گرمی: بجلی گھنٹوں بند، سکولوں میں بچے بے ہوش، اساتذہ کی دوڑیں 

گرمی: بجلی گھنٹوں بند، سکولوں میں بچے بے ہوش، اساتذہ کی دوڑیں 

  

 بہاولپور، ڈیرہ، کوٹ ادو، حاصل پور، خانقاہ شریف، روہیلانوالی، کوٹ سبزل (ڈسٹرکٹ رپورٹر، تحصیل رپورٹر، سٹی رپورٹر، نمائندہ پاکستان،نامہ نگار) ملک بھر کی طرح کوٹ(بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

 ادو بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں آگیاہے‘کوٹ ادو میں اس وقت درجہ حرارت42سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا‘گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے سے سڑکیں ویران ہوگئیں کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیاجبکہ نوجوانوں نے گرمی کی شدت سے بچنے کیلئے نہروں کا رخ کر لیا‘جہاں پر سارا دن نوجوانوں کا رش رہتا ہے،صبح 10بجے سے شام5بجے تک بچے‘نوجوان نہاتے نظر آتے ہیں‘گرمی کی وجہ سے بچے شدید متاثر ہونے لگے اور بوڑھے بھی پریشان ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گرمی کی شدت میں اضافہ سے شہری پریشان ہو کر رہ گئے‘گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی شہر میں مشروبات کی دوکانوں میں رش ہونے لگا‘اور شہر بھر میں برف کی ڈیمانڈ بڑھنے سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔گرمی کی شدت بڑھتے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ طویل فورس لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے، اس وقت کوٹ ادو کے دیہی وسٹی فیڈروں پر 8سے10گھنٹے کی طویل فورس لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جسکی وجہ سے کاروبار مکمل ٹھپ ہو کر رہ گئے،جبکہ گرمی میں شدت آنے پر طویل لوڈ شیڈنگ سے شہری بے حال  ہو گئے،صارفین وشہریوں نے طویل فورس لوڈ شیڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ملک بھر میں سکولز ٹائم میں بجلی  لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے، واپڈا اپنے شیڈول کو ری شیڈول کرے، سخت ترین گرمی میں لوڈشیڈنگ سے طلبہ وطالبات کا بیمار ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا اور وہ ہونے والے سالانہ امتحان شریک نہ ہو سکیں گے 11جون سے کلاس پنجم وہشتم کے امتحانات شروع ہورہے ہیں ادھر واپڈا نے سکولز ٹائم میں کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ شروع کر دی ہے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر  پانی وبجلی  سے مطالبہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں  واپڈا کو ہدایات جاری کریں اس بات کا مطالبہ ضیاالسلام. زاہد قریشی مرکزی چیئرمین آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے کیا، ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ. مسلسل بندش کے بعد سکولز کھلے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ وطالبات کیلئے آسانیاں پیدا کرے تاکہ وہ اپنی نامکمل تعلیم. کو بہتر ماحول میں مکمل کر سکیں۔ حاصل پور میں بے جا لوڈ شیڈنگ پر حکومت سے ناراضگی کا اظہار میڈیا ٹیم سروے کے مطابق بجلی کے بے جا بل کے اضافہ کے باوجود ہم لاچاروں جیسی زندگی گزار رہے ہیں اتنی مہنگی بجلی استعمال کرنے کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا ہونا سمجھ سے بالاتر ہیاعلی حکام کو اچھے کی رپورٹس بھیج کر خود واپڈا آفسران گرمی میں ایک پل بھی نہیں گزارتے حاصل پور سٹی کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے عوام کا کہنا ہے کہ گرمی کی اس شدت میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر وزیراعظم عمران خان نوٹس لیں اور زمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کروائی عمل میں لائیں تاکہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا حاصل ہو سکے۔روہیلانوالی میں گرمی کی شدت سے اکثر سکولوں کے طلبہ و طالبات بے ہوش ہونے لگے جبکہ کچھ بچوں کو ناک میں سے خون بہنے لگا جس سے کچھ بچوں کی حالت تشویشناک ہوگئی جن کو مقامی ہسپتالوں میں بھیجا گیا جہاں ان کاعلاج ہونے کے بعد حالت ٹھیک ہوئی۔روہیلانوالی رورل ہیلتھ سنٹر کے انچارج ڈاکٹر امان اللہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے خاص طور پر پرائمری اسکولز میں چھٹیاں نہ کیں تو حالات مزید ابتر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔بچوں کے والدین نے حکومت پنجاب سے فوری پرائمری اسکولوں کی بندش کا مطالبہ کیا ہے انھوں نے مزید کہا کہ  گرمیوں کہ طلبہ و طالبات کو گرمیوں کی چھٹیاں دی جائیں۔ ہمارے ننھے بچوں کی زندگیوں سے نہ کھیلا جایے۔روہیلانوالی کے اساتذہ اور والدین نے وزیر تعلیم اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے فوری گرمیوں کی چھٹیاں دینے کی استدعا ہے۔ڈھنڈی موضع شاہ پور سمیت ایک درجن سے زائد بستیاں 5 دن سے بجلی سے محروم  ہیں، علاقہ مکین سراپا احتجاج ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور گرمی کا موسم چل رہا ہے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے عوام بلبلااٹھے سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے ایک ہفتہ گزرنے کے با وجود بجلی بحال نہ کی جا سکی ہم ایس ڈی او اور ایکسین سے مطالبہ کرتے ہیں کے ہمیں انصاف دیا جائے اور  ہماری بجلی بحال کی جائے نیاز حسین چاچڑ نے کہا کے لائن مین کو فون کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے پیسے دو پھر بجلی چلے گی اہلیان علاقہ محمد سچل،دوداجونا، فاروق احمد،محمد قیصر،ربنوازجونا بلاول چاچڑ،شوقت ٹانوری محمود احمد،عثمان چاچڑ،محمد زاہد،فرید احمدنے واپڈاکے اعلی حکام علاقہ میں بجلی کی فراہمی کامطالبہ کیاہے۔بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے کارڈیالوجی وارڈ میں اے بند ہونے سے مریض بلبلا اٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں اے سی بند ہونے سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا وارڈ انچارج کو کئی بار کہا مگر وہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں ہمارے ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد اے سی چالو کرائیں جائیں جس سے پریشان حال مریضوں کو کچھ سکھ کا سانس مل سکے۔

گرمی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -