سلمان شہباز، ایک منفرد شخصیت

سلمان شہباز، ایک منفرد شخصیت
سلمان شہباز، ایک منفرد شخصیت

  

تحریر: وقار ملک، برسلز

 دنیا میں بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو مثالی طرز حیات رکھتی ہیں، جن کا رہن سہن، ملنا جلنا، اٹھنا بیٹھنا، بات چیت، لب و لہجہ، اخلاق و تمیز۔۔۔ الغرض شخصیت کا ہر زاویہ بہترین اور بے مثال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح شریف خاندان کے افراد کا اپنا ایک کردار، علیحدہ اخلاق، مِلنساری اور عوام کے ساتھ شفقت کا طریقہ کار ہے۔ جس سے ملتے ہیں یا اسے اپنا بنا لیتے ہیں یا اس کے بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان اور بیرون دنیا میں شریف خاندان کے گن گاۓ جاتے ہیں۔ راقم نے صحافت میں لاتعداد اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں شریف برادران کے ساتھ ملاقات منفرد رہی۔ انسان کو اپنے حسن اخلاق سے خریدنا کوئی شریف خاندان سے ہی سیکھے۔ چند روز قبل میری ملاقات شھباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلمان شھباز سے ہوئی تو عقل دنگ رہ گئی۔ اخلاق، تہزیب و تمدن سے بھرپور علم و ادب کا درخشندہ ستارا۔ ایک ایسا نوجوان جس کے چہرے پر مسکراہٹ جوشیلہ پن اطمینان حوصلہ اور اعتماد کا ایک ایسا طوفان نظر آیا جیسے ابھی اور اسی وقت اڑان کے لیے تیار ہو۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ محبت کا ایسا عنصر اور جذبہ جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، وہ نظر آیا۔ بلاشبہ سلمان شھباز جھاں اپنے خاندان میں منفرد اور ذہین نوجوان ہے وہیں پاکستان کا ایک انمول ہیرا بھی ہے۔ سلمان شھباز سے ہر مسئلے پر بات کی جا سکتی ہے، جس کا وہ بھرپور جواب اور اس کا حل بھی بتا دیتے ہیں۔ آپکو اللہ نے خداداد صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ شرم و حیاء کا پیکر یہ نوجوان اپنے ملک سے دور ملک پاکستان جانے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ یہ نوجوان اپنے ملک پاکستان سے کس قدر پیار کرتا ہے، کس قدر اپنے ملک کو یاد کرتا ہے، کوئی اس سے جانے جو نوجوان نسل کو ترقی دینے اور پاکستان کو خوشحال دیکھنے کا متمنی ہے۔ سلمان شھباز ہمارے پاکستان کا وہ سرمایہ ہے جو اعلٰی تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی کا ایک مکمل تجربہ بھی رکھتا ہے۔ جس نے دنیا کو دیکھا پڑھا اور سیکھا، جو پاکستان کو دیکھنے اور بنانے کا خواب لیے نوجوان نسل کو تربیت دینے کا خواہاں ہے، جو صرف اور صرف ملک کی تعمیر چاہتا ہے۔ میری ملاقات میں سلمان شھباز نے کہا کہ پاکستان دنیا کا ایک بہترین ملک اور خدا تعالٰی کا تحفہ ہے، جھاں اچھے لوگ بستے ہیں، جھاں سب انتہائی ذہین اور باکمال انسان ہیں۔ اللہ تعالٰی نے سب کو انتہائی شاندار شخصیت کے ساتھ پیدا کیا ہے، جھاں کے انسانوں کو بے انتہا خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے، جھاں لوگ کسی بھی قسم کی مشکل سے یا دن رات محنت کرنے سے نہیں گھبراتے، لوگ نہایت ایماندار ہیں، عزم اور ارادے کے پکے ہیں، حوصلہ مند اور بہادر ہیں، ہمیشہ دوسروں کے ہر اچھے اقدام کو تحسین و تعریف کی نظر سے دیکھتے ہیں، مشکل سے مشکل حالات میں بھی سچ بولتے ہیں۔ یہ بہت با اخلاق اوراعلی ظرف، شخصیت کے مالک ہیں، بہت منکسر المزاج ہیں اور دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ اپنے دوستوں کی ہر مشکل وقت میں مدد کرتے ہیں۔ آپ اپنی نوکری نہایت ایمانداری کے ساتھ کر رہے ہیں۔ آپ سے ایک بار ملنے کے بعد لوگ آپ سے دوبارہ ملنا پسند کرتے ہیں۔ آپ جس محفل میں بھی جائیں وہاں لوگ آپ کو بہت زیادہ عزت دیتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں کو بھی بے پناہ عزت دیتے ہیں۔ جو لوگ مشکل حالات میں آپ سے مدد مانگتے ہیں آپ ان سے خندہ پیشانی سے بات کرتے ہیں اور مسکراتے ہوئے ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی اتنا خوشحال اور ترقی یافتہ ہورہا ہے۔ پاکستان کی ترقی انھیں افراد سے ہوگی۔ سلمان شھباز کی اپنے ملک پاکستان اور قوم کے بارے میں گفتگو پیار بھری اور جذبات قابل تحسین اور قابل قدر ہیں، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم پروپیگنڈہ پر فوری یقین کر لیتے ہیں، ہم دوسروں کی باتوں پر اعتماد کر لیتے ہیں، ہم تصدیق نہیں کرتے جس سے معاشرتی برائیوں کا آغاز ہوتا ہے اور آپس میں اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے باہر بھی ہم پاکستان کی سیاست کو گلیوں چوکوں میں گھسیٹتے ہیں اور ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے ہیں، حلانکہ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں بالکل معلومات نہیں ہوتیں اور سنی سنائی باتوں پر کان دھرتے ہوۓ تماشہ لگا دیتے ہیں، جو نہ صرف اہنے آپ کے ساتھ بلکہ اپنے ملک پاکستان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سلمان شھباز کی مثبت سوچ کو پزیرائی حاصل ہو۔ ایسی مثبت سوچ پروان چڑھے جو سوچ ہم سب کو متحد کرتی ہو جس سے پیار محبت پروان چڑھے، جس سے نفرتیں کم ہوں، جس سے رشتے مضبوط ہوں، یکجا ہوں، متحد ہوں، اور ہم کندھے سے کندھا ملا کر چلیں اور اپنی سوہنی دھرتی کو مظبوط بنائیں۔ اسی طرح ہم اپنے ملک پاکستان کو خوشحال بنا سکتے ہیں اور ترقی کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو مثبت سیاست سکھائیں جس میں نفرتیں کم اور محبتیں زیادہ ہوں۔ دنیا میں کوئی بھی دین یا مکتبِ فکر اس وقت موضوعِ بحث بنتا ہے اور کھل کر منظرِ عام پر آتا ہے جب اس کی آغوشِ تربیّت میں پرورش پانے والے افراد اپنے مخصوص افکارو عقائد کی روشنی میں ایک مخصوص نظریاتی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج دنیا میں جتنے بھی ادیان ومذاہب اور مکاتب موجود ہیں وہ اپنی اپنی توانائی اور صلاحیّت کے مطابق معاشرہ سازی میں مشغول ہیں ۔ آج ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کےلیےضروری ہے کہ لوگوں کے سامنے''اسلامی عقائدو افکار''کو خالص اوربہترین انداز میں اس طرح پیش کیا جائے کہ لوگ خود بخود ان کی طرف کھچے چلے آئیں اور مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیں۔ اگر کسی دین، مکتب یا سیاسی پارٹی کے پاس پُرکشش عقائد اور مقاصد نہ ہوں، یا یہ عقائد و مقاصد بہترین انداز میں پیش نہ کئےجائیں، توایسا نظام نہ ہی عوام کےدلوں میں اپنی جگہ بناسکتاہےاورنہ ہی کوئی معاشرہ تشکیل دےسکتاہے۔ عقائدوافکارکی حقیقی معنوں میں ترویج واشاعت،نشوونمااورفروغ کےلئےعلمی ونظریاتی بنیادوں پرافرادسازی کی ضرورت ہے۔ کسی بھی مکتب یا سیاسی پارٹی کاتربیّتی نظام جتنا معیاری ہوگا معاشرےکےاندراسکااثرورسوخ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے زیادہ اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت کریں تاکہ پاکستان اور پاکستان کے اداروں کا احترام کیا جاۓ، گالم گلوچ سے پرہیز کیا جاۓ، بیرون ممالک میں ایک پاکستانی بن کر رہیں تاکہ ہماری سوہنی دھرتی پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ایسی منفی سیاست سے پرہیز کیا جاۓ جو پچھلے چند سالوں سے پیش کی جا رہی ہے، جس سے نوجوانوں کے ذہنوں میں انتشار اور بد اخلاقی نے جنم لیا۔ بیرون ممالک میں مظاہرے اور دما دم مست قلندر نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دئیے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔ سلمان شھباز جیسی شخصیات کے مشوروں اور تجربات سے مستفید ہونا ہو گا تاکہ ایک قوم بن سکیں۔ پاکستان کے اس ہیرے کو ملک پاکستان کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔ ایسی شخصیات پاکستان کا اثاثہ ہیں، جو صرف اور صرف اپنے ملک اور اپنی قوم کی ترقی کا جذبہ رکھتے ہیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -