جنگلی جانوروں کو پالنے کیخلاف درخواست پرپنجاب حکومت کو جواب داخل کروانے کی مہلت 

جنگلی جانوروں کو پالنے کیخلاف درخواست پرپنجاب حکومت کو جواب داخل کروانے کی ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم نے شیراورچیتے سمیت دیگرجنگلی جانوروں کو پالنے کے خلاف دائر درخواست پرپنجاب حکومت کو جواب داخل کروانے کی مہلت دے دی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سرکاری وکیل کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی دوران سماعت شیر پالنے والے ایک شہری نے بھی کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ شیر یا جنگلی جانور پالنا کسی بھی قانون کی خلاف ورزی نہیں،درخواست مسترد کی جائے، درخواست گزارسنیتا گلزار کی طرف سے ابوذرسلمان خان نیازی ایڈووکیٹ کاموقف ہے جنگلی جانوروں کو تنگ جگہوں پر رکھا جاتا ہے،جانوروں کو کنٹرول کرنے کیلئے نشہ آور چیزیں بھی کھلائی جاتی ہیں، پنجاب بھر میں 200 سے زائد فارم پر جنگلی جانور پالے جا رہے ہیں،وائلڈ لائف ایکٹ 1974لوگوں کو جنگلی جانور رکھنے کی اجازت دیتا ہے تاہم لوگوں کا جانور رکھنا آئین سے متصادم ہے،عدالت سے استدعا کی کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں پالنے سے متعلق قانون کو کالعدم قراردیاجائے۔

مہلت 

مزید :

صفحہ آخر -