تک شوارما بھی آنے والے شہریوں کو فروخت کی جاتا ہے،ھکومتی احکامات کے مطابق ہوٹلز اور چائے خانے صرف مخصوص اوقات میں کھانے پینے کی اشیاء پارسل کرسکتے ہیں مگر چائے خانوں پر شہریوں کو کپ اور پیالیوں میں چائے مہیا کی جاتی ہے اور اس کے بدلے لیاقت آباد پولیس کو چائے فری مہیا کی جاتی ہے،اسی طرح ہوٹلز پر بھی پولیس ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کی بجائے خود وہاں بیٹھ کر فری میں کھانا تناول کرتی ہے،جبکہ فروٹ کے ٹھیلے صبح سے رات تک بڑی تعداد میں سڑک پر فروٹ بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں،لیاقت آباد تھانے کی حدود میں مختلف علاقں میں کٹاکٹ مچھلی،پائے،کلیجی،برگر،دودھ کی بوتلیں،گنے کا رس مختلف پتھاروں سے رات کے کسی بھی پہر باآسانی مل جاتا ہے،نوجوان لڑکے اور بچے ڈبو اور فٹبال گیم کی دکانوں پرآدھی رات تک تفریھ کرتے نہیں،زرائع کا یہ بھی کہنا ہے ڈبو اور فٹبال گیمز پر ہزاروں روپوں کی بیٹنگ بھی کھیلی جاتی ہے،ایک جانب کورونا شہر کے ہر تیسرے گھر میں داخل ہوچکا ہے تو دوسری جانب پولیس کا اسے سنجیدگی سے نہ لینا کورونا کو مزید پھیلنے کا موقع دے رہا ہے،جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کی اس جانب سے چشم پوشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے،شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ لیاقت آباد پولیس کی اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -