ریلوے کا افسوسناک حادثہ

ریلوے کا افسوسناک حادثہ

  

ڈہرکی کے قریب کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اُتر کر دوسرے ٹریک پر جا گریں،حادثے کے بعد مسافر ناگہانی سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ راولپنڈی سے کراچی جانے والی سر سید ایکسپریس دوسرے ٹریک پر آ گئی اور پہلے سے گری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔یہ حادثہ پیر کو علی الصباح 3بج کر 38منٹ پر پیش آیا، دو گھنٹے تک کوئی امدادی کارروائی شروع نہ ہو سکی، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو رکشوں اور ٹریکٹروں پر ہسپتال لے کر گئے، اس حادثے کے نتیجے میں 55مسافر جاں بحق اور150 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق کئی بوگیاں پٹڑی سے اُتر گئیں، جبکہ تین مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ ملت ایکسپریس میں 703 اور سر سید ایکسپریس میں 505 مسافر سوار تھے، جس وقت یہ قیامت خیز حادثہ ہوا دونوں گاڑیوں کے زیادہ تر مسافر سو رہے تھے، جاں بحق ہونے والوں کی میّتوں اور زخمی مسافروں کو اباڑو،ڈہرکی اور میرپور ماتھیلو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ مقامی افراد، پولیس، رینجرز اور فوج کے جوان امدادی کارروائیوں کے لئے موقع پر پہنچ گئے، ہسپتالوں میں سہولتیں نہ ہونے سے مسافروں کے علاج میں شدید مشکلات پیش آئیں، کئی زخمیوں کو شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان ریفر کیاگیا، ڈی ایس ریلوے کے مطابق حادثے میں اپ ٹریک کا1100 فٹ اور ڈاؤن ٹریک کا 300فٹ حصہ متاثر ہوا ہے، بوگیوں کو ہیوی مشینری سے کاٹ کر زخمیوں اور میّتوں کو نکالے کا کام رات گئے تک جاری رہا۔

یہ حادثہ کس کی غفلت یا نااہلی کی وجہ سے پیش آیا، اس کا تعین تو شفاف انکوائری کے نتیجے ہی میں ہو سکتا ہے،لیکن  ایک بلیم گیم ابھی سے بھرپور انداز میں شروع ہو گئی ہے،جس میں ہر کوئی اپنے آپ کو بری الذمہ اور دوسروں کو قصور وار ٹھہرانے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہا ہے۔یہاں تک کہ پوری توانائی اِس بات پر صرف کی جا رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس حادثے کا ملبہ بھی سابق حکومت پر ڈال دیا جائے،جس کا تین سال سے کاروبارِ حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں اور جس کے لیڈر اس عرصے میں قید و بند کی آزمائش سے دوچار ہیں،موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی شیخ رشید احمد کو اپنا پہلا وزیر ریلوے مقرر کیا تھا،جو  اس سے پہلے بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہی ذمے داری ادا کر چکے ہیں۔ خیال تھا کہ اُن کے تجربے کی روشنی میں ریلوے کے حالات بہتر ہو جائیں گے، لیکن شیخ صاحب کی  دلچسپی کے موضوعات ریلوے سے ماورا تھے،انہوں نے اپنی وزارت کے دوران جتنی بھی پریس کانفرنسیں کیں اُن میں زیادہ تروقت حکومت کے سیاسی مخالفین کو ہدف تنقید و ملامت بنانے پر صرف کیا،جن میں مخالفین پر پھبتیاں بھی کسی گئیں اور جگتوں کا سہارا بھی لیا گیا۔ظاہر ہے اس طرح تو ایک ایسا محکمہ درست نہیں ہو سکتا تھا،جس کی کوئی کل سیدھی نہ تھی اور حالات اتنے دگر گوں ہو گئے تھے کہ بوڑھے پنشنروں کو پنشن دینے کے لئے خزانے میں پیسے نہ تھے۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں ریلوے کی بہتری کا بیڑا خواجہ سعد رفیق نے اٹھایا تھا انہوں نے جس حالت میں اس محکمے کا چارج سنبھالا اور پھر اپنے دور کے خاتمے پر اسے جس شکل میں چھوڑا اُن کا دعویٰ ہے کہ اُس وقت کے حالات موجودہ دور سے بہت بہتر تھے،لیکن حکومت یہ ماننے کے لئے تیار نہیں اور فواد چودھری نے تو تازہ ٹرین حادثے کی ذمے داری بھی خواجہ سعد رفیق پر ڈالنے میں دیر نہیں لگائی،جہاں سنجیدگی کا یہ عالم ہو گا وہاں تصور کیا جا سکتا ہے کہ اصلاحِ احوال کا مشکل کام کون کرے گا؟ موجودہ وزیر ریلوے تو چند کے سوا باقی ساری ٹرینیں نجی شعبے کے سپرد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اس کا ایک فوری فائدہ تو یہ ہو گا کہ کسی حادثے کی صورت میں ریلوے ہر قسم کی ذمے داری ہی سے بری الذمہ ہو جائے گا اور جو کوئی کمپنی یا ادارہ ٹرین چلا رہا ہو گا سارا ملبہ اسی پر ڈالنے میں آسانی رہے گی،حالانکہ نجی شعبے میں ٹرین چلانے کا تجربہ پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے اور جن لوگوں کو یہ کام سونپا گیا تھا اب اُن کے خلاف واجبات کی ریکوری کے لئے مقدمے چل رہے ہیں۔

موجودہ حکومت نے ایم ایل وَن منصوبے کا ڈھنڈورا بڑی باقاعدگی سے پیٹا اور کسی عملی کام کے بغیر ہی ریلوے نے اس حوالے سے تشہیری مہم بھی شروع کر دی اور کمپیوٹر سے بنائی جانے والی ریل کی جدید ترین پٹڑی کی تصویریں دکھا کر یہ تاثر دیا گیا کہ بس یہ ٹریک بچھنے کی دیر ہے ریلوے کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے،حالانکہ اس منصوبے کی ابھی پہلی اینٹ تک نہیں رکھی گئی اور اب تو یہ اطلاعات ہیں کہ یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔ وزیر ریلوے نے کہا تھا کہ ریلوے کی بہتری کا اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں، ٹریک بچھے گا تو ٹرینوں کی رفتار 160کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی،لیکن یہ سب خواب و خواہش تھی، زمین پر کچھ نہیں تھا، محض اعلانات پر جائیں تو جنرل پرویز مشرف کے دور میں شیخ رشید نے بلٹ ٹرین چلانے کا بھی اعلان کر دیا تھا، کسی کو اعتبار نہ آئے تو اس دور کے اخبارات دیکھ لے یا میڈیا پر چلنے والے کلپوں کا دیدار کر لے۔

یہ تو اعلانات اور دعوؤں کی حقیقت ہے،حادثے کے متعلق ڈی ایس ریلوے سکھر کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اس ٹریک کی اصلاح کے لئے جو رقومات طلب کی تھیں وہ انہیں نہیں دی گئیں،انہوں نے چیف انجینئر ریلوے کو اُن کے 4جون کے خط کے جواب میں لکھا تھا کہ جتنے پیسے مانگے تھے وہ ملے نہیں، سو روپے کا کام ایک روپے میں نہیں ہوتا، یہ گڈے گڈی کا کھیل نہیں ہے، ہزاروں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں،۔چیف انجینئر نے اپنے خط میں ڈی ایس کو لکھا تھا کو آپ کو ٹریک کی مرمت کے لئے تمام وسائل فراہم کر دیئے گئے ہیں، اس خط اور جوابی خط کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ایک افسر وسائل فراہم کرنے کی بات کر رہا ہے اور دوسرا یہ موقف اختیار کر رہا ہے کہ یہ رقم تو ناکافی ہے، ایسے میں ٹریک کی مرمت کی طرف تو کسی کا دھیان ہی نہیں تھا،حادثے کا شکار ہونے والی ملت ایکسپریس کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کی بوگی کاکلمپ پہلے ہی ٹوٹا ہوا تھا، جس کا ریلوے حکام کو علم تھا اسی وجہ سے ٹرین لیٹ ہوئی اور کراچی کینٹ سٹیشن پر کھڑی رہی، تحقیقات کے بعد کون کس نتیجے پر پہنچتا ہے اس کا پتہ تو اُس وقت چلے گا جب تحقیقات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا،اور ماضی کی طرح چند دن کے شور شرابے کے بعد معاملے پر مٹی نہیں ڈال دی جائے گی،لیکن حکومت ریلوے کی بہتری میں کس حد تک سنجیدہ ہے اس کا اندازہ تو قومی اسمبلی میں کی جانے والی تقاریر اور حادثے کے بعد منظر عام پر آنے والے بیانات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ایسے میں بہتری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -