جولائی، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے، عوام نے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے، ایس او پیز پر عمل کیا جائے، عمران خان مزید 65افراد جاں بحق، 4788نئے مریض رپورٹ

جولائی، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے، عوام نے احتیاط نہ کی تو بہت مشکل ...

  

لاہور،اسلام آباد (جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز پر عمل کریں۔ اگر احتیاط نہ کی تو بہت مشکل وقت آنے والا ہے۔ ملک میں جولائی، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے۔کورونا وائرس سے متعلق صورتحال سے قوم کو ا?گاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے اور کہہ رہے ہیں کہ یہ فلو ہے، اس لیے ایس او پیز پر عمل نہیں کرتے، میں سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ اس عمل سے ہم سب کی زندگی مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ ماسک ضرور پہنیں۔ ماسک کی وجہ سے 50 فیصد بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کورونا کنٹرول میں رہے تاکہ ہسپتالوں پر دباؤ نہ پڑے۔ ساری دنیا نے لاک ڈاؤن کھول دیا ہے، لاک ڈاؤن کے اثرات معیشت پرپڑتے ہیں، لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دارطبقہ سب سے زیادہ متاثرہوا، لوگوں کے گھروں میں بھوک ہے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب وائرس ختم نہیں ہوگا، لاک ڈاؤن کرکے وائرس کے پھیلاؤکوکم کرنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کو احتیاط کرنی چاہیے، اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ملکی حالات بھی یورپ، برازیل اور دیگر ممالک کی طرح ہو سکتے ہیں، امریکا میں ایک روز کے دوران دو ہزار سے زائد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں تین ماہ کے دوران دو ہزار جاں بحق ہوئے ہیں۔صوبائی کابینہ کی سفارشات میں مختلف کاروباروں کے اوقات کار تبدیل کر دئیے ہیں،سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔تفصیل کے مطابق بیکریاں،دودھ دہی کی دکانیں ہفتہ بھر 24 گھنٹے کھلی رہ سکیں گی۔ گوشت کی دکانیں صبح 9 سے شام 7 بجے تک ہفتے بھر کھلی رہ سکیں گی۔سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیپٹن(ر)محمد عثمان کے مطابق نوٹیفکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور تا حکم ثانی لاگو رہے گا۔دوسری طرف ڈی سی لاہور دانش افضال نے شہر کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا۔ ڈی سی لاہور دانش افضال نے انار کلی، اچھرہ، مال روڑ اور ہال روڑ کا دورہ کیا۔انہوں نے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کو چیک کیا اوردکان دار اور عوام الناس کو تمام تر حفاظتی اقدامات رکھنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ سماجی فاصلہ کو برقرار اور ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ڈی سی لاہور دانش افضال نے کہا کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے بھی اپنی تحصیل کی مارکیٹوں کے دورے جاری ہیں۔ علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ لاہور کے افسران کی کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ضلعی انتظامیہ لاہور نے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 89دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔کارروائیاں تحصیل ماڈل ٹاؤن، سٹی، کینٹ اور شالیمار میں کی گیئں۔ اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان نصراللہ رانجھا نے تحصیل ماڈل ٹاؤن میں 24دکانوں کو ایس اوپیز کی خلاف ورزی پر سیل کیااور 14ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیئے۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی تبریز مری نے تحصیل سٹی میں شاہدرہ، اقبال ٹاؤن اور ہال روڑ میں 30 دکانوں کو خلاف ورزی پر سیل کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی مالوف نے تحصیل شالیمار میں جلو موڑ بازار میں 5 دکانوں کو سیل کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کینٹ مرضیہ سلیم نے تحصیل کینٹ کی نشاط کالونی میں 30 دکانوں کو سیل کر دیا اور 10 ہزار کے جرمانے بھی عائد کیئے۔ ڈی سی لاہور دانش افضال نے کہا کہ آج مجموعی طور 89 دکانوں کو ابھی تک سیل کیا گیا ہے اور 24ہزار روپے کے جرمانے عائد کیئے گئے ہیں۔ڈی سی لاہور دانش افضال نے کہا کہ دکان دار سماجی فاصلہ، سینی ٹائزر اور ماسک کو یقینی بنائیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد،گلگت بلتستان،آزاد جموں وکشمیر سمیت چاروں صوبوں میں کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز کی سنگین ورزیاں گزشتہ روز بھی جاری ہیں ، سینکڑوں دکانیں،ٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں کو بھاری جرمانے عائد کئے گئے گئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے صوبائی دفاتر کی جانب سے موصول ہونے والی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران معلومات کے مطابق انتظامیہ نے عوامی مقامات پر سماجی دوری سمیت دیگر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں پر سخت کارروائیاں کیں،رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں سمیت کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ترجمان کے مطابق بلوچستان میں ایس او پیز کی 294 خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی جس پر 128دکانیں، اور57 پبلک ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر بند کر کے بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ پنجاب میں نیشنل کمانڈ اینڈ سنٹر کی مخصوص ٹیموں نے مارکیٹس،بازار،ٹرانسپورٹ اور صنعتی علاقوں کے دورے کئے جہاں پر ایس او پیز کی 2593 خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں جن میں 792 دکانیں،4 فیکٹریاں،610 ٹرانسپورٹ کو بند کر کے ان کو جرمائے عائد کئے گئے ،اس طرح سندھ بھر میں ایس او پیز کی خلاف ورز یوں پر دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کرا یا گیا، خیبر پختونخواہ میں 406 خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملیں جن میں 2 دکانوں اور 22 ٹرانسپورٹ کو بند کر کے جرمانے کئے گئے جبکہ انفرادی طور پر 1241کو جرمانے کر کے تنبیہ کے نوٹسز کے جاری کیئے گئے،گلگت بلتستان میں 153 خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 43 دکانیں اور47 ٹرانسپورٹ کو جرمانے کئے گئے،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مارکیٹس میں 44 ایس او پیز کی خلاف ورزیاں کی گئیں جن میں 23 دکانیں،2 فیکٹریاں اور11 ٹرانسپورٹ کو جرمانے کر کے ان کو بند کر دیا گیا،آزاد جموں وکشمیر میں 379 ایس او پیز کی خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملیں جہاں پر55 دکانیں اور87 ٹرانسپورٹ کوبند کر کے جرمانے کیئے گئے۔سندھ میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی سیکڑوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔گزشتہ دنوں سندھ حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کو ضابطہ کار کے تحت گاڑیاں چلانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن چند ہی دنوں میں محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی سیکڑوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔اس حوالے سے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ کا کہنا تھاکہ ڈرائیورز، پبلک ٹرانسپورٹرز اور مسافر ضابطہ کار پر عمل نہیں کررہے جب کہ بسوں، کوچز اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ پر جرمانے کیے ہیں، اگر ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی روش برقرار رہی تو ٹرانسپورٹ بند کرنے کا سوچیں گے۔انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی اور انٹر ڈسڑکٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی برقرار ہے۔

عمران خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو کورونا وائرس سے متعلق قانون سازی کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا جبکہ طبی سامان کی تیاری کے لیے مشینری درآمد کرنے کا ریکارڈ اور تفصیلات بھی طلب کرلیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا حکومت نے تاحال کورونا سے تحفظ کی قانون سازی نہیں کی، قومی سطح پر قانون سازی کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا، ملک کے تمام ادارے کام کرسکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں، چین نے بھی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے، پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہوگا بلکہ قانون بننے اور اس پر عمل سے ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کورونا مثبت کیس آگئے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے، خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہوا تو تلافی نہیں ہوگی، طبی ورکرز کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ صرف جا کر معاوضے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت لوگوں کے بنیادی حقوق کی بات کررہی ہے، زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے، موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔انھوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ نہیں ہوگا، تحفظ قانون کے بننے اور اس پرعمل سے ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت سے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کی تجویز دوں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی کورونا وائرس کی حدت کو محسوس کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے، کورونا سے تحفظ کا حل قانون سازی ہے اور قانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہیدوران سماعت ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے ٹیسٹنگ صلاحیت 30 ہزار تک بڑھنے اور 100 لیبارٹریوں کے قیام کا تذکرہ کیا تو چیف جسٹس نے حیرانگی کا اظہار کیا اور ریمارکس دئیے کہ 30 ہزار ٹیسٹ تو نہ ہونے کے برابر ہیں، پاکستان کی آبادی 22 کروڑ کی ہے اور صرف 100 لیب ہیں۔ عدالت نے سرکاری اور نجی لیب سے ٹیسٹنگ کی تعداد بارے استفسار کیا تو ممبر لیگل ایڈ نے کہا یہ تفصیلات صرف وزارت صحت دے سکتی ہے۔چیف جسٹس نے ترکی سے سپرے کیلئے جہاز لینے بارے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں سپرے کے لئے جہاز لیز پر نہیں مل سکتا، کیا جہاز لیز پر لینے کے لئے ٹینڈر دیا گیا، نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا۔ عدالت نے ٹڈی دل سپرے کے لیے جہاز لیز پر لینے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

سپریم کورٹ

لاہور، اسلام آباد،کراچی، پشاور(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 3 ہزار 671 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں 65 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد اموات کی تعداد 2 ہزار 67 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 728 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 38 ہزار 903، سندھ میں 38 ہزار 108، خیبر پختونخوا میں 13 ہزار 487، بلوچستان میں 6 ہزار 516، گلگت بلتستان میں 932، اسلام آباد میں 5 ہزار 329 جبکہ آزاد کشمیر میں 396 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ملک بھر میں اب تک 7 لاکھ 5 ہزار 833 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 22 ہزار 650 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 34 ہزار 355 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 65 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 67 ہوگئی۔ سندھ میں 650، پنجاب میں 715، خیبر پختونخوا میں 575، اسلام آباد میں 52، گلگت بلتستان میں 13، بلوچستان میں 54 اور آزاد کشمیر میں 8 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔پوری دنیا میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 70لاکھ15ہزار128تک پہنچ گئی ہے، امریکہ 19 لاکھ 42ہزار363 مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ برازیل لاکھ91ہزار758مصدقہ کیسز کیساتھ دوسرے، روس 4لاکھ 67ہزار73 مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پرہے۔برطانیہ میں 2لاکھ 87ہزار621 مصدقہ کیسز ہیں، بھارت میں 2لاکھ 57 ہزار486 مصدقہ کیسز، سپین میں 2لاکھ41ہزار550مصدقہ کیسز اور اٹلی میں مصدقہ کیسز کی تعداد 2لاکھ34ہزار998تک پہنچ گئی ہے۔پیرو میں مصدقہ کیسز کی تعداد 1لاکھ 96ہزار515 اور فرانس میں مصدقہ کیسز کی تعداد 1لاکھ91ہزار102 تک پہنچ گئی ہے۔چین میں مصدقہ کیسز کی تعداد 84ہزار634ہوگئی ہے۔

کورونا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -