تقریر میں کسی فرد کا نام لیانہ ہی میری فوج سے کوئی لڑائی ہے،حامد میر

   تقریر میں کسی فرد کا نام لیانہ ہی میری فوج سے کوئی لڑائی ہے،حامد میر

  

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کی کمیٹی نے حامد میر سے 28مئی کی تقریر کے حوالے سے ملاقات کی، اس حوالے سے حامد میر نے کمیٹی کے سامنے وضاحت کرتے ہوئے کہا ”گزشتہ ہفتے 28مئی کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر پی ایف یو جے کے مظاہرے میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی جارہی تھی اور افسوس کا اظہار کیا جارہا تھا کہ بشمول مجھ پر ہونے والے حملے کے ان حملوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ اس موقع پر چند صحافیوں نے کچھ سخت تقریریں کیں۔ میری تقریر سے پیدا ہونے والے غلط تاثر کا مجھے بخولی احساس ہے اور میں بغیر کسی بھی دباؤ کے اپنے ضمیراحساس ذمہ داری اور مروجہ صحافتی اقدار کے تحت یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے نہ اپنی تقریر میں کسی فرد کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میری فوج سے کوئی لڑائی ہے۔ میں فوج کا بحیثیت ادارہ احترام کرتا ہوں۔ میں نے سیاچن سے لیکر لائن آف کنٹرول تک اور فاٹا سے بلوچستان تک فوجی بھائیوں کی قربانیوں کوبہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کی کوریج کو باعث فخر سمجھا۔ میرا مقصد ہرگز کسی کے دلآزاری اور جذبات کو نہیں پہچاتا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ رکوایا جائے اوران حملوں کے ذمہ داران کو گرفتار کرکے ان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس ضمن میں صحافیوں کے تحفظ کے سلسلے میں پارلیمینٹ میں جلد از جلد قانون سازی کی جائے“۔ کمیٹی اس بیان سے اتفاق کرتی ہے اور توقع کرتی ہے کہ یہ معاملہ اب خوش اسلوبی سے حل ہو جائیگا۔

حامد میر

مزید :

صفحہ اول -