بلخ، بم دھماکے میں 4ہلاکتیں، غور میں خونریز جھڑپیں، 157افغان اہلکار ہلاک، طالبان کا شہراک شہر پر قبضہ 

بلخ، بم دھماکے میں 4ہلاکتیں، غور میں خونریز جھڑپیں، 157افغان اہلکار ہلاک، ...

  

 کابل(این این آئی) امریکا کی جانب سے افغانستان سے11ستمبر تک مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی علاقوں کے حصول کے لیے لڑائی میں اضافہ ہوگیا ہے،افغانستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں 157سپاہی ہلاک ہوگئے۔ طالبان نے مغربی صوبے غور کے ضلع شہراک کا قبضہ حاصل کرلیا ہے اور شدید لڑائی کے بعد فوج کو قریبی گاؤں میں دھکیل دیا ہے۔ادھربلخ کے ضلع خاص بلخ کے مرکزی علاقے میں زور دار کار بم دھماکا ہواہے جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 50 سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان حکومت کے سینئر عہدیداروں نے بتایاکہ امریکا کی جانب سے 11 ستمبر تک مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی علاقوں کے حصول کے لیے لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔ملک کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہلاکتوں میں پریشان کن اضافہ ہوچکا ہے۔مقامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان نے مغربی صوبے غور کے ضلع شہراک کا قبضہ حاصل کرلیا ہے اور شدید لڑائی کے بعد فوج کو قریبی گاؤں میں دھکیل دیا ہے۔افغان وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ حکومتی فورسز نے صوبہ وردک کا اسٹریٹجک علاقہ ضلع نیرک کا قبضہ واپس لینے کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ علاقہ دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے سے کم فاصلے پر موجود ہے۔ادھرحکام کے مطابق بلخ کے ضلع خاص بلخ کے مرکزی علاقے میں زور دار کار بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 50 سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔

افغانستان لڑائی

مزید :

صفحہ اول -