وفاقی حکومت سندھ کو بھر پور حصہ دے رہی ہے، مراد علی شاہ پہلے طے کر لیں ہم نے سندھ میں کام کرنا ہے یا نہیں: اسد عمر 

وفاقی حکومت سندھ کو بھر پور حصہ دے رہی ہے، مراد علی شاہ پہلے طے کر لیں ہم نے ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسدعمر نے کہا ہے کہ سندھ کووفاقی حکومت کی جانب سے بھرپور حصہ دیا جا رہا ہے مرادعلی شاہ پہلے طے کر لیں ہم نے سندھ میں کام کرنا ہے یا نہیں۔منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسدعمر نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے کل مجموعی طور پر 3 شکایات کی ہیں مرادعلی شاہ کہتے ہیں سندھ کیساتھ اچھاسلوک نہیں کیاجارہا، پیپلزپارٹی کی وفاق میں ایک باراورصوبائی سطح پرتیسری حکومت چل رہی ہے، پیپلزپارٹی نے سندھ میں ایک انچ موٹروے پرکام نہیں کیا۔وفاقی وزیراسدعمر نے کہا کہ سندھ میں موجودہ حکومت 90 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے سندھ میں 25ارب روپے پانی کے منصوبوں پرخرچ کیے جا رہے ہیں سندھ کووفاقی حکومت کی جانب سے بھرپورحصہ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں وفاقی حکومت نالے صاف کررہی ہے کچرا اٹھارہی ہے تجاوزات کے خاتمے کیلئے وفاق کردار ادا کر رہا ہے، سندھ میں وفاقی حکومت وہ کام کررہی ہے جوصوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اسدعمر نے کہا کہ مرادعلی شاہ کاتیسراشکوہ تھاکہ آپ چھوٹے کام سندھ میں کیوں کر رہے ہیں، مرادعلی شاہ پہلے طے کر لیں ہم نے سندھ میں کام کرنا ہے یا نہیں، ترقیاتی بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہوتی ہے جوخرچ کرتی ہے وفاق سندھ کی حکومت کیلئے نہیں،سندھ کی عوام کیلئے کام کرتاہے وفاق کسی صوبے کی ہدایت پرنہیں عوام کیلئے کام کرتا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ مالی سال 21-2022 میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2.1 کھرب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں ملک بھر کے منصوبے شامل ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے عوامی ترقیاتی پروگرام 'پی ایس ڈی پی' میں شامل منصوبوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 21-2022 میں قومی ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 102 ارب روپے (2.1 کھرب روپے) ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 36.4 فیصد زیادہ ہے اور یہ منصوبے ابھی جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں اچھی بات یہ ہے کہ وفاق کے منصوبوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر تمام صوبوں میں خاطر خواہ اضافہ نظر آرہا ہے، کے پی نے گزشتہ مالی سال میں ترقیاتی اخراجات زیادہ کیے تھے۔اسد عمر نے کہا کہ اگلے سال شرح نمو 4.8 فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف پیسہ زیادہ خرچ کرنے کی بات نہیں ہے، ایک وزیراعظم عمران خان کا وڑن ہے اور دوسرا پاکستان تحریک انصاف کا منشور ہے اور ہم طویل عرصے سے کچھ ترجیحات کی بات کرتے آئے ہیں اور یہ منصوبہ انہی ترجیحات کے مطابق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 5 سال قبل 56 فیصد بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں پر خرچ کیا جارہا تھا، وہ حصہ 21-2022 میں 40 فیصد پر آرہا ہے، مواصلات کے شعبے میں ترقیاتی کام کم نہیں ہور ہا ہے لیکن پی ایس ڈی پی کے اندر ایلوکیشنز کم ہو رہی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دوسری بڑی ترجیح پانی ہے، جو پاکستان کے کسی بھی حلقے میں جائیں تو وہاں کے اہم ترین مسائل میں پانی شامل ہوتا ہے بلکہ کئی ایسے حلقے ہیں جہاں پانی کا مسئلہ سرفہرست ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ 2016 اور 2017 میں پانی کے منصوبوں کے لیے 4 فیصد مختص کیا جاتا تھا، جس میں ڈیم اور بڑے منصوبے بھی شامل تھے لیکن اب ڈھائی گنا بڑھ کر 10 فیصد ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک وقت میں تین ڈیمز پر کام ہو رہا ہے، دیامر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم پر کام جاری ہے اور اگلے مالی سال میں اس کے لیے 85 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں۔بجٹ کے لیے منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سال میں 2 لاکھ ایکڑ زمین پر ترقیاتی کام کرنا چاہتے ہیں اور 3 سال میں 3 لاکھ ایکڑ زمین قابل کاشت ہوگی تاکہ ہمیں باہر سے جو چیزیں منگوانی پڑتی ہیں اس میں کمی لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی کے لیے 25 ارب روپے کا منصوبہ ہے، اسی طرح بلوچستان اور پنجاب میں بھی چھوٹے ڈیمز کے لیے پیسے رکھے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کے اندر سرمایہ کاری کی جارہی ہے اور تقریباً 100 ارب روپے ٹرانسیمشن سسٹم کے اپ گریڈ میں خرچ کیا جارہا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ سندھ میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے، کے ٹو اور کے تھری منصوبوں کے لیے پیسے رکھے گئے ہیں، پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کو بجلی اور گیس فراہم کرنے کے لیے بھی فنڈ مختص کیا گیا ہیوفاقی حکومت نے عالمی وبا کورونا وائرس کے تدارک کیلئے ایک ارب ڈالر کی مزید ویکسین خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا ویکسین منگوانے کی سمری منظوری کیلئے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔اسد عمر نے بتایا کہ حکومت اب تک 25 کروڑ ڈالر مالیت کی ویکسین خرید چکی ہے، تاہم معیشت کو بندشوں سے نکالنے کیلئے عوام کی ویکسی نیشن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن سمیت اس سال کورونا پر 51 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

اسد عمر

مزید :

صفحہ اول -