امریکی کانگریس پر حملہ انٹیلی جنس،سکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار

امریکی کانگریس پر حملہ انٹیلی جنس،سکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار

  

واشنگٹن (اظہرزمان، خصوصی رپورٹ) رواں برس  6جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں نے جو دھاوا بولا تھا اس کا سبب انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی متعدد کوتاہیاں اور ناکامیاں تھی۔ اس وقت ٹرمپ کی صدارتی شکست کے باوجود ابھی ان کی انتظامیہ موجود تھی جس کی نگرانی میں کام کرنے والی پولیس اور سیکیورٹی فورسز جو دارالحکومت اور ”یو ایس کیٹل“ کہلانے والی اس عمارت کوب چانے کیلئے شاید ہجوم کی اتنی بڑی یلغار کیلئے تیار نہیں تھیں۔ سینیٹ کی دو کمیٹیوں نے مشترکہ طور پر اس حملے کی تفتیش کرنے کے بعد وہ رپورٹ جاری کی ہے اس میں یہ نتائج شامل ہیں۔ سینیٹ  کی ہوم لینڈ سیکیورٹی اور رولز کمیٹی نے مشترکہ تفتیش کیلئے پولیس اور سیکیورٹی حکام سے شہادتیں حاصل کرکے اپنی تحقیق مکمل کی۔ ان دونوں کمیٹیوں میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں کے ارکان شامل تھے جنہیں فروری میں تفتیش کا کام سونپا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش کیلئے ہزاروں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا اور پچاس پولیس افسروں کو طلب کرکے ان کی شہادتیں ریکارڈ کیں۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ کانگریس کی عمارت ہر ایسے حملے کی پہلے مثال نہیں ملتی جو دراصل جمہوریت پر وار کے مترادف تھا۔ کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ عمارت پر تشدد اور حملے کی دھمکیوں کے باوجود انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں نے عمارت کو بچانے کیلئے خاطر خواہ انتظام نہیں کیا۔ 6جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت میں قانون ساز صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی کامیابی کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی رسمی کارروائی کیلئے اجلاس میں مصروف تھے۔ اس وقت ٹرمپ کے حامی جو نتائج کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے عمارت کے قریب مظاہرہ کر رہے تھے اور پھر بالآخر انہوں نے عمارت پردھاوا بولا اور اندر گھس گئے تھے۔

 سکیورٹی ناکامی 

مزید :

صفحہ اول -