والٹن ایئرپورٹ گرانے کیلئے جاری آرڈیننس کی قانونی حیثیت چیلنج 

 والٹن ایئرپورٹ گرانے کیلئے جاری آرڈیننس کی قانونی حیثیت چیلنج 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ میں والٹن ایئرپورٹ گرانے کے لئے جاری آرڈیننس کی قانونی حیثیت کوچیلنج کردیاگیاہے، یہ آئینی درخواست ایئر بورن ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی اور پنجاب حکومت، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر کو فریق بنایا گیا درخواست میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ درخواست گزار کمپنی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے معاہدے کے بعد والٹن ایئر پورٹ پر فلائنگ سکول چلا رہی ہے، درخواست گزار کمپنی کی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری بھی آئی، پنجاب حکومت نے والٹن ایئر پورٹ کی اراضی پر کثیر المنزلہ عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب حکومت نے 100 سالہ تاریخ کا حامل والٹن ایئر پورٹ گرانے کیلئے آرڈیننس بھی جاری کرد یا  حکومت کا عوام کے تحفظ کیلئے والٹن ایئرو ڈروم دوسری جگہ منتقل کرنے کا جواز ناقابل فہم ہے، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب کثیر المنزلہ عمارتوں کی موجودگی کے باوجود فلائٹس ا?پریشن جاری رہنا حکومتی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے،والٹن ایئر پورٹ کی حیثیت تبدیل کرنے سے قبل درخواست گزار کمپنی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، والٹن ایئر پورٹ پاکستان کیلئے ایک ورثے کی حیثیت رکھتا ہے تقسیم ہندوستان کے وقت قائد اعظم اسی ایئر پورٹ پر اترے تھے، درخواست گزار کمپنی کو والٹن ایئر پورٹ سے جہاز فیصل ا?باد ایئر پورٹ منتقل کرنے کا نوٹس بھی دیدیا مریدکے میں نئے والٹن ایئروڈروم کی تعمیر سے متعلق کوئی حتمی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی، لاہور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 128 سے متصادم ہے، عدالت سے استدعاہے کہ والٹن ایئر پورٹ کی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے جاری آرڈیننس کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے اوردرخواست گزار کمپنی کو والٹن ایئر پورٹ سے فلائنگ سکول اور جہاز منتقل کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی کالعدم کیا جائے۔

چیلنج

مزید :

صفحہ آخر -