نوشہرہ،نجی تعلیمی اداروں کیلئے ایس او پیز تیار کیاجائے،قاضی فضل حکیم

نوشہرہ،نجی تعلیمی اداروں کیلئے ایس او پیز تیار کیاجائے،قاضی فضل حکیم

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) پرائیویٹ ایجو کیشن نیٹ ورک (پین) ضلع نوشہرہ نے حکومت کی طرف سے نجی تعلیمی اداروں کیلئے ایس او پیز تیارکرنے کیلئے الٹی میٹم دے دیا حکومت نے ہر مکتب فکر کیلئے ایس او پیز تیار کی ہے لیکن نجی تعلیمی اداروں کے لئے نہیں کیوں ہم اپنے مطالبات کے حق کیلئے پہلے مر حلے میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے اور اگر پھر بھی مسلہ حل نہ ہوا تو ضلع نوشہرہ میں تحصیل سطح پر اپنے سکولوں کے فرنیچر کو آگ لگا کر جلائیں گے جبکہ 15اور 16 جون کو ہونے والے پین کے صوبائی اجلاس میں آئیندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے ضلعی صدر قاضی فضل حکیم، عبداللہ، اختر نواز سمیت ضلع نوشہرہ بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان اور پرنسپلز نے نوشہرہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا قاضی فضل حکیم نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گذشتہ کئی ماہ سے نجی تعلیمی ادارے بند پڑے ہوئے ہیں اور نہ صرف طلبا و طا لبات کے قیمتی سال ضائع ہونے کا خطرہ لاحق ہے بلکہ انہی نجی تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے تعلیم یافتہ میل، فیمیل اساتذہ بھی بیروز گار ہو کر ملک میں بیروزگار ی کی شرح میں بھی 100%اضافہ ہو جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا میں ہر کسی کو ریلیف حاصل ہے لیکن بد قسمتی سے نجی سکول کے سربراہ اور استاد حکومتی ریلیف سے محروم ہے جو کہ ان کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ انہی نجی تعلیمی اداروں نے حکومت کے ساتھ ملک میں شرح خواندگی بڑھانے اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کو کنٹرول کرنے میں ساتھ دے کر مثال قائم کیا ہے لیکن ان کو اب یہ صلہ دیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت پی ایس آر اے کی ریکارڈ کے مطابق نجی سکولوں کے اساتذہ کو تنخواہوں اور سکولوں کے بجلی، ٹیلی فون، گیس بلز سمیت دیگر ٹیکسیز معاف کرکے ریلیف دیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے نجی سکولوں کے لئے ایس او پیز تیار نہ کئے تو ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، دوسرے مرحلے میں اپنے سکولوں کا فرنیچر جلائیں گے جبکہ اس کے بعد 15اور 16جون کو پرایؤیٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صوبائی صدر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں آئیندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -