ڈہر کی ٹرین ایکسیڈنٹ، جاں بحق افراد کی تعداد 65ہو گئی، وزیر ریلوے کا ذمہ داروں کو نشان عبرت بنانے کا اعلان 

  ڈہر کی ٹرین ایکسیڈنٹ، جاں بحق افراد کی تعداد 65ہو گئی، وزیر ریلوے کا ذمہ ...

  

 ڈہرکی، لاہور،رحیم یارخان(نیوزایجنسیاں) گھوٹکی کے علاقہ ڈہرکی کے قریب سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس میں تصادم کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی 65 ہوگئی جبکہ 100 سے زائد زخمی ہیں، 47 میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ ڈہرکی حادثہ کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی، جس میں کہا گیا کہ حادثہ اپ ٹریک کی پٹڑی کا ویلڈنگ جوائنٹ ٹوٹنے کے باعث پیش آیا، اپ ٹریک کی دائی پٹڑی کا جوائنٹ ویلڈنگ سے جوڑا گیا تھا، جو ٹوٹا ہوا پایا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پٹڑی کا جوائنٹ ٹوٹنے کے باعث ملت ایکسپریس کی بارہ بوگیاں پٹڑی سے گر گئیں، ڈاون ٹریک پر سرسید ایکسپریس گری ہوئی کوچز سے ٹکرا گئیں، حادثے کے باعث سرسید ایکسپریس کا انجن اور چار کوچز پٹڑی سے گر گئیں۔ ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ٹرینوں کے بلیک باکسز کا ڈیٹا نکالا جا رہا ہے، بلیک باکسز کے ڈیٹا کو فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے کی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا، ملت ایکسپریس کا انجن اور چھ کوچز ٹریک پر ہی رہیں۔ دوسری جانب ڈی جی رینجرز سندھ نے ڈہرکی میں حادثے کی جگہ کا دورہ کیا، میجر جنرل افتخار حسن نے امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ ڈی جی رینجرز سندھ نے ریسکیو آپریشن پر اطمینان کا اظہار کر دیا۔دوسری جانب ڈہرکی میں ٹرین حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے تاہم ٹریک کی بحالی کا کام جاری ہے۔ کراچی اور کوئٹہ سے لاہور آنے والی متعدد ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہیں۔ کراچی سے آنے والی شاہ حسین11 اور علامہ اقبال ایکسپریس 15 گھنٹے لیٹ ہے۔ تیزگام 13، پاک بزنس ایکسپریس 14 اورقراقرم ایکسپریس 14 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔ عوام ایکسپریس 20، خیبرمیل 8 اور فرید ایکسپریس 10 گھنٹے لیٹ ہے۔ جعفر ایکسپریس 14،پاکستان ایکسپریس 16 گھنٹے، رحمان بابا ایکسپریس 19 اور شالیمار ایکسپریس 21 گھنٹے تاخیر کا شکا رہے۔ ریلوے انتظامیہ نے لاہور سے جانے اور آنے والی کراچی ایکسپریس کی روانگی منسوخ کر دی ہے۔ جناح ایکسپریس اور گرین لائن ایکسپریس کو بھی کینسل کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ ریلوے انتظامیہ اور افسران ریلیف آپریشن کی تکمیل تک ڈیوٹی پر موجود رہیگا۔ جاں بحق اور زخمی افراد کی حتمی تعداد اکٹھی کر کے جاری کی جائیگی۔ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کی منسوخی تکنیکی بنیادوں پرصرف آج کیلئے کی گئی ہے، کنفرم ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو 100 فیصد ری فنڈکیا جائے گا جبکہ ٹکٹ کرانے والے مسافرریزرویشن آفس سے ری فنڈ لیں۔ٹرینوں کی منسوخی کی وجہ سے ریلوے کوکروڑوں کانقصان ہوا جبکہ ٹرینوں کی اچانک منسوخی کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ادھر ٹرین حادثے میں جاں بحق ہونے والے متعدد افراد کی مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی جبکہ حادثے میں جاں بحق مزید کئی افراد کی لاشوں کی شناخت بھی کر لی گئی۔لودھراں کے 2 سگے بھائیوں، والدہ اور کزن کی نمازِ جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ماموں اور بھانجی کی میتیں سردار والا پہنچنے پر گھر بھر میں کہرام مچ گیا جبکہ علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی، متوفین کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔جاں بحق 2 کمسنوں مومن اور ہادی کی بھی شناخت ہو گئی، دونوں بچے ماں کے ساتھ کراچی سے فیصل آباد جا رہے تھے۔لودھراں سے تعلق رکھنے والے شہباز، اس کی بیوی اور 2 بچوں کی لاشوں کو بھی پہچان لیا گیا ہے۔وہاڑی کے رہائشی حضور خان کی بیوی، بیٹی اور سسر بھی اس ٹرین حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں، بیٹی زیرِ علاج ہے جبکہ ایک کمسن بیٹا سبحان لا پتہ ہے۔حضور خان کا کہنا ہے کہ اس کاخاندان کراچی سے خانیوال جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا ہے۔شہید ریلوے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی گئی۔شہید کانسٹیبل دلبر حسین کی تدفین جہانیاں کے مقامی قبرستان میں کی گئی جبکہ شہید کانسٹیبل علی ناصر کی تدفین چاہ بہار شاہ قبرستان ضلع کبیر والا میں ادا کی گئی۔شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں ریلوے پولیس کے سینئرافسران و جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آئی جی ریلوے پولیس عارف نواز خان کی جانب سے شہدا کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔آئی جی ریلوے پولیس کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ شہدا کی فیملیز کا ہر سطح پر خصوصی خیال رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں محکمہ ریلوے نے ریلوے ٹریک کے باعث دو ٹرینوں کے حادثہ کی تحقیقات کرتے ہوئے سرگودھا سمیت تمام ریلوے جنکشنز سے ٹریکس کی صورتحال کے بارے مفصل رپورٹس طلب کر لیں اور ایک عرصہ سے ٹریکس پر پتھر نہ گرانے کی وجہ سے ریلوے لائنیں کمزور ہونے سے فوری آگاہ کرنے کا حکم دیا۔

 گھوٹکی(این این آئی) وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی نے ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہاد کااعلان کرتے ہوئے کہا انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کونشان عبرت بنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی نے شیخ زید اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کونشان عبرت بنائیں گے، ریلوے حکام کی غفلت سے حادثے پرحادثہ ہوا۔اعظم سواتی نے کہا کہ ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہادکااعلان کردیاہے، کرپشن کے خلاف جاری جہادکو انجام تک پہنچاؤں گا، عملے کی بجائے ذمہ دارافسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر ریلوے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور کہا معصوم بچیوں کی لاشیں دیکھ کراپنے پوتے اورپوتیاں یادآگئیں، کل تک رپورٹ مرتب اورذمہ داروں کا تعین ہوگا۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران کوحقائق سے آگاہ کردیاہے، سکھرڈویژن کاریلویٹریک بوسیدہ ہوچکاہے، ریسکیوعملے اورریلوے کے مزدوروں کوسلام پیش کرتاہوں، المناک حادثے میں اب تک58 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، 00سے زائدزخمی، 23افرادشیخ زیداسپتال میں زیرعلاج ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سگنل سسٹم کی ناکامی اوربروقت اقدام نہ اٹھانے کے باعث حادثہ ہوا، سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک کا استعمال کیا، سگنل سسٹم پر20ارب خرچ ہو چکا ہے، جومکمل فعال نہیں ہو سکا، اسی لئے اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے ذریعے چلا رہے ہیں، 1971 کا بنا ہوا ٹریک30 سال بعد تبدیل ہونا تھا۔

اعظم سواتی 

مزید :

صفحہ اول -