ماحولیات کا عالمی دن  وزیراعظم کا  میزبان کی حیثیت سے خطاب

ماحولیات کا عالمی دن  وزیراعظم کا  میزبان کی حیثیت سے خطاب

  

اسلام آباد سے سہیل چودھری

ڈھرکی میں ہونے والے المناک حادثے کا ماتم وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں میں بھی جاری ہے۔ گزشتہ 3سال میں 8بڑے ریلوے کے حادثات ہوئے لیکن ریلوے انتظامیہ کے کان پر نہ پہلے جوں رینگی نہ ہی اب کچھ ہوگا۔ اپوزیشن نے روایتی انداز میں اس حادثے کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر ڈالتے ہوئے استعفوں کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ملکی تاریخ کی یہ پہلی حکومت ہے جس نے روایت شکنی کرتے ہوئے اس حادثہ کی تمام ذمہ داری اپوزیشن  جماعتوں پر ڈال دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پوری ریلوے انتظامیہ اس سے بخوبی باخبر ہے کہ سکھر ڈویژن میں ریلوے ٹریک انتہائی کمزور ہے اور بعض افسران کی جانب سے اس مسئلہ کی نشان دہی حال ہی میں کی گئی لیکن اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی یا بروقت ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ روایتی انکوائریوں کے بعد اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ ریلوے وزیر اعظم سواتی مستعفی ہوں بلکہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس حادثہ کی تمام تر ذمہ داری پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی پر ڈال دی ہے۔ ریلوے کی وزارت ریل کے نظام کی اپ گریڈیشن کے لئے چین کے ساتھ ایک مجوزہ منصوبے پر ساری امیدیں لگا کر بیٹھی ہوئی ہے جس کے ابھی فوری طور پر شروع ہونے کا امکان نہیں۔حکومتی بیانات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ عوام کو ”پرانی تنخواہ“ پر ہی گزارہ کرنا ہوگا۔ ٹرین کے محفوظ سفر کا مقولہ اب ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے انتہائی ڈھٹائی سے یہ بیان دیا ہے کہ میرے استعفیٰ سے جانیں واپس آ جائیں تو وہ استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔ 

قومی اسمبلی کا دھواں دھار بجٹ سیشن جاری ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کو پاس کروانے سے روکنے کے لئے بلند و بانگ دعوے کئی تھے لیکن یہ دعوے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ حکومت بجٹ پاس کروانے کے لئے پُر عزم ہی نہیں پر اعتماد بھی نظر آتی ہے بلکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد تو اپوزیشن کو نکمی اور نااہل قرار دے کر طعنے دے رہے ہیں اگرچہ شیخ رشید احمد کا بیان اس بات کا غماز نظر آتا ہے کہ اپوزیشن میں شاید اتنا دم خم نہیں رہا کہ حکومت کے لئے کوئی بڑی مشکل پیدا ہو سکے، تاہم اپوزیشن کے بس میں زیادہ سے زیادہ بائیکات یا ایوان میں ہنگامہ آرائی سے زیادہ کچھ نظر نہیں آتا۔ حکومت کی داخلی صفوں میں جو بھونچال بنتا ہوا نظر آتا تھا وہ بھی اب معدوم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ شاید علی ظفر رپورٹ کے عوض خاموش ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ سیاسی پیشن گوئیوں کے ماہر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہہ دیا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ حکومت کو ووٹ دے گا۔ تاہم ایک طرف گرمی کی حدت جوبن پر ہے ایسے میں بجٹ سیشن میں سیاسی درجہ حرارت کی شدت میں بھی اضافہ ہونا یقینی ہے، لیکن حکومت کے لئے کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل نے اگرچہ وفاق اور صوبوں کے لئے 2101 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کر لیا ہے لیکن اس پر سندھ حکومت کے تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری بھی حکومت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں لیکن حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ پی پی پی روایتی انداز میں ”سندھ کارڈ“ کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے اپنے ترقیاتی و دیگر اہداف مقرر کر لئے ہیں۔ بالخصوص شرح نمو کا ہدف 4.8فیصد رکھا گیا ہے۔ مہنگائی کا ہدف 8فیصد، سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کے لحاظ سے 16فیصد مقرر کیا گیا ہے تاہم حکومت نے جو ریونیو اہداف مقرر کئے ہیں اس پر آئی ایم ایف اتفاق نہیں کر رہا، رواں ہفتے حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات سے ریونیو اہداف کو حتمی شکل دے دی جائے گی، تاہم حکومت کی معاشی اصلاحات کے نتیجہ میں عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا لیکن اب اقتصادی اعشاریوں میں بہتری آ رہی ہے بالخصوص نئے وزیر خزانہ شوکت ترین آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے خلاف نبردآزما ہیں اور ان کی اقتصادی پالیسیوں کا محور ”گروتھ“ ہے۔ ایف بی آر رئیل اسٹیٹ کو شکنجے میں کسنے کی تیاریاں کر رہی ہے،جبکہ دوسری جانب رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ کے سیکٹر کو حکومت نے ایمنسٹی سکیم کے تحت رعائتیں بھی دے رکھی ہیں۔ سٹاک مارکیٹ بھی بڑھ رہی ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ چند بڑی مچھلیاں ہی سٹاک مارکیٹ کو اٹھا رہی ہیں، جو سٹاک بڑھ رہے ہیں وہ چند ہاتھوں ہی میں ہیں۔ 

وزیراعظم عمران خان نے ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے یہاں ایک اہم تقریب سے خطاب بھی کیا جبکہ وزیراعظم نے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لئے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت کم لاگت کے گھروں کی عوام تک رسائی کے پروگرام کے تحت درخواستوں کی وصولی کیلئے موبائل یونٹ کا افتتاح کیا۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی اور نیشنل بینک کے اشتراک سے یہ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں پولیو مہم کا بھی افتتاح کر دیا ہے۔ دوسری جانب کورونا کی شرح ملک بھر میں بھی قابو میں ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں یہ شرح خاصی کم ہو گئی ہے۔ عید کے موقع پر موثر لاک ڈاؤن کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں جبکہ عوام کو ویکسین لگانے کا عمل بھی سست روی سے جاری ہے تاہم چینی ساختہ ویکسین لگوانے والوں کو یورپ اور سعودی عرب سفر کے لئے تاحال پابندیوں کا سامنا ہے، جبکہ برطانیہ نے پاکستان سے آنے والے مسافروں کو ویسے ہی سرخ فہرست میں ڈال رکھا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس ضمن میں پاکستان کو سرخ فہرست سے نکالنے کے لئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی۔ فیٹف کے معیارات پر عمل درآمد کے لئے مثبت خبریں آ رہی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان فیٹف کی لٹکتی ہوئی تلوار ہتی ہے کہ نہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں امریکی اڈوں کے قیام کے حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی دوٹوک انداز میں تردید کر چکے ہیں قرین قیاس ہے کہ پاکستان ماضی کے برعکس اپنی اس ضمن میں پالیسی اپنائے گا۔

 ڈھرکی ریل حادثے کی قومی اسمبلی کے ایوان میں بازگشت، وفاقی وزیر فواد چودھری نے ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال دیا

بلاول بھٹو کی عرصہ بعد آمد،ایوان میں سخت تقریر، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ!

وزیراعظم کا، متعدد منصوبوں کی نقاب کشائی!

مزید :

ایڈیشن 1 -