عملہ صفائی کی بھرتی اور انہیں صفائی کے اوزا ر مہیا کرنے کی منظوری 

عملہ صفائی کی بھرتی اور انہیں صفائی کے اوزا ر مہیا کرنے کی منظوری 

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے نئے مالی سال سے نئے شامل علاقوں سمیت صوبہ کے تمام بندوبستی اضلاع میں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے عملہ صفائی کی بھرتی اور انہیں صفائی کے اوزار مہیا کرنے کی منظوری دیدی ہے صوبائی حکومت کے اقدام سے دیہی علاقوں میں بھی صفائی اور ماحولیات پر خوشگوار اثرات پڑنے کے علاوہ اس سلسلے میں دیہی عوام کا شعور بھی بیدار ہوگا اور حفظان صحت کی صورتحال بہتر بنے گی ماضی میں دیہات کی سطح پر حکومت کی جانب سے صفائی کا تصور ہی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے دیہی صحت اور ماحولیات مسلسل منفی اثرات کی زد میں تھے اور وہاں امراض کی شرح شہروں کی نسبت بڑھنے لگی تھی اس امر کا انکشاف خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی اکبر ایوب خان نے منگل کو لوکل گورنمنٹ سیکرٹریٹ میں صحافیوں کے ایک وفد سے بات چیت میں کیا وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ اس مقصد کیلئے بجٹ میں 58 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں پروگرام کے تحت صوبے بھر کے دیہی علاقوں میں ویلیج کونسل کی سطح پر روزانہ اجرت کی بنیاد پر عارضی جینیٹرز (بھنگی) بھرتی کئے جائیں گے اور ان کیلئے ضروری سامان بھی خریدا جائیگا اور اس کے نتیجے میں آئندہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی صفائی، حفظان صحت اور ماحولیاتی بہتری پر کام ہو گا اور عوامی شعور بھی اجاگر کیا جائے گا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبے کے 7 بڑے شہروں میں اس وقت سینی ٹیشن سروسز کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ دیگر تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صفائی کیلئے ٹی ایم ایز بھی مصروف عمل ہیں ایک دوسرے سوال پر انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں دیہی صفائی کا نظام مزید فعال بنایا جائے گا جبکہ شہروں میں صفائی کمپنیوں کی بہتر کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کا دائرہ کار دیگر تمام شہروں تک بڑھانے کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اکبر ایوب خان نے صحافی کے سوال پر وضاحت کی کہ ہماری کوشش ہے کہ نئے نظام کے تحت عوام اور خزانے پر مالی بوجھ بھی نہ بڑھے اور شہروں و دیہات میں یکساں طور پر صفائی اور ماحولیات کو بہتر بنانے کا عمل بھی جاری رہے انہوں نے کہا کہ جینیٹرز (بھنگی) خدمات کے تحت ابتدائی طور پر پشاور کی 216 دیہی کونسلوں کیلئے 432، ایبٹ آباد کی 195 کونسلوں کیلئے 444، ہری پور کی 155کونسلوں کیلئے 383، مانسہرہ کی 174کونسلوں کیلئے 348، بٹگرام کی 79 کونسلوں کیلئے 194، بونیر کی 105 کونسلوں کیلئے 232، چارسدہ کی 126 کونسلوں کیلئے 316، لوئر چترال کی 39 کونسلوں کیلئے 57، اپر چترال کی 56 کونسلوں کیلئے 89، ڈی آئی خان کی 139کونسلوں کیلئے 417، لوئر دیر کی 182 کونسلوں کیلئے 552، اپر دیر کی 117 کونسلوں کیلئے 270، ہنگو کی 50 کونسلوں کیلئے 129، کرک کی 57 کونسلوں کیلئے 123، کوہاٹ کی 71 کونسلوں کیلئے 142، بنوں کی 105 کونسلوں کیلئے 289، اپر کوہستان کی 62 کونسلوں کیلئے 124، لوئر کوہستان کی 99 کونسلوں کیلئے 198، لکی مروت کی 89 کونسلوں کیلئے 240، مالاکنڈ کی 67 کونسلوں کیلئے 476، مردان کی 178کونسلوں کیلئے 450، نوشہرہ کی 129 کونسلوں کیلئے 346، شانگلہ کی 105کونسلوں کیلئے 223، صوابی کی 133کونسلوں کیلئے 399، سوات کی 170 کونسلوں کیلئے 540، ٹانک کی 59 کونسلوں کیلئے 172جبکہ تورغر کی 39کونسلوں کیلئے 78 اور مجموعی طور پر 2 ہزار 996 کونسلوں کیلئے 7 ہزار 633 افراد پر مشتمل عملہ صفائی کی منظوری دی گئی ہے اسی طرح ان تمام دیہی کونسلوں کیلئے صفائی کے اوزار جھاڑو و چھڑیاں، بیلچے، چھلکنے اور ہتھ گاڑیاں بھی خریدے جائیں گے اکبر ایوب خان نے بتایا کہ محکمہ بلدیات کی درخواست پر محکمہ خزانہ نے عملہ صفائی کی بھرتی، تنخواہ اور اوزار کی خریداری پر اٹھنے والے اخراجات کیلئے 57 کروڑ 92 لاکھ 50 ہزار روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں عملہ صفائی کی بھرتی کیلئے دی جانیوالی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ صفائی کے عمل کی کڑی نگرانی کی جائے اگر قیمتی عوامی وسائل اس مد میں خرچ کئے جا رہے ہیں تو صفائی کے اس عمل کو موثر اور نتیجہ خیز بنانا بھی ضروری ہے۔

مزید :

صفحہ اول -