مثالیں دینے والوں میں سے استعفا کسی نے نہ دیا

مثالیں دینے والوں میں سے استعفا کسی نے نہ دیا
مثالیں دینے والوں میں سے استعفا کسی نے نہ دیا

  

ٹرک کا اپنا شور ہی کچھ کم نہیں ہوتا اس پر ڈرائیور حضرات ٹرک کے پیچھے اوپر سے نیچے کی طرف لمبی لمبی زنجیریں لگا دیتے ہیں جب ٹرک چلتا ہے تو وہ زنجیریں آپس میں بج کر اسکے شور میں اور بھی اضافہ کرتی ہیں ڈرائیور حضرات کے لئے شائد وہ شور کسی جلترنگ سے کم نہیں ہوتا۔ ایسے ہی چھوٹے شہروں یا قصبات دیہات میں چلنے والے ٹریکٹر ٹرالیوں پر ڈرائیور اونچی آواز میں میوزک لگا دیتے ہیں حالانکہ ایک تو ٹریکٹر کا شور اور اس پر میوزک!ستم بالائے ستم ہے۔اگرچہ ٹریکٹر کے شور میں ڈرائیور صاحبان کو خود وہ میوزک سنائی نہیں دیتا لیکن وہ اپنی  طمانیت یا پھر شور میں اضافے کے لیے ایسا کرتے ہیں پھر لوکل بسوں میں سفر کیجئے ہر مسافر ایک دوسرے سے بات چیت کرتا دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی بہت اہم مسئلہ موضوع بحث ہو۔اور اگر کوئی اکیلا محو سفر ہے تو وہ موبائل فون پر دوسروں کو اذیت پہنچانے کی ہر ممکن سعی کررہا ہوتا ہے۔سڑکوں یا گلی محلوں سے گذرتے ہوئے دولوگ بھی آپس میں یوں گفتگو کر تے چلے جارہے ہوتے ہیں جیسے وہ کوئی بہت ضروری بات کررہے ہیں ایسے ہی ہم شور کو بڑھانے کے لیے غیر ضروری موضوعات اور کام بھی نہیں چھوڑتے جیسے ہماری سیاسی جماعتوں کے رہنما ٹاک شوز میں بیٹھے اصل بات کو کہیں پیچھے چھوڑ کر فضول باتوں کو طول دے رہے ہوتے ہیں جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ وہ  میزبان کے بلانے کا مقصد  بھی فراموش کر دیتے ہیں۔

