بنوں،فخراعظم وزیر کو پولیس نے جانی خیل دھرنے میں شرکت سے روک دیا

بنوں،فخراعظم وزیر کو پولیس نے جانی خیل دھرنے میں شرکت سے روک دیا

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے فخراعظم وزیر کو پولیس نے جانی خیل دھرنے میں شرکت سے روک دیا سابق ایم پی اے فخراعظم وزیر ایڈوکیٹ قافلے کے ہمراہ دس روز سے قتل شدہ قبائلی رہنما کی لاش کے ہمراہ دھرنا دینے والے جانی خیل قبائل کے ساتھ اطہار یکجہتی کیلئے ٹاؤن شپ سے جانی خیل جا رہے تھے کہ کنگر پل کے مقام پر پولیس نے انہیں یہ کہہ کہ دھرنے مٰن شرکت سے روک دیا کہ آپ کو تھریٹس ہیں اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق ایم پی اے فخراعظم وزیر نے کہا کہ ہم اپنے جانی خیل بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جارہے تھے جو کہ لاش کے ہمراہ امن کیلئے دھرنا دے رہے ہیں ہمیں اپنے بھائیوں کے پاس جانے سے روکنا قابل افسوس ہے ہم تھریٹس سے ڈرنے والے نہیں امن کیلئے ہم ہر کسی کے ساتھ دینے کیلئے دن رات تیار ہیں انہوں نے کہا کہ آج پولیس نے ہمیں دھرنے میں شرکت سے روکا لیکن جانی خیل قبائل کو جب بھی ضروت ہوگی ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور انڈس ہائی وے کو پوری جنوبی اضلاع کیلئے بند کریں گے ہم نے پہلے بھی چار بچوں کی لاشوں کے ہمراہ دھرنے کے وقت جانی خیل قبائل کا ساتھ دیا تھا اور سڑکوں کو بند کرنے کیلئے علاوہ احمد زئی وزیر نے جانی خیل قبائل کے ساتھ ہر قسم کی قربانی دی تھی کیونکہ ہم امن چاہتے ہیں ہر جگہ امن چاہتے ہیں امن ہوگا تو ترقی بھی ہوگی عوام بھی محفوظ رہیں گے،فوج بھی محفوظ ہوگی،ایف سی بھی محفوظ ہوگی،پولیس بھی محفوظ ہوگی اور اگر امن نہیں ہوگا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہیگا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جانی خیل قوم کے ساتھ امن معاہدے پر 100فیصد عملدرآمد کرائے اور جانی خیل قوم کے جائز مطالبات تسلیم کرکے جانی خیل میں امن کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں ورنہ اگر ہر روز جانی خیل میں لوگوں وک شہید کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر حکومت کیلئے حالات کو سنبھالانا مشکل ہوگا لہذا ابھی بھی وقت ہے یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -