کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے کاوشیں جاری لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ دراصل 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟ وہ بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے کاوشیں جاری لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ...
کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے کاوشیں جاری لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ دراصل 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟ وہ بات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کیلئے کاوشیں جاری لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ دراصل 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟ 

کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن   شایدبہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کو روکنے کاانحصار شاید وائرس  کے خلاف ویکسین کی تیاری پر ہے۔ لیکن ایسے میں  یہ بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ ویکسین سب سے پہلے تیار کیسے کی گئی؟

اس حوالے سے ماضی پر نظر دوڑائیں تو  سنہ ایک ہزار کے قریب چین میں چیچک کا اولین علاج دریافت ہوا۔ ان دنوں یہ مہلک مرض ہر تین میں سے ایک مریض کی جان لے لیتا تھا۔ اس مرض کے علاج کے لیے اس وقت کے طبیبوں نے چیچک کے زخم کا کھرنڈ پیسنا شروع کردیا  جو پیسے جانے کے بعد دوسرے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

آج بھی اسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے اس کھرنڈ کو پیس کر انفیکشن سےمحفوظ  لوگوں کے ناک میں اسے چڑھایاجاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے یہ امید کی جاتی ہے کہ  اس سے لوگوں میں چیچک کی شدت معتدل رہتی ہے اور انہیں دوبارہ یہ مرض لاحق نہیں ہوگا تاہم  ویریولیشن کے مطابق اس طریقہ علاج سے تیس میں سے ایک مریض ہلاک ہوجاتا ہے۔

1796میں ایڈورڈ جینر نے ثابت کیا کہ ویکسین محفوظ طریقہ علاج ہے،انہیں معلوم ہوا کہ دودھ دوہنے والی خواتین کو چیچک نہیں ہوتی کیونکہ انہیں مویشیوں سے چیچک کا ایسا ہی ایک وائرس لگ چکا ہوتا ہے۔ جینر نےایک خاتون کے چیچک کے زخم  کی پیپ لی جنہیں  ایک گائے سے وائرس  لگاتھا اور پھر اس پیپ سے ایک بچے کاعلاج کیا۔

اس آٹھ سالہ بچے کو معمولی بیمار ہوا تاہم ٹھیک رہا بعد میں جینر نے بچے میں انسانی چیچک کاوائرس داخل کیا لیکن بچہ قوت مدافعت پیدا کرچکا تھااور پھر اسے کبھی یہ بیماری نہ ہوئی۔ ویسے تو دوسروں نے بھی یہ طریقہ آزمایا تھا لیکن جینر اسے کامیاب ثابت کرنے والے پہلے شخص تھے اور ہزار سال پہلے شروع ہونے والے طریقہ علاج کو ثابت کر کے جدید ویکسی نیشن کی بنیاد رکھی جس سے کروڑوں جانیں بچائی گئیں۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -سائنس اور ٹیکنالوجی -