ہمارے حکمرانوں کو جو کہنا اور کرنا چاہئے وہ کرتے نہیں اور جو نہیں کرنا یا کہنا چاہئے اس پر وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگائے رہتے ہیں مثلا اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ انصاف کا ہے اور یہاں لوگ انصاف کے لئے عمریں گذاردیتے ہیں لیکن انصاف نہیں ملتا، البتہ انصاف کے نام پر ہم شور ضرور مچاتے ہیں ایسے ہی  تھانے ہیں جہاں سائل کی داد ر سی تو نہیں ہو تی لیکن تھانے میں چکر لگوا لگوا کر اس کا بھرکس نکال دیا جاتا ہے اور وہ پھر کبھی تھانے کی راہ پر نہیں چلتا چاہے اسکے ساتھ کیسا ہی ظلم کیوں نہ ہو تھانے آج بھی دہشت کی علامت سمجھے جاتے ہیں کوئی مدعی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو بس پولیس والوں کی دلی مراد پوری ہوئی مدعی کو داد رسی کے نام پر وہ تجربہ ہوتا ہے کہ توبہ توبہ خداخدا کیجئے حالانکہ جناب عمران خان نے پولیس ریفارمز کا ذکر بہت کیا تھا لیکن  بقول غالب در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا۔جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا۔ اپنی باتوں سے پھر جانا ہمارے وزیراعظم کی شائد فطرت ثانیہ یا محبوب مشغلہ ہے اور ا ب ان وعدوں کا ذکر ہی کیا جو جناب عمران خان قوم سے کر کے مسند نشیں ہوئے قوم تحریک انصاف کی حکومت کے تقریبا تین سالوں میں یہ تو جان ہی گئی ہے کہ پہلے کی طرح اس بار بھی اسکے ساتھ دھوکہ ہوا ہے پہلے بھی کئی حکمران بلند و بانگ دعووں اور ہمالیہ سے اونچے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے اور اپنا الو سیدھا کرکے چلتے بنے۔ اب عمران خان صاحب جو اقتدار کے پہلے تین مہینوں میں کیسے کیسے وعدوں کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے اور  پھر ان کے وعدے مہینوں سے سالوں کا سفر کرکے یہاں تک آ پہنچے ہیں اور اب یہاں سے جناب خان صاحب کئی سال کی مسافت کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ملکی حالات ٹھیک کرنے میں اور کچھ سال درکار ہیں حالانکہ ملک کے سیاستدا ن ملکی حالات ٹھیک کرنے کی بات نہ کریں توشائدحالات ٹھیک ہو جائیں،حالات ٹھیک کرنے کے نام پر سیاستدان ملک پر حکمرانی کرتے ہیں اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے یہ ملکی حالات کو ٹھیک کرنے کا شور کرتے ہیں اتنا شور کرتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی بس اسی شور میں سیاستدان اپنا کام نکال کر نکل لیتے ہیں عوام دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں اور سیاستدانوں کو اپنے عرصہ اقتدار میں عوام کے لئے کچھ نہ کرنے کا ملال بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی لچھے دار باتوں سے عوام کو یہاں تک قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ انہیں انکے دور میں اپوزیشن نے کچھ کرنے نہیں دیا یا حالات ہی کچھ ایسے درپیش تھے کہ وہ کچھ کر نہ سکے ورنہ نہ جانے وہ کیا کیا کر گذرتے اور اب انہیں موقع ملا تو وہ عوام کے لئے بہت کچھ کریں گے ہمارے سیاستدانوں نے عوام کو سیاست کے ایسے گرداب میں پھنسا دیا ہے کہ عوام کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی جاتی رہی ہے ملک میں مہنگائی بے روزگاری لاقانونیت اپنے عروج پر ہے اور حکمران نہ جانے حالات کے بہتر ہونے کی بات کیسے کرتے ہیں ڈہرکی ٹرین حادثہ میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان بحق ہوگئے۔  ٹی وی چینلز پر اس حادثے میں جان سے جانے والے بچے کا فیڈر دکھایا گیا تو آنکھیں جیسے گھائل ہوگئیں حالانکہ اس حادثے میں ساٹھ کے قریب جان بحق اور سو سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں اب حکمرانوں کی اس بے حسی پر کیا کہئے کہ جناب شیخ رشید تو ٹرین حادثوں سے ترقی پا کر وزیر داخلہ بن گئے دیکھئے اب اعظم سواتی صاحب اس حادثے کے بعد کیا گل کھلاتے  ہیں کہ تحریک انصاف کے حکمران تو اس حادثے کا ذمہ دار بھی پچھلی حکومتوں کو ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ چیف انجینئر ریلوے ہیڈ کوارٹر نے4 جون کو ایک مراسلہ لکھاتھا، جس میں انہوں نے حادثے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اس کے باوجود تغافل سے کام لیا گیا اور حادثہ رونما ہوگیا ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان کہا کرتے تھے کہ دوسرے ممالک کے وزیراعظم کشتی ڈوبنے پر مستعفی ہو جاتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے ان تین سالوں میں عوام کے کتنے ہی سفینے حالات کی طغیانیوں کی نذر ہو کررہ گئے، لیکن وزیراعظم صاحب کو آج دوسرے ممالک کے کشتی ڈوبنے پر مستعفی ہونے والے وزیراعظم کی اپنی کہی بات یاد نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -