ڈھرکی ٹرین حادثہ ……ذمہ دار کون؟

 ڈھرکی ٹرین حادثہ ……ذمہ دار کون؟
 ڈھرکی ٹرین حادثہ ……ذمہ دار کون؟

  

ریل کے اندوہناک حادثے کے بعد وزیر ریلوے اعظم سواتی کا بیان بڑا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے استعفیٰ دینے سے اگر جانیں واپس آ جائیں تو میں آج ہی استعفیٰ دے دیتا ہوں۔وزیر ریلوے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں کہ میرے دور میں پہلے بھی حادثہ ہوا تھا۔ اٹھارہ افراد کو سزا دی گئی تھی۔ اگر سزا ذمہ داروں کو دی ہوتی تو آج اتنا بڑا حادثہ دوبارہ نہ ہوتا۔وزیر ریلوے کی بات پر مجھے افسوس ہوا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور وہ ذمہ داری تک قبول نہیں کر رہے ہیں۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ ریلوے اب غیر ذمہ دار انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے کل کچھ بھی ہوسکتا ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں آٹھ حادثے ہو چکے ہیں۔ وزیر ریلوے اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ سزا جانوں کا نعم البدل نہیں ہے جناب انہیں سزا دے کر ریلوے کا سسٹم ٹھیک کر کے باقی جانوں کو تو بچایا جا سکتا ہے۔اگر صحیح ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا دی ہوتی تو پھر ایک کے بعد دوسرا حادثہ نہ ہوتا۔ چھوٹے ملازمین سزاؤں کی زد میں آ جاتے ہیں اور بڑے بڑے بچ جاتے ہیں۔

اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈال لیتے ہیں۔ آپ چیئر مین ریلوے حبیب الرحمن کی اس بات سے اندازہ لگائیں کہ انہوں نے کہا کہ وزیر ریلوے کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ سکھر ڈویژن کا ٹریک کمزور ہے اس پر کام شروع کیا جائے کیونکہ یہاں حادثے بار بار ہورہے تھے اور ساتھ ہی چیئر مین ریلوے نے بھی یہ فرما دیا کہ ایم ایل ون سے پہلے بڑی سرمایہ کاری کرنا ممکن نہیں ہے اگر آج ہم کروڑوں خرچ کردینگے تو ایم ایل ون کے وقت دوبارہ رقم خرچ کرنا پڑے گی۔ میں چیئر مین ریلوے سے پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستانی عوام سے کروڑوں روپے زیادہ عزیز ہیں؟ یہ پیسہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہوتا ہے،ہم ان پر خرچ نہیں کریں گے تو کس پر خرچ کریں گے؟ کیا ہم اسی طرح لوگوں کی جانوں سے کھیلتے رہیں گے،ہم اے سی والے بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلہ تو کر لیتے ہیں باہر نکل کر نہیں دیکھتے۔وزیر ریلوے اعظم سواتی اور چیئر مین ریلوے کو ذمہ داری قبول کرکے فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے، کیونکہ ان کو پتہ تھا  ڈھرکی ریلوے ٹریک کی مرمت کی فوری ضرورت ہے اور انہیں ٹریک کی خرابی کا بھی علم تھا تو ٹرینیں چلا کر کیوں اتنا بڑا خطرہ مول لیا گیا۔ چیئرمین ریلوے اور وزیر ریلوے سزا کے مستحق ہیں۔فیصلہ حکومت وقت نے کرنا ہے۔

پاکستان کے تمام اداروں میں بہتری لائی جا سکتی ہے اگر وزیر اعظم پاکستان عمران خان ایگزیکٹو آرڈر جاری کریں کہ وزراء اور منتخب نمائندے اور ان کے اہل خانہ ریلوے میں سفر کریں اور سرکاری سکولوں، کالجوں میں پڑھیں اورسرکاری ہسپتالوں میں علاج کروائیں۔حادثے میں زخمی مردوں، عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار نے آسمان کو ہلا کر  رکھ دیا۔ یہ قیامت صغریٰ کا منظر تھا لیکن حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ لگتا ہے یہ ان کے لئے معمولی بات ہے اور یہ ذمہ داری پچھلی حکومتوں پر ڈال کر بری الزمہ ہوجاتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ان تین برسوں میں بہت کچھ بہتری کی جا سکتی تھی۔ 

دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی مناسب ایکشن نہیں لیا گیاکہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام ہوسکے اور حادثے کے ذمہ داران کو کیسے کیفرکردار تک پہنچانا ہے الٹا اس پر حکومتی وزرا نے سیاست شروع کردی ہے وزیر اطلاعات و نشریات فرماتے ہیں کہ سعد رفیق کے گناہوں پر اعظم سواتی کیسے استعفیٰ دیں۔پھر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ اپنے تین سال کے گناہ بھی آپ سابق حکومت کے گلے میں ڈال دیں۔ کا م کرنے کے بجائے شور شرابا کریں۔ موجودہ حکومت کے تین سالوں میں آٹھ حادثات یہ ثابت کرتے ہیں کہ حکومت ریلوے کی بہتری کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ قیمتی جانوں کے ضیاع پر ملک کے عوام ا فسردہ ہیں ٹرین حادثہ کی اعلی سطح پر انکوائری کی جائے اور اس حادثہ کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے،ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اس انکوائری کو بھی پہلے کی طرح ہونے والی انکوائریوں کی طرح نہ نمٹایا جائے بلکہ صاف و شفاف انکوائری کمیشن بنایا جائے، ذمہ داران کو بے نقاب نہیں کیا گیا تو چند ماہ بعد حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کی طرح اسے بھی داخل دفتر کر دیا جائے گا۔ معاشرہ وہی ترقی کرتا ہے جس کے فرد سے ہونے والی غلطی وہ فرد خود تسلیم کر لیتا ہے نہ کہ اپنی غلطی کا بوجھ کسی اور پر ڈالتا ہے۔ہمیں اخلاقی جرأت پیدا کرنا ہو گی وزیر ریلوے اور چیئرمین ریلوے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں۔

مزید :

رائے -کالم -