پاکستان ایشیاءکپ 2020ءکی میزبانی سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو گیا مگر کیوں؟

پاکستان ایشیاءکپ 2020ءکی میزبانی سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو گیا مگر کیوں؟
پاکستان ایشیاءکپ 2020ءکی میزبانی سے دستبردار ہونے پر رضامند ہو گیا مگر کیوں؟

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی تجویز پر سری لنکا کیساتھ ایشیاءکپ کی میزبانی کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جس کے بعد رواں سال ایونٹ کی میزبانی سری لنکا کو مل سکتی ہے جبکہ پاکستان اگلے ایشیاءکپ کی میزبانی کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق ایشیاءکپ کرکٹ ٹورنامنٹ 2020ءکی میزبانی پاکستان کو کرنی ہے لیکن عالمگیر وباءکورونا وائرس کی وجہ سے اب تک ایونٹ کے وینیو اور شیڈول کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی جبکہ بھارت کے پاکستان آ کر نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان پہلے ہی دبئی یا کسی دوسرے وینیو پر ایونٹ کے انعقاد کا سوچ رہا تھا جو کہ اب کووڈ 19 کی وجہ سے اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اے سی سی ایگزیکٹو بورڈ کے گزشتہ روز منعقدہ اجلاس میں ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے ہی میزبانی کی تبادلے کی تجویز سامنے آئی اور اب ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی ایشیاءکپ کی میزبانی کا سری لنکا کرکٹ سے تبادلہ کرنے کیلئے رضا مند ہے جبکہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں، اس سے قبل اے سی سی نے اعلان کیا تھا کہ ایشیاءکپ کے انعقاد کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی رواں سال میزبانی کے تبادلے کیلئے رضا مند ہے جس کے باعث اس مرتبہ سری لنکا ایونٹ کی میزبانی کر سکتا ہے جبکہ پاکستان اگلے ایشیاءکپ کی میزبانی کر سکتا ہے جو کہ 2022ءمیں ہوگا تاہم یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ا سے ابھی ایک تجویز ہی قرار دیا گیا ہے جس پر دونوں بورڈز رضا مند ہیں لیکن حتمی فیصلہ اے سی سی کے اگلے اجلاس میں کیا جائے گا۔

پی سی بی ذرائع نے اس تجویز اور پی سی بی کی رضا مندی کی تصدیق کی ہے کیونکہ پی سی بی چاہتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کرکٹ کی سرگرمیاں ہونی چاہئیں، ان کا تسلسل ہونا چاہیے ، سری لنکا میں ایونٹ کرانے کی تجویز اس لئے سامنے آئی کیونکہ وہاں کووڈ 19 کے حوالے سے صورتحال تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔

سری لنکن میڈیا کے مطابق صدر سری لنکا کرکٹ شامی سلوا کا کا کہنا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل نے ایشیاءکپ سری لنکا میں کرانے کیلئے گرین سگنل دیدیا ہے، پی سی بی سے بات ہوئی ہے وہ بھی اس پر راضی ہیں ٹورنامنٹ کی میزبانی کیلئے حکومت سے اجازت طلب کریں گے اور پھر اجازت ملنے کے بعد میڈیکل آفیشلز کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کریں گے۔

مزید :

کھیل -