اپوزیشن نے سند ھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرادی

اپوزیشن نے سند ھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرادی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ میں اپوزیشن جماعتوں نے ٹڈی دل کے معاملہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلیے ریکوزیشن جمع کرادی ہے۔ سندھ اسمبلی اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ دشمن جماعت ہے اور گزشتہ اسمبلی اجلاس بلانے کے معاملے پر اسپیکر اسمبلی آغا سراج درانی نے آئین سے انحراف کیا۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر کنور نوید جمیل نے کہا کہ اسمبلی اجلاس ختم ہوگیا لیکن۔ کورونا کے ٹیسٹ کی رپورٹ ابھی تک نہیں ملی، یہ حکومت کی سنجیدگی کا عالم ہے۔ پیر جو اپوزیشن رہنماں نے سیکرٹری اسمبلی کے کو اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی اور اجلاس کے لیے اپنے ایس بھی جمع کرائے۔ سندھ میں جعلی ڈومیسائل کے مسئلہ پر قرار بھی جمع کرائی۔قبل ازیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، ایم کیو ایم کے کنور نوید اور دیگر نے اسمبلی میڈیا کارنر پر صحافیوں سے گفتگو کی۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ میں ریکوزیشن جمع کرانے آئے ہیں۔اس پہلے دو مرتبہ اپوزیشن کی جانب سے ریکوزیشن جمع کرائی تھی۔حکومت کے بہت سے پروگرام سامنے نہیں ائے۔اس وقت کراچی میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض موجود ہیں۔ہم اس حوالے سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔جون میں بجٹ بھی آتا ہے۔قانونی نکات ہیں کہ پری بجٹ اجلاس بلایا جاتا ہے۔لاکھوں لوگوں کے نمائندے بجٹ پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔کراچی اور حیدر آباد کو ترقیاتی کاموں میں زیادہ تر نظر انداز کیا گیاہے۔کراچی میں زیادہ مریض اور زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ان کے پاس بہت سے بلڈنگیں موجود ہیں۔یہ چاہیں تو بہت جلد انتطامات کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس ختم۔ہوگیا ہے لیکن کورونا ٹیسٹ بکا ارزلٹ ابھی تک۔نہیں ملا یے۔یہ حکومت کی سنجیدگی ہے۔اگر اسمبلی ارکان کے ساتھ یہ رویہ ہے تو عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔کنور نوید جمیل نے کہا کہ ڈومیسائل کا مطلب پلیس آف برتھ ہے۔ڈومیسائل کو آپ تبدیل کرسکتے ہیں۔پرانا ڈومیسائل سرنڈر کرنا ہوگا۔پھر نیا ڈومیسائل جاری ہوگاسندھ کے شہری لوگوں کی لاکھوں نوکریوں سے محروم رکھا گیا۔ہم ریاستی اداروں کے پاس بھی گئے۔ہم عوامی نمائندے ہونے کے پاس یہی کر سکتے ہیں۔ہم وفاق کے پاس گئے تو انہوں نے نیب کو خط لکھا۔اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ وزیراعلی نے ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کی لیکن آئندہ کی حکمت عملی نہیں بناتی ہے۔کیا وہ لاک ڈان کریں گے کون سا لاک ڈان ہوگا۔آج کی ریکوزیشن اہم مسئلہ پر ہے۔18 ویں ترمیم کے وزیر ایگریکلچر کی کیا ذمہ داری ہے وہ کلئیر ہونی چاہیے۔سندھ حکومت ٹڈی دل کے حوالے سے کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے کہ نہیں۔سندھ حکومت کو اپنا لائحہ عمل پوری عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔ہم اس لیے اجلاس بلانا چاہتے ہیں۔رول نمبر 28 ہر اسمبلی کو 100 دن کم سے کم ملنا چاہیے۔اس وقت 14 دن شارٹ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلی سیشن ہو۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کورونا ایک مسئلہ ہے۔اسمبلی کے 168 ارکان ہے۔ڈیڑھ سو لوگوں بھی اگر آئیں تو باقی زوم پر ہوں۔بجٹ اجلاس ٹیکنالوجی کے استعمال کے زریعے ہونا چاہیے۔ہر کوارٹر پر بھی بات ہوتی ہے۔آڈٹ رپورٹ بھی پیش نہیں کی۔ڈومیسائل کے ایشو پر بہت سے محرکات ہیں۔سندھ کے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے۔یہ جو چوری ہوئی ہے اس کے پیچھے کون ہے اس کو بے نقاب کیا جائے۔اگر فیڈرل پبلک سروس کمیشن ہے تو اس کو کیوں نہیں پکڑا۔ہمیں کمیٹی قبول نہیں یے۔یہ انکوائری یا تو جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے یا آرکان کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس 14 روز میں بلایا جائے۔اسپیکر نے اپنی پاورکا غلط استعمال کیا۔اسپیکر آئین کی حلف برداری سے منحرف ہوئے ہیں۔پیپلزپارٹی سندھ دشمن جماعت ہے۔فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ زراعت صوبائی میٹر ہے۔عوام کی جو تکلیف ہے اس کی ترجمانی پر کرتا رہوں گا۔ایم کیو ایم اس حوالے سے کہاں کہاں گئے۔انہوں نے جعلی ڈومیسائل کا ایشو وفاق کی طرف گھمایا ہے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہاکہ جب تک ویکسین نہیں آئے گی کورونا کے ساتھ جینا ہے۔مجھے کہا گیا کہ آپ کی عمر 65 سال ہے اور آپ رسک کیوں لیتے ہیں۔ہم نے عوام کی خدمت کا عہد اٹھایا یے۔ہم عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -