پشاور میں کورونا کیخلاف حکومتی اقدامات صرف وعدوں تک محدود

پشاور میں کورونا کیخلاف حکومتی اقدامات صرف وعدوں تک محدود

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی حکومت کا کرونا کے خلاف اقدامات صرف دعووں تک محدود ہیں۔پی ڈی ایم اے کا کرونا کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کے نتائج کے ناقص نظام کی وجہ سے نتائج میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔پشاور پریس کلب میں سو سے زائد صحافیوں کی ٹیسٹ میں تقریباً تیس کے قریب کے نتائج موصول جبکہ باقی صحافیوں کی ریزلٹ چھ دن بعد بھی ابھی تک نہیں ملے جس سے صحافیوں اور اُنکے خاندان والوں کافی تشویش پائی جا رہی ہے۔متعلقہ صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ پشاور پریس کلب انتظامیہ اور محکمہ صحت فوری طور پر تمام ٹیسٹ کے ریزلٹ یقینی بنائے تاکہ ٹیسٹ کرنے والے صحافی ذہنی کشمکش سے نکل باہر نکل آئے۔ تفصیلات کے مطابق ایک میڈیکل ٹیم نے پشاور پریس کلب میں گزشتہ بدھ کے روز تین جون کو سو سے زائد صحافیوں کی کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس میں پریس کلب انتظامیہ کے مطابق تیس سے چالیس کے لگ بھگ ٹیسٹ کے ریزلٹ صحافیوں کو بذریعہ ایس ایم ایس موصول ہوئیں جبکہ باقی رہ جانے والے صحافیوں کو پریس کلب انتظامیہ نے اطلاع دی کہ وہ اپنے ریزلٹ 1700 پر کال کر کے موصول کر سکتے ہیں جس کے بعد صحافی روزانہ کے بنیاد پر کا لیں کر رہے ہیں لیکن پی ڈی ایم اے کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہورہی ہے ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اے کے کال سنٹر میں موجود اہلکاروں کے پاس مختلف اضلاع کے ڈی ایچ اوز آفس کا ڈیٹا ہے پریس کلب کا ڈیٹا نہیں ہے۔ جس کی وجہ ریزلٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس تاخیری حربوں کی وجہ سے پشاور پریس کلب کے صحافی برادری میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور ٹیسٹ کے نتائج کے سسٹم پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ریزلٹ سے ابھی تک محروم صحافیوں نے پریس کلب انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کو دیکھے اور چھ دن گزر جانے کے بعد بھی ریزلٹ موصو ل نہ ہونے کے وجوہات اور غفلت کے مرتکب افراد کو سامنے لائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -