کینیڈا میں مسلمانوں پر حملہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی علامت، کسی لابی کا حصہ ہوں نہ میرے کوئی مالی مفادات ہیں: عمران خان 

کینیڈا میں مسلمانوں پر حملہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی علامت، کسی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا میں جدوجہد کر کے اس مقام تک پہنچا ہوں اور کسی لابی یا کاروباری مفاد کا حصہ نہیں ہوں۔وزیر اعظم ہاؤس میں کسانوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کو کسانوں اور کاشتکاروں نے اپنی مشکلات اور پریشانیوں سے آگاہ کیا۔کسانوں کے مسائل سننے کے بعد ان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا نہ میں کسی لا بی کا حصہ ہوں اور نہ ہی میرے کاروباری مفادات ہیں، میں جدوجہد کر کے اس لیے آیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں اللہ نے اس ملک کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازاہے۔ ہم جب بڑے ہو رہے تھے تو ہم نے اس ملک کو اوپر جاتے دیکھا اور پھر واپس نیچے آتے دیکھا جس کی وجہ یہ تھی اس ملک میں ناانصافی ہے، جو قوم اللہ کی زمین پر انصاف کرے گی وہ ترقی کریگی، شریعت کی سب سے بڑی چیز انصاف ہے۔ ہم نے اقتدار آتے ہی دیکھا چینی کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن کسانوں کو پیسے نہیں مل رہے، کسانوں کو طے شدہ قیمت بھی نہیں مل رہی تھی اور اس صنعت میں پورا مافیا بیٹھا تھا جو مہنگی چینی بھی بیچتاتھا، کسانوں کو بھی پیسے نہیں دیتا تھا اور منافع ظاہر نہ کر کے ٹیکس بھی نہیں دیتا تھا، بدقسمتی سے اور بھی جگہ مافیا بیٹھا ہوا ہے جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میری جدوجہد حکمرانوں کی کرپشن کیخلاف تھی کیونکہ حکمرانوں کی کرپشن ملک کو تباہ کر دیتی ہے، تیسری دنیا یا ترقی پذیر ممالک کے حکمران پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے کر جاتے ہیں اور سب ممالک کی ایک ہی کہانی ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن اتنی طاقتور تھی جب ابتدا میں ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کی تو انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تم یہ تفتیش کرو گے تو ہم چینی غائب کردیں گے اور قیمت مزید اوپر چلی جائے گی، یہ کام بہت مشکل تھا کیونکہ سب طاقتور ایک ہی قطار میں بیٹھے ہیں جو مختلف جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ زرعی شعبہ اس ملک کو کم مدت میں انتہائی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے، ابھی اس سلسلے میں ہم نے اتنا کیا ہے کسانوں کو گنے کا پیسہ بروقت اور پورا ملا، ہم نے قانون بنا کر شوگر مل سے کسانوں کو صحیح وقت پر قیمت دلا دی، اس سے کسانوں اور دیہات میں جو خوشحالی آئی وہ صاف نظر آئی اور ریکارڈ پیداوار ہوئی اور کپاس کے سوا تمام فصلوں کی اچھی پیداوارہوئی۔انہوں نے کسانو ں کو یقین دہانی کرائی کہ اب ہم نے یہاں پر رکنا نہیں ہے بلکہ آگے جانا ہے، آپ سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہیں گے اور فخر زمان اور جمشید پورے پاکستان میں کسانوں سے ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل معلوم کریں گے۔ دنیا بہت ترقی کر چکی ہے، لائیو اسٹاک میں بھی بے پناہ بہتری کی گنجائش موجود ہے، ترقی یافتہ ممالک میں گائے یہاں کے مقابلے میں پانچ سے چھ گنا زیادہ دودھ دیتی ہے، ہم چین کے تعاون سے آپ کو ان کی مختلف تکنیک سے روشناس کرائیں گے تاکہ آپ ہمیں بتا سکیں کہ آپ کو کاروبار کی ترقی کے لیے کس طرح کی اشیا کی مدد درکار ہے۔ ہمارے بڑے پیمانے کی صنعت میں بھی بہت اچھی پیداوار ہوئی ہے، انڈسٹری پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے بغیر ہم قرضے واپس نہیں کر سکتے، ہم ان کی بھی پوری مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن منافع اور ناجائز منافع خوری میں فرق ہے، منافع ضرور بڑھائیں لیکن معاشرے میں ٹیکس ادا کر کے اپنے کردار ادا کریں لیکن یہ نہ کریں کہ گٹھ جوڑ کر کے مصنوعی طریقے سے قیمتیں بڑھائیں اور ہماری حکومت پرعزم ہے کہ آپ کا کسی بھی قسم کا استحصال نہیں ہونے دیں گے۔وزیر اعظم نے مہنگی بجلی کی وجہ پچھلی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم قیمتیں نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں اور قیمت میں اضافہ کرتے ہیں تو صنعت اور کسان شور مچاتے ہیں، اس کا حل یہ ہے کہ ہم ٹیوب ویل شمسی توانائی پر چلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ اب شمسی مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے نیچے آتی جا رہی ہیں۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے ان کے دفتر میں ملاقات کر کے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت پیشرفت اور اس کی کامیابی کیلئے بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کیلئے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جائے۔ ہم نے پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ کرکے اس زراعت کے لئے استعمال میں لانا ہے۔ معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ نے وزیر اعظم عمران خان کو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلانے کے تحت جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی او ران سے رہنمائی بھی حاصل کی۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی نژاد مسلمان کینیڈین خاندان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ واقعہ مغربی ممالک میں بڑھتے اسلاموفوبیا کی علامت ہے،اسلاموفوبیا تدارک کیلئے عالمی برادری کے کْلّی طور پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اونٹاریو میں پاکستانی نڑاد مسلمان کینیڈین خاندان کے قتل پر بیحدافسردہ ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ دہشتگردی کا یہ قابل مذمت اقدام مغربی ممالک میں بڑھتیاسلاموفوبیا کی علامت ہے۔عمران خان نے کہا کہ اسلاموفوبیا تدارک کے لیے عالمی برادری کے کْلّی طور پر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔واضح رہے کہ کینیڈا میں دہشتگرد نے پاکستانی خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے روند دیا، جاں بحق افراد میں عمر رسیدہ ماں، فزیوتھراپسٹ بیٹا، بہو اور کمسن پوتی شامل ہیں جبکہ نو برس کا پوتا شدید زخمی ہوا ہے

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -