حکومت ریلوے حادثہ پر شرمندہ ہونے کی بجائے سیاست کررہی ہے: احسن اقبال 

  حکومت ریلوے حادثہ پر شرمندہ ہونے کی بجائے سیاست کررہی ہے: احسن اقبال 

  

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ریلوے حادثہ پر شرمندہ ہونے کے بجائے سیاست کررہی ہے، ریلوے کو فنڈ نہ دے کر حکومت نے نااہلی، ناکامی کا مظاہرہ کیا،اگر ٹریک پر مسئلہ تھا تو ٹرین کی رفتار آہستہ رکھی جاتی ہے،خراب ٹریک سے ریل کی سپیڈ کو کم کر کے گزرا جاتا ہے،پچھلی حکومتوں پر ذمہ داری ڈال کر آپ بری الزمہ نہیں ہو سکتے، منگل کوپارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں ایم ایل ون منصوبے پر باقاعدہ چین کے ساتھ فریم ورک ایگریمنٹ ہو گیا تھا،2018میں اسکی ٹیکنیکل سٹڈی بھی مکمل ہو چکی تھی،اسی سال منصوبہ شروع ہو کر 2022میں مکمل ہونا تھالیکن یہ نالائق حکومت آ گئی اور انھوں نے اس منصوبے پر ایک قدم آگے نہیں بڑھایا، اگر ایم ایل ون منصوبہ شروع کرنا ہے تو ریلوے کا بجٹ بڑھانا پڑے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ پرانے ٹریکس دنیا بھر میں تبدیل ہوتے ہیں،ہم نے ریلوے کا بجٹ 43 ارب کیا تھا موجودہ حکومت نے اسے گھٹا کر 16 ارب کر دیا، حکومت  نے سات سو ارب کے ٹیکس غیر قانونی آرڈیننس کے ذریعے لگائے، احسن اقبال نے شکوہ کیا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر مسلسل ایوان میں ن لیگ کو نظر انداز کرتے ہیں،دونوں کے جانبدارانہ رویے سے دبنے والے نہیں ہیں۔بلاول بھٹو زرداری سے میرا بیٹا زیادہ بڑا ہے،بلاول کی ابھی سیکھنے کی عمر ہے، چھوٹوں کی بات پر درگزر کرنا چائیے،احسن اقبال نے کہا کہ فواد چودھری قوم کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اورنج لائن پر وفاق نے خرچ نہیں کیا،اورنج لائن صوبے کا منصوبہ ہے،ہم نے ریلوے کی زبوں حالی کے سبب اسکے منصوبے سی پیک میں رکھے،ریلوے میں چائنا بہت آگے ہے اسی لیے سی پیک میں لائے۔واضع ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف سے بن کر آئے گا،بجٹ میں مزید ٹیکس لگیں گے،پنشنرز کی پنشن پر ٹیکس لگا تو بدترین احتجاج ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے مجھے کاغذی عہدیدار کہا میں نے انہیں کاغذی اپوزیشن نہیں کہا ہے کہ بچوں کی باتوں کا برا نہیں مناتے۔

احسن اقبال

مزید :

صفحہ آخر -