ایک اور حادثہ، ایک اور سانحہ 

ایک اور حادثہ، ایک اور سانحہ 
ایک اور حادثہ، ایک اور سانحہ 

  

ریلوے حادثات پر اب ذمہ داری قبول کرنے کا کوئی رواج باقی نہیں رہا اس بار تو کمال ہی ہو گیا موجودہ حکومت کے وزراء بڑی ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ ریلوے کا حال تو مسلم لیگ (ن) نے خراب کیا ہے، وزیر ریلوے اس حادثے کی ذمہ داری کیوں قبول کریں، کیوں استعفےٰ دیں۔ پچاس سے زائد جانیں لقمہئ اجل بن گئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے، مگر حادثے پر سیاست ہو رہی ہے۔ سیاست بھی ایسی کہ جس پر گھن آتی ہے۔ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے حادثہ آج ہوا ہے ذمہ دار جانے والے حکمران ہیں اگر اسی طرح ہر بات کی ذمہ داری ماضی کے حکمرانوں پر ڈالنی ہے تو آپ کس خوشی میں حکومت کے مزے لوٹ رہے ہیں، شیخ رشید احمد کے دورِ وزارت میں پے در پے حادثے ہوئے مجال ہے انہوں نے ایک بار بھی ذمہ داری قبول کی ہو وہ طوطا مینا کی کہانیاں ہی سناتے رہے، اب اعظم سواتی وفاقی وزیر ریلوے ہیں، انہوں نے چند روز پہلے ہی یہ خوشخبری سنائی تھی کہ ریلوے کو ترقی یافتہ بنا دیا جائے گا، ریلوے کا سفر سب سے محفوظ ہوگا۔ اس بیان کی گونج ابھی موجود تھی کہ یہ حادثہ ہو گیا۔

گھوٹکی کے حادثے کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے جسے اپوزیشن نے بھی قومی اسمبلی میں اٹھایا ہے کہ ریلوے لائن کا نقص سامنے آنے کے باوجود انسپکٹر ریلوے کی رپورٹ پر اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے افسران نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ادھر مسافروں کا کہنا ہے ملت ایکسپریس کی ایک بوگی کا ہک خراب تھا، اسے درست کرنے کی بجائے ٹرین کراچی سے روانہ کر دی گئی۔ جس کی بوگی پٹڑی سے اتری تو دوسرے ٹریک پر آنے والی سرسید ایکسپریس اس کی گری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی، یوں یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا اب اس بارے میں کوئی کیا تاویل پیش کر سکتا ہے۔ یہ تو صریحاً مجرمانہ غفلت اور ریلوے افسران کی نا اہلی نظر آتی ہے سب دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے چند برسوں سے ریلوے کا سفر انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے ایک کے بعد ایک حادثہ رونما ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک غفلت و نا اہلی سامنے آتی ہے۔ عمران خان پچھلے دورِ حکومت میں ریلوے حادثات پر غیر ملکی حکمرانوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہتے تھے وہاں حکمران ایسے حادثات پر مستعفی ہو جاتے ہیں اب ان کی حکومت میں درجن بھر سے زائد سنگین حادثات ہو چکے ہیں مگر انہوں نے خود ایسا کیا اور نہ اپنے وزیر ریلوے کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔

صاف نظر آ رہا ہے ریلوے کی وزارت میں اوپر سے نیچے تک جوابدہی کا کوئی نظام موجود نہیں سیاست نے اس اہم محکمے کو تباہ کر دیا ہے۔ اس میں ٹریڈ یونین ازم بھی اس کی خرابی کا ایک بڑا سبب ہے۔ افسروں کو یونین لیڈر بلیک میل کرتے ہیں اور کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دیتے۔ سب سے زیادہ کرپشن اور خرابی مینٹیننس کے شعبے میں ہے۔ جس کا کام ٹریک اور بوگیوں نیز انجنوں کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ ٹریک پر ریلوے کا دارومدار ہے۔ اگر ٹریک میں خرابی ہے تو حادثے کو رونما ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اندرون سندھ کا ریلوے ٹریک سب سے خستہ حال ہے تو کیا یہ بات کہہ کر جان چھڑائی جا سکتی ہے؟ ملک کی تمام ٹرینیں اس خستہ حال ٹریک سے گزرتی ہیں، کیونکہ کراچی کو باقی ملک سے ملانے کی ریلوے گزر گاہ یہی ہے۔ اس ٹریک پر اب تک کتنے جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں کیا اسے اللہ کی رضا سمجھ کے قبول کیا جا سکتا ہے یا اس میں انسانی کوتاہی کا بھی کوئی عمل دخل ہے۔ سوال یہ ہے اس ٹریک کی مرمت کے لئے وفاقی حکومت فنڈز کیوں مختص نہیں کرتی۔ سڑکیں بنانے پر زور ہے، ریلوے کے ٹریک کو محفوظ بنانے پر کوئی توجہ کیوں نہیں حالانکہ ریلوے ٹرینوں پر مسافروں کی تعداد بس یا عام سواری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے مثلاً ان دونوں بد قسمت ٹرینوں میں مسافروں کی تعداد ایک ہزار دو سو انہتر تھی۔ جس شدت کا یہ حادثہ ہے اس کے مقابلے میں انسانی جانوں کا ضیاع اللہ کی کرم نوازی سے کم ہوا ہے۔ وگرنہ شاید ہم 1990ء میں ہونے والے سانگی حادثے کو بھول جاتے۔

وزیر اعظم نے حسبِ روایت اس حادثے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔ یہ انکوائری کہیں کاغذوں میں ہوتی رہے گی اور بالآخر گم ہو جائے گی کسی کو کوئی سزا ملے گی اور نہ ہی صورتِ احوال میں کوئی بہتری آئے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے وزیر اعظم اعلیٰ سطحی ایک کمیٹی تشکیل دیں جس کے ذمے یہ کام لگایا جائے کہ وہ ریلوے ٹریک، اس کی بوگیوں، انجنوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے بارے میں فرانزک آؤٹ کرے۔ اس میں ہر نوع کے ماہرین شامل ہوں اور اسے ریلوے کی وزارت سے آزاد رکھا جائے تاکہ صحیح معنوں میں ریلوے کی حالت کے بارے ایک رپورٹ مرتب کی جا سکے۔ ریلوے کا وزیر اس محکمے کو کیسے ٹھیک کر سکتا ہے۔ اسے اس کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ گھاگ ریلوے افسران کی شاطر چالوں سے نمٹنے کا ملکہ۔ اعظم سواتی کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا ہے تو وہ صرف نچلے درجے کے ملازمین کی پنشن اور تنخواہوں کا حساب کتاب ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ان تکنیکی باتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جو ریلوے کے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ انہیں تو ریلوے کے مہا کاریگر افسران جو رپورٹ پیش کرتے ہیں، وہ اسی پر بے چوں و چرا عمل کرتے ہیں آپ ریلوے پر تگڑے سے تگڑا وزیر بٹھا دیں۔ وہ کچھ نہیں کر پائے گا کیونکہ اس محکمے کی اصل صورت حال تو کبھی سامنے آتی نہیں، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایک اعلیٰ سطحی با اختیار کمیٹی بنا کر ریلوے کا فرانزک آڈٹ کرائیں۔ ٹریک کی صورتِ حال جاننے کے لئے اس کمیٹی کو خصوصی ٹاسک دیں تاکہ اسے ہر لحاظ سے فول پروف بنایا جا سکے۔

ہر بڑے حادثے کی طرح یہ حادثہ بھی اپنے پیچھے درد و الم کی بے شمار کہانیاں چھوڑ گیا ہے میں ابھی تک ایک ویڈیو دیکھ کے سنبھل نہیں پایا ہوں۔ یہ ویڈیو گڑھا موڑ ملتان کے ایک شخص انور خان نے اپنے موبائل سے بنائی۔ بوگی میں بالائی سیٹ پر اس کے دو نواسے اور ایک نواسی بیٹھی ہے اور وہ اپنی بیٹی کے ساتھ نچلی سیٹ پر بیٹھے بچوں کی ویڈیو بنا رہے ہیں، اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔ یہ ویڈیو انہوں نے کراچی سے چلتے ہوئے بنائی اور واٹس اپ پر گڑھا موڑ واقع اپنے گھر والوں کو بھیجی۔ تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ بچے اپنی نانی کے پاس جاتے ہوئے کتنے خوش ہیں اسے کیا معلوم تھا کہ یہ ویڈیو ان کی زندگی کے آخری لمحات کی گواہی ثابت ہو گی۔ حادثہ ہوا تو یہ پانچوں اس کی نذر ہو گئے۔ ان کے وہ خوبصورت جسم جن میں ہنستی مسکراتی روحیں تھیں اس حادثے نے مسخ کر دیئے اب اس دکھ کی شدت کو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو کبھی اس جانکاہ صورتِ حال سے گزرا ہو۔ 51 مسافر جاں بحق ہوئے اور ہر شخص کی کہانی ایک ہی جیسی دکھ دینے والی ہو گی۔ سب اپنی اپنی امیدیں اور حسرتیں لے کر عازم سفر ہوئے ہوں گے، جو اچانک زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ کاش مسافروں کو کبھی حادثہ پیش نہ آئے۔ وہ تو دنیا سے گزر جاتے ہیں مگر ان کی راہ دیکھنے والی آنکھیں پھر ساری زندگی دروازے پر ٹکی رہتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -