کورونا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اور اس کے نتائج،ہمیں اب کیا کرنا ہوگا؟

کورونا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اور اس کے نتائج،ہمیں اب کیا کرنا ہوگا؟
کورونا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ اور اس کے نتائج،ہمیں اب کیا کرنا ہوگا؟

  

پوری دنیا جو اس وقت حالت جنگ میں ہے ایک ایسی وباءسے لڑ رہی ہے، جس نے پوری دنیا کو زندگی کی ایک نئی جستجو میں ڈال دیا ہے،اب اس وبا ءسے بچنے کیلئے ہی نہیں بلکہ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے طریقے دریافت کیے جارے ہیں

لیکن اس کیلئے بھی تو زندہ رہنا ضروری ہے، جس تیزی سے یہ وبا ءپھیل رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا ایک بار ضرور اس سے متاثر ہو گی، جو بچ جائیں گے وہ چند ماہ بعد یا سال بعد اس سے متاثر ہونگے لیکن ہونگے ضرور، ضرورت اس امر کی ہے کہ خود کو محفوظ کیسے رکھا جائے اور اس مرض سے لڑا کیسے جائے؟

زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس جنگ میں اپنا اپناکلیدی کردار ادا کر دیا ہے اور ابھی بھی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں. چاہے وہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، میڈیکل سٹاف، نرسز، پولیس، حکومتی ادارے، سیاستدان، صحافی، اساتذہ یا ہماری ریاست سب نے اپنے اپنے حصے کی جنگ لڑ لی ہے لیکن نتائج ہمارے سامنے ہیں. ہم ملکر کی بھی اس کا مقابلہ کیوں نہیں کر پا رہے؟

اس مرض کی روک تھام کے لئے سب سے پہلا قدم جو دیگر ممالک میں بھی اٹھایا گیا مطلب لاک ڈاؤن کا فیصلہ، جس پر عملدرآمد بھی ہوا اور شاید کسی حد تک اس کو پھیلنے سے روکنے میں کارآمد بھی رہا لیکن اس کے برعکس ہونے والا ملکی معیشت کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اس کی مثال بھی نہیں ملتی. ایک طرف انسانی جانیں ہیں تو دوسری طرف ملکی معیشت جس کے بغیر بھی انسانی زندگی ممکن نہیں. کس کو بچایا جائے کسے داؤ پر لگایا جائے؟ فیصلہ کرنا اتنا ہی مشکل ہے، جیسے موت کے منہ سے نکلنا.

لاک ڈاؤن سے صرف کاروباری زندگی ہی متاثر نہیں، ہر شخص گھر کا ہر کفیل اس سے بری طرح متاثر ہوا، گھروں دو وقت کا کھانا کم پڑگیا، لیکن حکومت اور چند مخیر حضرات نے اپنی مدد آپ کے تحت بہت سے سفید پوش لوگوں کی مدد کی، گھر گھر راشن اور ضرورت کی اشیاءفراہم کیں لیکن اس سب کے باوجود ہمیں لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کا فیصلہ لینا پڑا اور انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا بہت بڑا رسک لینا پڑا، جس کے نتیجے میں آج ہمارا شمار متاثرہ ممالک کی فہرست میں بہت اوپر آگیا ہے.

ہم کیوں نہیں سمجھنا چاہتے کہ باقی ممالک کی طرح ہمارے ملک کے وسائل اتنے نہیں کہ ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کے ذریعے ہی اس سے بچایا جا سکے. کچھ ذمہ داریاں ہماری اپنی بھی ہونی چاہیئں جنہیں ہم شروع دن سے نظر انداز کرتے آرہے ہیں. دوسرے ممالک میں بھی لاک ڈاؤن لگےاور پھر تمام مارکیٹس یہاں تک کے تعلیمی ادارے بھی کھول دیے گئے کیونکہ انہیں  بحیثیت قوم اپنی تمام تر ذمہ داریوں کا احساس ہے اور وہ اپنی ریاست کے بتائے ہوئے تمام احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو پھر سے نارمل طریقے سے گزار رہے ہیں.

ہمیں بھی دوسروں پر تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے اندر اس احساس ذمہ داری کو اجاگر کریں، اپنے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد کے لوگوں کاخیال کریں، اپنی اس سر زمین پاک کو پھر سے مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر کیے جانے والے احکامات پر عمل کریں اور خود سے اس وباءکا مقابلہ کریں، اپنی ذہنی اور جسمانی نشوونما بہتر بنائیں، گھروں میں محصور رہیں بلا وجہ گھروں سے باہر نا نکلیں، اچھی خوراک کھائیں اپنے آپ پر توجہ دیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر اور کرونا سے پاک مستقبل کی نوید سنائیں.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -