نیب لاہور نے 21 سال میں 110 ارب روپے کی ریکوری کی 

نیب لاہور نے 21 سال میں 110 ارب روپے کی ریکوری کی 

  

لاہور(خبرنگار) قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے اپنے 21 سالہ دور میں اب تک مجموعی طور پر 110 ارب روپے کی ریکوری کر لی۔ 1999 سے لے کر اب تک نیب نے وفاقی اورصوبائی محکموں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ریکوری کی۔ نیب کی موجودہ قیادت کے 2017 سے لے کر اب تک4سالہ دور مجموعی طور پر 70 ارب 85 کروڑ کی ریکارڈ ریکوری کی گئی، پنجاب حکومت کو مختلف مقدمات میں ایک ارب 72 کروڑ کی ریکوری کروائی گئی۔ نیب لاہور کی جانب سے 21 سال کے دوران PB, VR اور ان ڈائریکٹ ریکوری کی مد میں شاندار کارکردگی پر مشتمل رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے کی گئی ریکوری نیب قانون کی شق  a 25 (VR یعنی رضاکارانہ واپسی اور 25 (b) یعنی پلی بارگین کے تحت سر انجام دی جاتی رہی ہے۔ نیب نے 21سالہ دور میں وفاقی سطح پر 28 اداروں کو 6 ارب 75 کروڑ جبکہ صوبائی سطح پر 32 مختلف محکمہ جات کو 102 ارب 76 کروڑ کی ریکوری کروائی ہے۔ 10 ارب 12 کروڑ سے زائد رضاکارانہ واپسی (VR) کے تحت ریکور کروائے گئے ہیں۔پلی بارگین کی مد میں ساڑھے 15 ارب سے زائد کی ریکوری کی گئی۔ 1999 سے تاحال ان ڈائریکٹ ریکوری کی صورت میں 83 ارب 83 کروڑ ریکور کئے جا چکے ہیں۔ جس میں نیب لاہور کی جانب سے10 ارب والنٹری ریٹرن کی صورت میں برآمد کروائے گئے ہیں۔ اسی طرح 5 ارب 43 کروڑ پلی بارگین کی صورت میں ریکور کئے گئے۔ ان ڈائریکٹ ریکوری میں 23ارب 17 کروڑ ریکور کئے گئے۔پچھلے 17 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 38 ارب 73 کروڑ کی ریکوری کروائی جا سکی۔دو سالہ دور میں مجموعی طور پر 70 ارب 85 کروڑ کی ریکارڈ ریکوری کی گئی۔ اس حوالے سے ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ نیب بلاتفریق احتساب کی پالیسی پر گامزن ہے۔میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جارہا ہے۔ ترجمان نیب کا مزید کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی خصوصی ہدایات پر نیب میں جاری مقدمات کو میرٹ پر بنیاد پر نمٹایا جا رہا ہے اور میگا کرپشن کے متاثرین کو ترجیحی بنیادوں پر میرٹ پر ریکوریاں کروائی جا رہی ہیں۔

نیب لاہور

مزید :

صفحہ آخر -