سفری سہولیات اور عدم توجہی

سفری سہولیات اور عدم توجہی
سفری سہولیات اور عدم توجہی

  

سفری سہولیات کا پاکستان میں شروع سے فقدان رہا ہے۔ اس فقدان کو پاکستانی شہریوں کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہےکہ قیام پاکستان کے بعد چوہتر برس میں ہم شہریوں کو بہتر سفری سہولیات تک نہیں دے سکے۔ مسلم لیگ ن کے دور میں  میگا سیٹیز میں بہتر سفری سہولیات کا آغاز ہوا جن میں لاہور ،ملتان ، راولپنڈی میٹرو بس پراجیکٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین کی صورت میں شہریوں کے لیے وی آئی سفری سہولت موجود ہے۔  اس  کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ادوار میں  موٹروے کی  شکل میں آسان اور آرام دہ ذریعہ سفر مہیا کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں میٹرو بس پراجیکٹ کا آغاز اور پھر اس کی مینٹی ننس کا خاص خیال رکھا گیا یہی وجہ تھی لوگ اس محفوظ سفر کو ترجیح دیتے ہیں ۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت  جو پہلے ہی میٹرو بس پراجیکٹ کی مخالف تھی اب تو شاید اس پراجیکٹ سے کوئی خاص بدلہ لیا جارہا ہے۔  اب صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد اس پراجیکٹ کی مینٹی ننس کا کام شاید ہی ہوا ہو۔ روزانہ کی بنیاد پر بسیں خراب ہونا معمول بن چکا ہے۔ پہلے جو بسوں میں ایئر کنڈشن کی سہولت موجود تھی اب وہ بھی ختم کردی گئی ہے۔ اربوں روپے سے بنے اس پراجیکٹ کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اوورہیڈ برجز کسی کھنڈر کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اوور ہیڈ برجز زنگ آلود ہو چکے ہیں جنہیں رنگ و روغن کی ضرورت ہے۔  ایک سال ہونے کو ہے بسوں کے نئے ٹینڈر کی ضرورت ہے لیکن نہیں کیا جارہا ۔ بسوں کی حالت اس قدر ابتر ہے کہ چلتے ہوئے کسی بھی مقام پر  ’’ تھک‘‘  جاتی ہیں۔ بسوں کی میعاد پوری ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  حکومت کا رجحان منصوبوں کی مینٹی ننس پر نہیں۔ جہاں جو منصوبہ چل رہا ہے اس کی مرمت  کی جانب کوئی دھیان نہیں۔  یہی حال  ریلوے کا بھی ہے۔ حکومتی عدم توجہی کے باعث  ہی کھوٹکی حادثہ پیش آیا جس میں تادم تحریر 55افراد جان کی بازی ہار گئے اور  100سے زائد زخمی ہوئے۔ مسافروں کے مطابق  ملت ایکسپریس کا کلمپ ٹوٹا ہوا تھا لیکن ریلوے حکام نے اس جانب خاص توجہ نہ دی اور نتیجہ خوفناک حادثے کی صورت میں برآمد ہوا ۔

 سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وفاقی وزرا ایسے موقع پر بھی سیاست سے باز نہیں آئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حادثے کا ذمہ دار سابق حکومتوں کو ٹہرایا۔  فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ  خواجہ سعد رفیق کے گناہوں پر  اعظم سواتی استعفیٰ کیسے دیں۔ سینیٹر فیصل واوڈا کہتے ہیں کہ سابقہ دور میں خریدی گئی ناقص بوگیوں کے باعث حادثہ پیش آیا۔ ٹرین حادثہ پر اپوزیشن نے  وفاقی وزیر ریلوے سے  مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ مطالبہ اس  تناظر میں کیا گیا  ہے کہ جب سابقہ دور حکومت میں ٹرین حادثے پر موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بطور اپوزیشن رہنما خواجہ سعد رفیق سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ وفاقی وزیراطلاعات جو حادثے کا ملبہ سابقہ وزیر ریلوے پر ڈال رہے ہیں ان سے سوال بنتا ہےکہ ن لیگ کا دور حکومت ختم ہوئے تین سال گزر چکے ہیں۔

کراچی ریلوے ٹریک جو کہ خراب ہو چکا اور مینٹی ننس کا متقاضی ہے اس کو تحریک انصاف کے تین سالہ دور میں مرمت کیوں نہ کیا جا سکا؟ کیا ن لیگ نے مینٹی ننس کا کام گزشتہ تین سالوں سے رکوا کر رکھا ہوا ہے؟  جب ریلوے حکام کو ٹریک کی خراب حالت زار بارے علم تھا تو بروقت مرمت کا کام کیوں نہ کیا۔ سینیٹر فیصل واوڈا سے سوال بنتا ہے کہ  پی ٹی آئی کی حکومت کو آئے تین سال ہو چکے ، دوسرے وزیر ریلوے اس وقت وزارت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ۔ اس سے قبل منجھے ہوئے  شیخ رشید ریلوے کے معاملات کو دیکھ رہے تھے۔  وہ ریلوے کی وزارت اس سے قبل بھی ’’انجوائے‘‘ کر چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان تین سالوں میں نشاندہی کیوں نہ ہو سکی کہ بوگیاں ناقص ہیں۔ کیا حکومت وقت کی ذمہ داری نہ تھی کہ   ناقص بوگیوں کو سائیڈ لائن کیا جاتا،  خراب ٹریک کا کام بروقت مکمل کیا جاتا تاکہ حادثے سے بچا جا سکتا۔

حکومتی وزرا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر معاملہ سابقہ حکومتوں پر ڈال کر راہ فرار اختیا ر نہیں کی جا سکتی۔ کچھ کام ہوتے ہیں جن میں ناکامی پر نااہلی تسلیم کر لینی چاہیے۔ ریلو ےجسے دنیا بھر میں تیز زمینی سفر کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس پر کوئی  خاص توجہ نہیں دی جاتی ۔ المیہ یہ ہے کہ موجودہ کے دور میں سب سے زیادہ ٹرین حادثات ہوئے۔ صرف 2019میں چھوٹے بڑے مجموعی طور پر 100حادثات ہوئے۔ مگر حکومت کا المیہ یہ ہے کہ ہر کام اور خرابی کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر  دامن جھاڑنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر جاری منصوبوں کی بروقت مینٹی ننس پر توجہ دی جائے تو مالی اور جانی نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -