حسن علی کا ورچوئل ری ہیب سیشن کی طرف مثبت رجحان

حسن علی کا ورچوئل ری ہیب سیشن کی طرف مثبت رجحان

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر) فاسٹ باؤلر حسن علی نے کمر کی انجری سے چھٹکارے کے لیے ترتیب دئیے گئے ورچوئل ری ہیب سیشن کی طرف مثبت رجحان ظاہر کیا ہے۔ طبی ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ حسن علی کو سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ توقعات سے قبل ہی مسابقتی کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں جبکہ پی سی بی ان کی مالی معاونت کریگا۔اس سیشن کی نگرانی لاہور کے معروف نیوروسرجن آصف بشیر، آسٹریلیا میں مقیم ممتاز اسپائنل تھراپسٹ پروفیسر پیٹر او سولیون اور پی سی بی کی میڈیکل ٹیم نے کی۔پینل کے مطابق اس سیشن کے نتائج حوصلہ افزاء آرہے ہیں اور وہ آئندہ5 ہفتے حسن علی میں بہتری کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔جس کے بعد ہی وہ اس حوالے سے کوئی دوسرا قدم اٹھانے کا فیصلہ کریں گے۔ڈائریکٹر پی سی بی میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں حسن علی کا جسم کے ایک ہی حصے سے دو مرتبہ انجریز کا شکار ہونا کوئی معمولی بات نہیں، نتیجتاً ہم نے چند بہترین اور تجربہ کار ماہرین سے مشاورت کی۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی آن لائن ری ہیب سیشن کے بعد ماہرین کی آراء جان کر خوشی ہوئی ہے کہ حسن علی میں انجری کی علامتی واپسی کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہوئے تاہم یہ ری ہیب پروگرام کے ابتدائی ایام ہیں اور ہم اس ضمن میں مزید کسی بھی مشترکہ فیصلے سے قبل آئندہ 5 ہفتوں تک فاسٹ باؤلر میں بہتری کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں گے۔ڈاکٹر سہیل سلیم نے کہا کہ ایک بات تو یقینی ہے کہ اپنے شعبے کے معروف ماہرین حسن علی کا علاج کررہے ہیں۔ پرامید ہیں کہ حسن علی سرجری کے بغیر صحتیاب ہوکر کرکٹ میں واپس آئیں گے۔

اس دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرکٹ میں واپسی کے لیے حسن علی کی مالی معاونت کرے گا۔پی سی بی کی جانب سے یہ فیصلہ انجری کے باعث حسن علی کے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم رہ جانے کے سبب کیا گیا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -