پاکستان واپڈا ہائیڈرویونین کا مطالبات کے حصول کیلئے دھرنا 

  پاکستان واپڈا ہائیڈرویونین کا مطالبات کے حصول کیلئے دھرنا 

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)پاکستان واپڈا ہائیڈرویونین نے مطالبات کے حق میں واپڈا کالونی میں دھرنا شروع کردیا اور حالی آسامیوں پر بھرتی کرنے تک احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا اور واپڈا پیسکو کی نجکاری کی صورت میں پارلیمنٹ ہاؤس سمیت ملک بھر کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دیدی دھرنے میں شریک سینکڑوں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے سرکل چیئرمین پیر اشفاق خان،ملک غلام علی خان،چیئرمین ون سجاد علی شاہ،زونل سیکرٹری شمس العابدین،سیکرٹر ی رفیع اللہ شاہ ودیگر مقررین نے کہا کہ واپڈا پیسکو میں اس وقت30فیصد ملازمین کام کررہے ہیں جبکہ 70فیصد حالی آسامیوں پر بھرتی نہ ہونے کی وجہ سے ایک ایک ملازم چار چار ملازمین کا کام کررہا ہے جبکہ ستمبر میں اکثر ملازمین پنشن ہونے کے بعد سٹاف میں مذید کمی آئیگی اور یہ سب کچھ حکومت واپڈا کی نجکاری کیلئے کررہی ہے لیکن ہم موجودہ حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ سے پہلی حکومتوں نے بھی نجکاری کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ہائیڈرویونین نے نجکاری کی ہر حکومتی کوشش ناکام بنادی موجودہ حکومت بھی اپنی خواہش پوری کریں جب تک ہائیڈرویونین کا ایک بھی ورکر زندہ ہے کسی کا باپ بھی نجکاری نہیں کرسکتا اور ہمیں وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس کی بجلی منقطع کرنے پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ پورا ملک اندھیرے مین دوب جائیگا مقررین نے واپڈا پیسکو کے ملازمین کی پروموشن اور ملازمین کی تنخواہوں میں 100فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیل پانچ سے سکیل7تک بھرتیوں کا اختیار سرکل وائز ایس کو دینے کا مطالبہ کیا جبکہ فوری طور پر ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر ملازمین ٹیسٹ کے ذریعے بھرتی کرنے کا بھی مطالبہ کیاکیونکہ2010کے بعد واپڈا پیسکو میں کسی قسم کی بھرتیاں نہیں کی گئی ہیں اور پنشن ملازمین کے بچے اوور ایج ہورہے ہیں یہ بھی مطالبہ کیا کہ کورونا اور شدید گرمی میں کم سٹاف کے باوجود دن رات ڈیوٹی دینے اور ریکارڈ ریکوری پر واپڈا پیسکو ملازمین کو دیگر کمپنیوں کی طرح ڈبل بونس دیا جائے مذید کہا کہ واپدا پیغام یونین نے ہمیشہ نجکاری کیلئے سازش کی ہے اور مراعات کی حاطر ہر صاحب اقتدار پارٹی کا ساتھ دیا ہے لیکن انکی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ہماری اصل طاقت مزدور ہیں سی بی اے کا کاغذی سرٹیفیکیٹ ہمارے طاقت نہیں ہے پیغام یونین کی حثیت آتے میں نمک کی طرح ہے انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں ہر روز اضافہ کیا جاتا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اپنے دور میں ملازمین کی تنخواہوں میں ایک بار بھی اضافہ نہیں کیا لہذا مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی بیسک تنخواہوں میں کم از کم 100فیصد اضافہ کیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -