ملتان، میگا کرپشن سکینڈ لز کی انکوائریاں مکمل، جلد کریک ڈاؤن: مافیا میں کھلبلی 

  ملتان، میگا کرپشن سکینڈ لز کی انکوائریاں مکمل، جلد کریک ڈاؤن: مافیا میں ...

  

 ملتان (  وقا ئع نگار  )ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس نے کہا ہے کہ ملتان زیر التوا انکوائریاں اور درخواستوں پر جلد فیصلے کرنے کی ہدایت کر دی  گئی ہے۔کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف بلا تفریق و (بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

امتیاز کارائی کی جارہی ہے۔میگا کرپشن سکینڈلز کو منطقی انجام تک پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے  ملتان دورے کے دوران اینٹی کرپشن ریجنل دفتر کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس نے کہا کہ ملتان کے متعدد میگا کرپشن سکینڈلز کی انکوائریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں۔جبکہ ملتان میں پاکستان کے سب سے بڑے قرنطینہ سنٹرکے قیام میں خورد برد کی انکوائری بھی جلد مکمل ہونے والی ہے۔ اسی طرح ایم ڈی اے کی جانب سے پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔اس حوالے سے اینٹی کرپشن ملتان دو مختلف انکوائریاں کررہی ہے۔انکوائری  یا تفتیش میں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔صرف اور صرف میرٹ کو ترجیح دی جا رہی ہیانہوں نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن سکینڈل میں گرفتار ملزمان نے مجموعی طور پر  اب تک 12 مختلف امتحانات کے پرچے فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔جس کے خلاف اینٹی کرپشن خود  پراسیکیوشن کررہی ہے۔ملتان سمیت صوبہ بھر کے  ریجنل آفس اینٹی کرپشن افس کو تفتیش اور انکوائری مکمل کرنے کی مد ہونے والے اخراجات  کے فنڈز بھیجوا دیئے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ  پلی بارگین کا اینٹی کرپشن میں فی الحال کوئی وجود نہیں۔اس لئے ملزم کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والی بھرتیوں کینسل کروانے کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن کو  مین پاور کی کمی کا سامنا ہے۔جس کیلئے اقدامات کیئے جارہے ہیں۔گوہر نفیس نے کہا مختلف شکایت پر  شجاع آباد روڈ کی تعمیر پر آنے والی لاگت سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات کا ریکارڈ مرتب کرنے شروع کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ڈی جی خان و بہالپور ریجن کے ڈائریکٹرز کے دفاتر کا دورہ بھی کرنا ہے۔جہاں پر انکی کارکردگی کو مانیٹر کیا جانا ہے۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب نے مزید بتایا ہے کہ ملتان سمیت پنجاب بھر میں سرکاری اراضی پر قابضین کی نشاندہی کیلئے گرین بک سے رہنمائی لی جارہی ہے۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے قابضین سے واگزار کروائی جانے والی اراضی پر کچھ روز بعد دوبارہ قبضہ ہوجاتا ہے۔جسکی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

گوہر نفیس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -