پولیو وائرس اور پاکستان 

پولیو وائرس اور پاکستان 
پولیو وائرس اور پاکستان 

  

صحت مند نسل اور لوگ ہی کسی بھی قوم کی ترقی کے ضامن اور اس کے محفوظ مستبقل کی ضمانت ہوتے ہیں۔اس لئے دور جدید میں بہت سے موزی وائرس پھیلے جن میں سے ایک پولیو وائرس ہے جو بچوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے اس لئے دنیا کی تقریبا سبھی اقوام نے اس پر کام کیا اس پر قابو پانے کیلئے ا نتھک کوششیں کی اور کامیابی بھی حاصل کی لیکن بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں یہ پولیو وائرس ابھی موجود ہے۔پاکستان کے علاوہ نائیجریا اور افغانستان میں یہ وائرس پنجے گاڑھے ہوئے جس پر باقی ساری دنیا نے قابو پا لیا ہے۔1994ء سے پاکستان میں پولیو وائرس کے خلاف کوششوں کے باعث 2004ء تک پاکستان کو کافی کامیابی حاصل ہوئی۔ 2004ء میں ملک میں صرف تیس کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث اس خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی تھی اور ایک ایسا وقت آیا کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ملک میں پانچ سال سے کم عمر چھ لاکھ بچوں تک پولیو ورکرز نہیں پہنچ پائے اور یوں ہر سال پولیو وائرس کے کیسز میں اضافہ شروع ہو گیا۔ پاکستان میں گزشتہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق 2020ء کے اختتام تک 38 اضلاع سے84 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورونا وبا کے باوجود 2019ء میں 147 کیسز کے مقابلے میں سال 2020ء میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے سال 2019ء میں 29 کیسز کے مقابلے میں 2020ء میں 56 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پولیو وائرس جسم کاایک وائرل انفیکشن ہے جو پیرالائیز اور سانس لینے میں مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔ پولیو کو کنٹرول کرنے کیلئے باقاعدہ بار بار مہم چلائی جاتی ہیں۔پاکستان کو پولیو فری بنانے کیلئے حکومتی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور اس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر بھی ہمیں ازبر ہوچکی ہیں عوامی سہولت کیلئے پولیو کے قطروں کی باآسانی ہر گھر تک فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

مزید سہولت کے لئے محکمہ صحت کی موبائل ٹیمیں بھی تشکیل دی جاتی ہیں جو گھر گھر جاکر پانچ سال تک کی عمر کے چھوٹے بچوں کو پولیو سے بچاؤکے حفاظتی قطرے پلاتی ہیں حکومت کی جانب سے ان تمام اقدامات کے باوجود بعض لوگ اپنی ناقص معلومات کی بنیاد پر اپنے بچوں کو  قطرے پلانے سے انکاری ہوجاتے ہیں ان کا یہ عمل معصوم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے دو چار کرسکتا ہے۔انسداد پولیو مرکز کے مطابق اس موذی وائرس کی باقیات پاکستان کے تین مختلف علاقوں میں اب بھی موجود ہیں جن میں کراچی اور کوئٹہ سمیت خیبر پختونخوا کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ تاہم ان علاقوں کے علاوہ بھی پاکستان کے دیگر علاقوں میں اس موذی وائرس کے پھیلنے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے پولیو کے تدارک کی مہم کو یقینی بنانے پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے اور پولیو وائرس کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے تمام بچوں کی پولیو ویکسی نیشن کرانا اس لیے بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہر وہ بچہ جو پولیو کے قطرے پینے یا پولیو سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ لگوانے سے محروم رہ جائے گا وہ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان میں پولیو کے تدارک کے لیے جدوجہد کرنا صرف حکومت پاکستان کا فرض نہیں اس کے ساتھ والدین، مقامی عمائدین، مذہبی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موذی مرض کو پاکستان سے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

کیوں کہ ہم نے اکثر دیکھا اور سنا بھی ہے لوگ پولیو وائرس کی دواؤں کو پینے سے بچنے کیلئے مذہبی حوالے دیتے ہیں اور اس میں سازشی تھیوریاں بھی ڈھونڈی جاتی ہیں کہ پولیو وائرس کے قطرے پینے سے بچوں میں دیگر بیماریاں پیدا ہو جائیں گی اور منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر اور علما واضح کر چکے ہیں کہ پولیو ویکسین ایک محفوظ ویکسین ہے یہ کسی غیر ملکی، غیر اسلامی طاغوتی،استحصالی اور سامراجی طاقتوں کا ایجنڈہ نہیں ہے جو پاکستان کی آبادی کو کم کرنا چاہتے ہیں اورنہ ہی اس میں منصوبہ بندی کے حوالے سے کیمیائی مادے شامل ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو باقی مسلم ممالک میں یہ پولیو وائرس کی دوا اپنا رنگ دکھا چکی ہوتی لیکن بد قسمتی سے صرف پاکستان،نائیجریا اور افغانستان ہی ایسے تین ممالک رہ گئے ہیں جہاں یہ وائرس موجود ہے۔ پاکستان کے لوگوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ہی رواں سال اب تک 65 کیسز ریکارڈ کئے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ شدت پسندوں کی جانب سے پولیو ورکرز پر حملے بھی اس وائرس کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ ورکرز جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشوار گزار علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے جاتے ہیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری ہر شہری کا فرض ہے۔پاکستان میں پہلے ہی صحت کے بہت مسائل ہیں۔ ملک کے کئی علاقوں میں صاف پانی میسر نہیں ہے اور بچوں کی تقریبانصف آبادی  غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے لوگ پاکستان آتے ہیں اور بعض کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ افغانستان سے یہ وائرس پاکستان آیا جس کی وجہ سے اس کے تدارک میں بار بار رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موذی مرض کے خلاف ہر طبقہ فکر کو  متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہئے تاکہ پاکستان میں آنے والی نسلیں پولیو سے پاک اور محفوظ ہو سکیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -