بجلی کی بڑھتی قیمتیں، چیئرمین پی اے سی نور عالم کا ملک ٹوٹنے کے خدشے کا اظہار 

بجلی کی بڑھتی قیمتیں، چیئرمین پی اے سی نور عالم کا ملک ٹوٹنے کے خدشے کا اظہار 

  

اسلام آباد(آئی این پی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی بھرمار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا فیک اکاؤنٹس سے ٹویٹر،فیس بک پر ویڈیوز چلائی جاتی ہیں جو پاکستان کیخلاف استعمال ہوتی ہیں،آج کل دو دو سو، بائیس بائیس سو اور 25،پچیس سوایک بندے نے اکاؤنٹ کھولے ہوتے ہیں، اس کو روکنے کیلئے پی ٹی اے نے کیا کیا ہے؟سارے ممالک میں ایک نظام ہوتا ہے جو اینٹی اسٹیٹ مواد کو روکتا ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا ہمارا رپورٹنگ مکینزم ہے کہ کوئی بھی جو سمجھتا ہے یہ فیک اکاؤنٹ ہے وہ ہمیں رپورٹ کریگا، اور ہم اس فیک اکاؤنٹ کا معاملہ ٹویٹر اور فیس بک کیساتھ اٹھائیں گے،ہر مہینے 12سے 13ہزار رپورٹس مختلف پلیٹ فارمز کو بھیجتے ہیں، تین سے چار سو رپورٹس روزانہ جاتی ہیں، پاکستان میں تقریبا 115 ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں،تقریبا113 ملین لوگ موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا،جس میں کابینہ ڈویژن سے متعلق سال 2019-20 کے آڈٹ اعتر ا ضات کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ ذیلی ادارے آڈٹ نہیں کرانا چاہتے، ہمیں رولز کو فالو کرنا ہے،ہم آڈٹ کروائیں گے،چیئرمین نیپرا نے کمیٹی کو بتایا ہمارا آڈٹ ہر سال ہو رہاہے، فنانشل آڈٹ تو یہ ہمیشہ سے کر رہے ہیں، ایک ایک ٹیڈی پیسے کا آڈٹ کرتے ہیں۔اجلاس کے دوران  چیئرمین کمیٹی نے کہا ایسے قانون بنائیں کہ جہاں پر بجلی زیادہ استعمال ہو وہ سستی ہو،ساری دنیا میں بجلی جتنی زیادہ استعمال ہوتی ہے وہ سستی ہوجاتی ہے۔ سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ یہ تو ہم سب کے دل کی آواز ہے۔نور عالم خان نے چیئرمین نیپرا سے کہا میرے خیال میں آپ کی بجلی فری ہے؟ چیئرمین نیپرا نے کہا میری بجلی فری نہیں،میرا 68 ہزار روپے بل آیا ہے،نور عالم خان نے استفسار کیا آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا میری 7لاکھ 90 ہزار روپے تنخواہ ہے، نور عالم خان نے کہا میری ایک لاکھ 50ہزارتنخواہ ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین اوگرا سے بھی تنخواہ کے بارے میں استفسار کیا جس پر چیئرمین اوگرا نے اپنی تنخواہ 11 لاکھ اور کچھ ہزار بتائی۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی بنانے والی تمام آئی پی پیز کمپنیوں سے ہونیوالے معاہدوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جبکہ چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے بجلی کی قیمتوں کے مسلسل بڑھتے رہنے کی وجہ سے ملک ٹوٹنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا دنیا بھر میں زیادہ بجلی استعمال کرنے پر سستی بجلی ملتی ہے جبکہ پاکستان میں مہنگی ملتی ہے، یہاں آئی پی پیزکو کیسپٹی پیمنٹ کے نام پر بجلی نہ بنانے پر بھی عوام کے ٹیکسوں سے پیسے دیئے جاتے ہیں، اب پھر 7 روپے یونٹ بجلی بڑھانے کی بات کی جارہی ہے، اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے کہا پیٹرو ل کی اب بھی سبسڈی نو سے دس روپے فی لٹر ہے، ڈیزل پر پچیس چھبیس روپے سبسڈی دی جارہی ہے۔ نور عالم خان نے کہا کہ ملک کی معیشت غریب آدمی کی معیشت ڈیزل پر منحصر ہے، ہائی اوکٹین جتنا مرضی مہنگا کریں تاکہ بڑی گاڑیوں والوں کو پتہ چلے، غریب آدمی کی معیشت کا ڈیزل کم مہنگا ہونا چاہئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا پی ایس او کے علاوہ نجی آئل کمپنیوں کو مارکیٹ کے مقا بلے پر تیل بیچنے دیتے ہیں۔اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا پی ٹی اے کیخلاف مختلف موبائل و آئی ٹی کمپنیوں کے 345 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اٹارنی جنرل سے بار بار کہا عدالتوں میں مقدمات کے جلد فیصلوں میں کردار ادا کریں، بہت سے نادہندگان کے نام ای سی ایل پر بھی ڈال دیئے گئے۔اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا، چیئرمین اوگرا نے کمیٹی کو بتایا ہم اوسطا پاکستان میں تقریبا تیس ہزار ٹن روزانہ ڈیزل استعمال کر رہے ہیں اور 28سے 29ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہو رہا ہے۔کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پردی جانیوالی سبسڈی کی تفصیلات طلب کرلیں۔

پی اے سی 

مزید :

صفحہ آخر -