دفتر خارجہ کی شدید مذمت، کینیڈین حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ 

  دفتر خارجہ کی شدید مذمت، کینیڈین حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ 

  

  اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں ایک ہی خاندان کے چار پاکستانی نژاد کینیڈین شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہماری ہمدردیاں متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، پاکستانی ہائی کمیشن اور قونصل جنرل مقامی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں، قونصل جنرل نے متاثرین کے اہل خانہ کے پاس جا کر اظہار تعزیت کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں پیش آنے والا واقعہ اسلاموفوبیا کو ظاہر کرتا ہے، بین الاقوامی برادری کو ایک موثر اور جامع حکمت عملی کے تحت اسلاموفوبیا سے نمٹنا ہو گا، دوسری جانب سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کینیڈا میں  پاکستانی نژادخاندان پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت اور حملے میں ہونے والی شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ترقی یافتہ ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف رجحانات کی پہلے ہی نشاندہی کر چکے ہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ منظم اسلام مخالف مہم کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے۔

دفتر خارجہ 

 کینیڈا (ندیم طفیل سے)کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے شہر لندن میں ایک پک اپ ٹرک ڈرائیورنے فٹ پاتھ پر گاڑی چڑھا کر مسلم  خاندان کو نشانہ بناکر کچل کر ہلاک کر دیا اس خاندان میں سے صرف نو سال کا ایک بچہ زندہ بچ پایا ہے اور شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل ہے۔پولیس نے ایک 20 سالہ کینیڈین شخص کو قتل کے چار اور اقدامِ قتل کے ایک الزام کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی جا سکتیں ہیں مرنے والوں میں چھیالیس سالہ سلمان اس کی بیوی والدہ اور بیٹی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نو سالہ بچہ ہسپتال میں داخل ہے مگر اس کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔لندن شہر کے میئرر ایڈ ہولڈر نے کہا ”یہ مسلمانوں اور لندن کے شہریوں کے خلاف انجام دیا گیا ایک اجتماعی قتل ہے جس کی جڑ میں بے پناہ نفرت موجود تھی۔حملہ آور کا نام نیتھانی آل ویلٹ مین بتایا گیا ہے۔ وہ 20 سال کا ہے اور لندن سے تعلق رکھتا ہے پولیس نے بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ حملہ آور کے کسی نفرت انگیز گروہ سے تعلقات ہیں یا نہیں۔انھیں جائے وقوعہ سے چھ کلومیٹر دور ایک شاپنگ سینٹر میں گرفتار کیا گیا۔وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو وفاقی وزرا ممبران اسمبلی اوراونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے.پولیس کے مطابق ”ملزم اور ہلاک شدگان کے درمیان پہلے کوئی تعلق نہیں ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے ایک جیکٹ پہن رکھی تھی جو 'بلٹ پروف جیکٹ جیسی لگتی تھی کینیڈا کی سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دینے کے لیے دہشت گردی جیسی دفعات کو شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات جنم نہ لے سکیں۔

کینیڈا حادثہ

مزید :

صفحہ اول -