قبضہ سے متعلق کیس،ایس پی صدر کی غیر مشروط معافی درخواست مسترد 

قبضہ سے متعلق کیس،ایس پی صدر کی غیر مشروط معافی درخواست مسترد 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے شہری کی جائیداد پر قبضے سے متعلق کیس میں ایس پی صدر حفیظ الرحمن کی غیر مشروط معافی کی درخواست مسترد کر دی،فاضل جج نے دوارن سماعت مذکورہ ایس پی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ استعفے دیکر گھر چلے جاؤ،یہ معافیاں ہی کام خراب کرتی ہیں جو میرٹ پر سزا بنتی ہے وہ دوں گا، جب سزا دوں گا تو ایس پی کل باہر جا کر اپنے بیج، کیپ وغیرہ اتار دے، جو اصول ہے، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے سرکاری وکیل سے استفسارکیا کہ اگر عدالت میں غلط بیان دے دیا جائے تو کیا سزا دی جا سکتی ہے، سرکاری وکیل نے کہا کہ سمری ٹرائل کے ذریعے تین ماہ تک سزا ہو سکتی ہے،،وزیرِ اعظم کو سزا سنائے جانے کی عدالتی روایت موجود ہے  فاضل جج نے کہا کہ اس سے محسوس ہوا کہ آپ پولیس کے رویے دیکھ لیں، اگر کسی شہری نے کوئی کیس کیا تو یہ اس کے گھر جا کر دھمکاتے ہیں  پولیس کے اعلیٰ افسران عدالتوں سے جھوٹ بول کر ملزمان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ ایس پی کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے،،فاضل جج نے کہا کہ یہ بندہ پولیس سروس میں رہنے کے قابل نہیں ہے، خود ہی چھوڑ کر چلا جائے یہ یہاں سے، سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم متنازعہ جائیداد کی چابی کل دے دیں گے، فاضل جج نے کہا کہ اس معاملے کو بعد میں دیکھیں گے، اگر جائیداد اس کی بنتی ہے تو ملے گی ورنہ نہیں، دوران سماعت عدالتی حکم پر ڈی آئی جی لیگل مرید مسعود عدالت میں پیش ہوئے   فاضل جج نے ڈی آئی جی لیگل سے استفسار کیا کیا درخواست گزار کے گھر جانے کے معاملے پر آپ کو بتایا گیا ہے، جس پر ڈی آئی جی نے کہا  اس معاملے پر کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، فاضل جج نے کہا ایس پی صاحب نے کچھ پوچھنا ہے، جرح سے انکار پر ایس پی صدر ڈویژن نے بادی النظر میں اپنا پہلا غلط بیان مان لیا ہے، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت سے ایس پی غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں، ایس پی صدر ڈویژن حفیظ الرحمن بگٹی نے عدالت سے کہا صرف ایک مرتبہ معاف کر دیں۔

درخواست مسترد

مزید :

صفحہ آخر -