حکومت فلاپ، معیشت چلی نہ ہی جمہوریت، سید ذیشان اختر

حکومت فلاپ، معیشت چلی نہ ہی جمہوریت، سید ذیشان اختر

  

بہاول پور(بیورورپورٹ) نائب امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب سید ذیشان اختر نے کہا  ہے کہ پاکستان وہ بدنصیب ملک بن گیا ہے جو مادی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہواہے۔ آدھی آبادی خط غربت سے نیچے افلاس کی گہرائیوں میں گر چکی ہے۔ یہ معاشی بحران قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیاہے۔ پاکستان میں صرف(بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

 حکمران ہی سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف کی بجائے اتنی تکلیف دی ہے کہ عوام میں حالات سے مایوسی کا رجحان یہاں تک بڑھ گیاہے کہ عوام غربت سے تنگ آکر خودکشی اور جرائم کی طرف جارہے ہیں۔ معیشت نہ چلی تو جمہوریت بھی نہیں چلے گی۔ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ 2018ء کے الیکشن کے بعد ملک میں مثبت تبدیلی کی بجائے زوال میں اضافہ ہواہے اور عوام کو ریلیف کی جگہ تکلیف ملی ہے۔ حکومت نے 3 سالوں میں قومی معیشت چلانے کے لیے حسب معمول آئی ایم ایف پر انحصار کیاہے۔بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اس بے دردی سے اضافہ ہواہے کہ غریب آدمی پیٹ بھر کر روٹی کھانے کے قابل نہیں رہا۔ موجودہ حکومت نے انتخابات سے قبل معیشت کی بحالی، غیر ملکی قرضوں سے نجات، کشکول گدائی توڑنے، مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے، بیمار صنعتی اداروں کی بحالی کے خوبصورت اور بلند و بانگ دعوے کئے مگر یہ نعرے اور دعوے اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہوگئے۔ 3 سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود کسی ایک وعدہ پر بھی عمل درآمد نہ ہوسکا بلکہ اس کے برعکس مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان نے ساری کسر نکال کر رکھ دی۔ ضروریات زندگی کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے بجائے ورلڈ بینک اور IMF کے آگے جھولی پھیلانے کو فخر محسوس کیا جانے لگا۔ملک کی معاشی اور اقتصادی صورت حال روز بروز زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔

سید ذیشان اختر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -