وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم کے نام خط،ترقیاتی منصوبوں میں امتیازی سلوک کی شکایت؟

وزیراعلیٰ سندھ کا وزیراعظم کے نام خط،ترقیاتی منصوبوں میں امتیازی سلوک کی ...

  

کراچی۔سیاسی ڈائری

مبشر میر 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے سندھ کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔یقیناً ملک کے ہر صوبے اور اس کے بعد اضلاع کا حق ہے کہ ان کو آبادی اور غربت کے تناسب سے ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے۔ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کی منصوبہ بندی انتہائی تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔قومی سطح پر جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس کا ایک ہی مربوط نظام ہونا چاہیے جس میں صوبوں کی آراء اور ہر ضلع کو ملنے والے فوائد کو مدنظر رکھ کر پلاننگ کی جائے۔ایک وقت تھا جب پاکستان میں پانچ سالہ منصوبہ بنایا جاتا تھا۔صدر ایوب خان کے دور میں پانچ سالہ منصوبے نے اپنے تمام اہداف حاصل کیے تھے اور اس کے نتیجے میں 20سالہ منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن صدر ایوب خان کا اقتدار ختم ہوگیا اور وہ منصوبہ بندی بھی ختم کردی گئی۔

ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ترقیاتی منصوبے بناتے وقت اپنے ووٹ بینک کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ہر کوئی اپنے پسندیدہ شہر میں منصوبوں کا اعلان کرتا ہے جبکہ ملک کو یکساں رفتار سے ترقی کرنی چاہیے۔شہروں میں بے ہنگم آبادی بھی منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ہے۔مقامی حکومتوں کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کا نظام بھی تباہ ہوچکا ہے۔2002ء کے بلدیاتی نظام میں ضلعی اسمبلی اپنے ضلع میں ترقیاتی کاموں اور بڑے منصوبوں کے حوالے سے اپنی رائے رکھتی تھی جس سے مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کے امکانات روشن تھے لیکن وہ نظام چھ سال بعد بے اثر کردیا گیا۔اس وقت ضروری ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کی آراء کی روشنی میں منصوبے تشکیل دے لیکن انسانی وسائل کی ترقی کے لیے بھی اسی طرح رقوم مختص کی جائیں جس طرح سڑکوں کے لیے رقوم مختص کی جارہی ہیں۔تعلیم اور صحت پر بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے اسے بہتر کیا جانا ضروری ہے۔

کراچی کے ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ بحریہ ٹاؤن میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے سندھ ایکشن کمیٹی کے نام سے احتجاجی مظاہرہ کیا جو پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔بحریہ ٹاؤن میں کئی املاک جلادی گئیں۔مکینوں نے ایسی صورت حال پر الگ احتجاج کیا کہ ان کی املاک کو کیوں نذر آتش کیا گیا۔اگرچہ حکومت سندھ نے اس کا نوٹس لینے کا کہا ہے  لیکن ایک غیر جانبدار کمیٹی سے حقائق جاننے کی کوشش ضروری کرنی چاہیے  اور پھر ان حقائق کی جانچ پڑتال بھی کی جائے۔وزیراعظم عمران خان جو ہاؤسنگ انڈسٹری کو پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے ترقی دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وفاقی حکومت بھی اس کی تحقیقات کرے کیونکہ اگر ہاؤسنگ کے منصوبوں میں عوام کی املاک کا نقصان ہوگا تو دیگر منصوبے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری بھی ایسے منصوبوں میں ہوتی ہے اس طرح ان کا اعتماد مجروح ہوگا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی وفاقی بجٹ کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ان کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کی جارہی ہیں اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔پیپلزپارٹی ابھی تک اس میں کامیاب ہے کہ مہنگائی کے معاملے میں وہ وفاقی حکومت کو ہی قصوروار قرار دے رہی ہے اور یہ تاثر قائم کرنے میں اسے کافی کامیابی ملی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک حکومت اس میں قصوروار نہیں۔حکومت کا مطلب وفاق،صوبہ اور بلدیات تینوں ہوتے ہیں۔اگر یہ ادارے مل کر کام کریں تو حکومت اچھی ہوگی اگر ان کے درمیان تعاون کا فقدان ہو تو پھر گورننس میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں،بدقسمتی سے پورے ملک کوایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔کسی بھی صوبے میں یہ تینوں طرز کی حکومتیں کام نہیں کررہی ہیں اس لیے گڈ گورننس ایک خواب ہے۔یہ تب تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک بلدیاتی ادارے فعال نہیں ہوں گے۔

کراچی کے عوام میں جعلی ڈومیسائل سے ملازمتیں حاصل کرنے پر بہت تشویش پائی جاتی ہے۔سیاسی جماعتوں، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا موقف یہی ہے کہ کراچی کے  نوجوانوں کا استحصال ہورہا ہے۔اس وقت سندھ حکومت کے محکموں میں کراچی کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ایم کیوایم نے اس پر احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔یہ مسئلہ اگر سندھ حکومت نے طے نہ کیا تو پھر کراچی کے عوام میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔سندھ شہری اور دیہی کے درمیان جو فاصلے پیدا ہوچکے ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔حکومتیں اگر انصاف پر مبنی نظام قائم نہ کرسکیں تو احساس محرومی شدت پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔پانی کی تقسیم کے حوالے سے بھی کراچی کے عوام کئی سالوں سے محرومی کا شکار ہیں۔ہر خاندان اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ پانی کی خرید پر خرچ کرتا ہے۔ٹینکر مافیا کو ختم کرنے کی بجائے اور مضبوط ہونے کا موقع ملا ہے۔اس مسئلے کو حل کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وفاقی وزیر حماد اظہر سے کراچی میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ پر گفتگو کی ہے۔کراچی کو 400میگا واٹ بجلی کی سپلائی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔اس وقت کراچی کے عوام ہیٹ ویو کا سامنا بھی کررہے ہیں۔بجلی اور پانی میں کمی نے ان کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر ناانصافیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔شہر کراچی اب شہر محروم ہے۔

سندھ کے سکھر ڈویژن میں  ایک اور ٹرین حادثہ ہوا ہے۔سندھ سے گذرنے والا ریلوے ٹریک خستہ حالی کا شکار کیوں رہتا ہے اس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں۔کورونا وبا سے کاروبار اور تعلیمی ادارے اتنے متاثر ہوچکے ہیں کہ اب ان کی بحالی بہت بڑا منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز کے باوجود اپنی فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے جو باعث حیرت ہے۔گویا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا نظرآتا ہے۔

ترقیاتی منصوبہ بندی، مستقبل کے حوالے سے کی جائے،طویل مدتی ہونا چاہئے

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے نوٹس لیا،وزیر توانائی حماد اظہر سے لوڈشیڈنگ کی شکایت 

مزید :

ایڈیشن 1 -