"آئی ایس آئی سے آرڈر نہیں لیتے، پاکستان سے کوئی خصوصی تعلق نہیں" طالبان نے واضح کردیا

"آئی ایس آئی سے آرڈر نہیں لیتے، پاکستان سے کوئی خصوصی تعلق نہیں" طالبان نے ...

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی ان کی جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ اسلامی حکومت قائم نہیں ہوجاتی۔ طالبان آئی ایس آئی سے کوئی آرڈرز نہیں لیتے اور نہ ہی طالبان کے پاکستان کے ساتھ کوئی خصوصی تعلقات ہیں۔ طالبان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔

فارن پالیسی میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ امن کیلئے پر عزم ہیں لیکن فریقِ مخالف صرف وقت ضائع کر رہا ہے۔ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا کہ اگلے 15 روز میں تمام قیدیوں کو رہا کرکے انٹرا افغان مذاکرات شروع ہوں گے لیکن کابل انتظامیہ نے قیدیوں کی رہائی میں چھ ماہ لگادیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں لگا کہ مخالف فریق امن کیلئے سنجیدہ ہے تو طالبان مستقبل سیز فائر کے بارے میں سوچ سکتے ہیں لیکن دونوں اطراف ایک دوسرے پر بالکل بھروسہ نہیں کرتیں۔ یکم مئی تک غیر ملکی افواج کا انخلاف ہونا تھا لیکن وہ ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں تو ہم جنگ کیسے روک سکتے ہیں؟

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان کے دو مقاصد ہیں ، ایک تو غیر ملکی افواج کا انخلا،  اور دوسرا ملک میں تمام لوگوں کو شامل کرکے اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لانا۔ اگر غیر ملکی افواج 11 ستمبر تک چلی جاتی ہیں تو ہم اپنے دوسرے مقصد یعنی اسلامی حکومت کے قیام کیلئے اس وقت تک  جنگ کریں گے جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہوجاتا۔

افغانستان میں امن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان کے نزدیک امن کا مطلب یہ ہے کہ دوحہ معاہدے پر ہر صورت عمل کیا جائے۔ غیر ملکیوں کو ہمارے قائدین کے نام بلیک لسٹ سے نکالنے ہوں گے اس کے بعد ہم انٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے امن تک پہنچ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے سیاسی نظام اور پاور شیئرنگ کا فارمولہ مذاکرات کے ذریعے طے ہونا چاہیے۔ جو بھی فیصلہ ہو، کس کو حکومت کرنی ہے، کون سا سسٹم اپنانا ہے، افغانستان کے تمام لوگ ملک کے نظام کا کس طرح حصہ بن سکتے ہیں یہ سب مذاکرات میں ہی طے ہوگا۔ مستقبل میں ہمیں ماضی کو پیچھے چھوڑنے کی پالیسی اپنانا ہوگی۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان ایک ہمسایہ ملک ہے جہاں 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں، پاکستان کے ساتھ ہمارے ثقافتی، تاریخی اور مذہبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ ہمارا طویل بارڈر ہے۔ ہم ازبکستان ، تاجکستان، ترکمانستان، چین اور ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کابل انتظامیہ گزشتہ 20 برس سے یہ پراپیگنڈا کر رہی ہے کہ ہمارے پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم ان سے آرڈرز لیتے ہیں، ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ہمارا پاکستان کے ساتھ کوئی خصوصی تعلق نہیں ہے، ہماری قیادت ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے، ہماری قیادت کوئٹہ میں نہیں افغانستان میں ہے۔

طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخونزادہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم یہ نہیں بتاسکتے کہ ہمارے امیر کہاں ہیں، ہم انہیں صحافیوں کے سامنے بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہیں لاسکتے لیکن وہ اس بات کی تصدیق  کرسکتے ہیں کہ ملا ہبت اللہ زندہ ہیں اور افغانستان میں ہی موجود ہیں۔ انہوں نے پانچ روز پہلے امیر سے بات کی اور ان سے ہدایات لی ہیں۔ 

مزید :

بین الاقوامی -