”سنتھیا ڈی رچی اسامہ بن لادن پر آپریشن سے ایک ہفتہ قبل ایبٹ آباد گئیں اور۔۔۔“صحافی نے حیران کن دعوی کردیا ،کہانی میں نیا موڑ آگیا

”سنتھیا ڈی رچی اسامہ بن لادن پر آپریشن سے ایک ہفتہ قبل ایبٹ آباد گئیں ...
”سنتھیا ڈی رچی اسامہ بن لادن پر آپریشن سے ایک ہفتہ قبل ایبٹ آباد گئیں اور۔۔۔“صحافی نے حیران کن دعوی کردیا ،کہانی میں نیا موڑ آگیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )صحافی باقر سجاد نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بلاگر سنتھیا رچی اسامہ بن لادن پر حملے سے ایک ہفتے قبل ایبٹ آباد گئیں ۔مائیکر وبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے سنتھیارچی کے حوالے سے آج ڈان اخبار میں شائع ہونے والے اپنی خبر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب میں سنتھیارچی کے ایبٹ آباد جانے سے متعلق خبر پر کام کر رہا ہوں ،سنتھیا رچی اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سے خفیہ طور پر ملتی رہی ہیں ۔باقر سجاد کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق سے کچھ زیادہ ہے،بہت جلد اس حوالے سے باقی معلومات بھی سامنے آئیں گی ۔

واضح رہے کہ آج ڈان اخبار میں ایک خبر شائع ہو نے والی خبر میں سجاد باقر نے لکھا تھا کہ پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف لگائے گئے الزامات سے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا تنازع اس وقت مبہم ہوگیا جب ان کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے خلاف ریپ کے الزامات لگائے گئے اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک قوم پرست تنظیم کی ’تحقیقات‘ کررہی تھیں۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کو ارسال کردہ خط میں سنتھیا رچی نے لکھا کہ وہ گزشتہ چند برسوں سے ”پاکستان کے قانون پر عمل کرنے والی رہائشی ہیں اور (فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے) پی ٹی ایم کی تحقیقات کررہی تھیں“ جس کے نتیجے میں ”پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی کی ریاست مخالف سرگرمیوں کے رابطے“ سامنے آئے تھے۔مذکورہ خط بظاہر سنتھیا رچی نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی اے میں بینظیر بھٹو کو بدنام کرنے کی شکایت پر وضاحت کے لیے لکھا۔

مزید :

قومی -