پولیو مہمات کو مزید متاثر کن بنانا ناگزیر ہے: ڈاکٹر کاظم نیاز

پولیو مہمات کو مزید متاثر کن بنانا ناگزیر ہے: ڈاکٹر کاظم نیاز

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)پولیو کے خاتمے کیلئے محکمہ صحت سمیت تمام شراکت داروں کو مربوط حکمت عملی کے تحت مزید ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔ کورونا کے دوران پولیو مہمات کافی نظر انداز ہوئی ہیں اس لئے اب پولیو مہمات کو مزید متاثر کن بنانا انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا،  چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز اور آئی جی پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے پولیو اوورسائٹ بورڈ کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں عالمی ادارہ صحت،  یونیسیف،  بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاونڈیشن، روٹری انٹرنیشنل اور دیگر شراکت داروں کے نمائندے شامل تھے۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پولیو مہم میں مزید بہتری آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ امسال صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اس موذی مرض کے خاتمے کیلئے انتہائی سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے وفد کو بتایا کہ ہر ضلع میں زمینی حقائق مختلف ہوتے ہیں اس لئے حکومت اضلاع کی سطح پر پولیو کے خاتمے کیلئے خصوصی حکمت عملی بنا رہی ہیں۔ ڈاکٹر کاظم نیاز کا مزید کہنا تھا کہ پولیو سے انکاری والدین ایک بڑا چیلنج ہیں جنہیں اس طرف راغب کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پشاور میں گزشتہ سال جو واقعہ سامنے آیا تھا اب تک اس کے اثرات موجود ہیں۔ چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع میں انسدادپولیو مہم کو ہر صورت میں کامیاب بنائیں انکی کارکردگی پولیو کے خلاف اچھی کارکردگی دکھانے پر چانچی جائے گی۔جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی پر انہیں آئندہ انتظامی عہدے نہیں دئیے جائیں گے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور آرمی کا تعاون قابل تحسین ہے۔ تاہم پولیو کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ مزید سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پولیو سمیت صوبے میں صحت کے شعبے میں بھی بہتری لانے کے لئے کوشاں ہیں۔ جس کے پولیو کے خاتمے سے متعلق بھی مثبت اثرات ہونگے۔  انہوں نے وفد کو بتایا کہ جس طرح احسن طریقے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کورونا کے خلاف اقدامات اٹھائے اسی طرز پر  انسداد پولیو کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں صرف پولیو کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دیگر بھی چیلنجز سے نبردآزما ہیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت پوری طرح آگاہ ہیں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔پولیو اوورسائٹ بورڈ کے وفد کے سربراہ کرس ایلیس (Dr.Chris Elias)نے اس موقع پر صوبائی حکومت کے انسدادپولیو اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی قبل صوبے میں پولیو کے کیسز کافی زیادہ تھے جبکہ اب پولیو کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور امسال کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا دیگر صوبوں کو بھی خیبر پختونخوا کی انسدادپولیو اقدامات کی تقلید کرنی چاہیے۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے کہا کہ نومولود بچوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی ہے جو حفاظتی ٹیکوں اور پولیو میں مددگار ثابت ہو گا۔  ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سے نہ صرف غیر قانونی آمدورفت کا سدباب ہوا ہے بلکہ پولیو کیسز کے تعاقب میں بھی مدد ملی ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ کورونا صورتحال میں بہتری آنے کے بعد انسداد پولیو مہمات پر مزید بھر پور توجہ دی جا رہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -