مرغی پہلے یا انڈہ……مقابلہ جاری

مرغی پہلے یا انڈہ……مقابلہ جاری

  

کورونا متاثرین میں کمی آنے پر معمول کی زندگی پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی گئی، ہفتے میں دو روز(ہفتہ+ اتوار) کا لاک ڈاؤن برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی ادارے کھول دیئے گئے، کاروبار رات 8 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی،جبکہ کھلی جگہوں پر خوردو نوش کی اجازت آدھی رات تک ہے، اس کے ساتھ ہی تعلیمی ادارے بھی کھولنے کی ہدایت کی گئی، تاہم اس کے لئے ہائی سکول سے کالج اور یونیورسٹی تک کے طلباء و طالبات کی نصف تعداد آئے گی، جونیئر جماعتوں میں سلسلہ تعلیم باری باری دو سے تین دن تک ہو گا،اس کے ساتھ ہی پارکوں اور تفریح گاہوں میں آنے جانے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی اور مزارات بھی کھول دیئے گئے، ان سرگرمیوں کی اجازت کو مشروط کیا گیا، لیکن ان شرائط کی نگرانی کا موثر نظام نظر نہیں آیا، تاجروں اور گاہکوں نے معمول کے مطابق حفاظتی ہدایات کو  نظر انداز کیا،اگرچہ ماسک والوں کی تعداد بڑھی ضرور، لیکن معیار پر پوری نہیں، حتیٰ کہ سرکاری بسوں میں بھی مسافر اپنی عادت کے مطابق ماسک اتار دیتے اور کنڈیکٹر کے منع کرنے پر جھگڑا کرتے ہیں، ان حالات میں ہدایت یہ کہ تدریس کے فرائض والا سارا عملہ، تاجروں اور تمام ملازم پابندیوں پر عمل کے علاوہ ویکسین بھی لگوائیں گے اور سب پندرہ روز میں مکمل ہو گا،عمل نظر نہیں آتا۔

دریں اثناء بھارتی حکومت کی طرف سے 1984ء میں گولڈن ٹمپل(امرتسر) کی بے حرمتی اور فوجی آپریشن کا دن آیا تو دنیا بھر(بھارت سمیت) میں سکھ برادری نے ”یوم خالصتان“ منا ڈالا، بھرپور مظاہرے اور مطالبات کئے گئے۔ لاہور اور ننکانہ میں بھی سکھوں نے زبردست مظاہرے کئے۔ گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور اور ننکانہ میں احتجاج ہوا، اس کے علاوہ حکومت نے کرتارپور راہداری کھولنے کی بھی اجازت دے دی، متروکہ وقف املاک بورڈ نے ہدایت کے مطابق وہاں کورونا سنٹر بھی قائم کر دیا،جہاں کورونا ٹیسٹ ہوں گے اور ویکسی نیشن بھی لگائی جائے گی۔

مرغی پہلے یا انڈہ، کی ضرب المثل دہرائی جاتی ہے، لیکن ہمارے ملک میں مرغی انڈہ میں تال میل پیدا کر دیا گیا ہے،مرغی کا گوشت مہنگا ہو تو ازراہ ہمدردی انڈے کے نرخوں میں کمی کر دی جاتی ہے، مرغی سستی ہو تو انڈہ مہنگا ہو جاتا ہے، مرغی کا گوشت چار سو سے پانچ سو روپے تک  بکا تو برائلر انڈے 138-140 روپے فی درجن ہو گئے جوں جوں مرغی کے گوشت کی قیمت کم ہوئی۔ انڈے مہنگے ہو گئے، گزشتہ روز مرغی کا گوشت لاہور کے مختلف علاقوں کے حساب سے280 روپے فی کلو سے 310 روپے فی کلو تک تھا، تو انڈے152 روپے فی درجن ہو گئے(کسر نکال لی گئی) یہ کھیل عرصہ سے جاری ہے اور صارفین کی جیب سے رقم نکالنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔چینی، آٹے کو کوئی فرق نہیں پڑا، روٹی، نان مہنگے ہو گئے اور نرخ پکے ہو گئے۔ پوچھ گچھ نہ احتجاج، اب تو ”بجٹ بم“ کا بھی انتظار ہے کہ کئی ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اسی دوران سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو بتایا گیا کہ نئے اسمبلی ہال اور سیکرٹریٹ کا کام مکمل ہو گیا۔ یہ اسمبلی ہال پہلے سے موجود ہال کے عقب میں بنایا گیا ہے، جو تقریباً چھ سال میں تکمیل پذیر ہوا اور اس پر چھ ارب سے زیادہ لاگت آئی۔ چودھری پرویز الٰہی نے تعمیری کام کی تکمیل کا معائنہ کیا اور اعلان کر دیا گیا کہ پنجاب کے لئے نئے سال کا بجٹ اسی ہال میں پیش ہو گا اور بجٹ اجلاس ہی سے یہ کام شروع کر دے گا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے تعمیر تاریخی اسمبلی ہال بھی جوں کا توں برقرار رہے گا۔ تاحال اس کے آئندہ استعمال کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ بہرحال نیا ہال، نیا بجٹ اور اراکین کے نئے جوش ولولے کو دیکھے گا۔

سابق صوبائی وزیر اور پنجاب اسمبلی ہی کے سابق قائد حزبِ اختلاف رانا اکرام ربانی واپس پیپلزپارٹی میں آ گئے،اتوار کے روز ان کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ہوئی، جو مرتضیٰ حسن(پارلیمانی لیڈر پیپلزپارٹی، پنجاب اسمبلی) کے ساتھ ہوئی۔رانا اکرام ربانی کے صاحبزادے بھی ساتھ تھے۔ یہ احساس ہوتا ہے کہ نوجوان سرگرم ہوں گے اور بزرگ داؤ پیچ بتائیں گے۔ پیپلزپارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات منور انجم نے  لاہور سے یہ اطلاع دی اور تصویر بھی جاری کی۔

، مرغی مہنگی،انڈے سستے، مرغی سستی، انڈے مہنگے

کورونا کی شدت میں کمی، بازار اور تعلیمی ادارے کھل گئے، کالجوں، سکولوں میں حاضری کم، بازار میں رش!

سکھ برادری نے گولڈن ٹمپل(امرتسر) کی بے حرمتی کے یوم پر احتجاج کیا،لاہور، ننکانہ میں بھی مظاہرہ، کرتار پور راہداری کھول دی گئی!

پنجاب کا نیا اسمبلی ہال مکمل ہو گیا،بجٹ اجلاس اس میں ہو گا

سابق صوبائی وزیر اور قائد حزبِ اختلاف رانا اکرام ربانی صاحبزادے سمیت اپنی پہلی جماعت میں واپس آ گئے!

مزید :

ایڈیشن 1 -