اقوام متحدہ اور ملائیشیا کی بھی پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی کی مذمت 

اقوام متحدہ اور ملائیشیا کی بھی پیغمبر اسلام ؐ کی شان میں گستاخی کی مذمت 

  

نیویارک،کوالالمپور (آئی این پی)اقوام متحدہ اور ملائیشیا نے پیغمبرِ اسلام ؐ کیخلاف بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے عہدیداروں کی جانب سے توہین آمیز ٹوئٹس اور بیان کی شد ید مذمت کی ہے، دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک اور رہنما ہرشیت سریواستو کو پیغمبرِ اسلام ؐکیخلاف توہین آمیز ٹوئٹس کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلا ت کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپورمیں وزارت خارجہ نے وہاں متعین ہندوستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے مذمتی بیان اور اپنے احتجاج سے آگاہ کیا۔ ملائیشیا نے ہندو ستا ن سے اسلاموفوبیا اور شرانگیزی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا،جبکہ ہندوستان کی حکمراں جماعت بی جے پی کی رہنما خاتون کے گستاخانہ بیان پر اقوام متحدہ نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ یہ ادارہ تمام مذاہب کا احترام اوررواداری کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ادھر بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کے ایک رہنما کو کانپور پولیس نے پیغمبرِ اسلام کیخلاف توہین آمیز ٹوئٹس کے الزام میں گرفتار کیا ہے، یہ گرفتاری بی جے پی کی ترجمان نپور شرما کی معطلی کے بعد کی گئی جبکہ توہین آمیز ٹوئٹس کو حذف کر دیا گیا۔گرفتار لیڈر ہرشیت سریواستو بی جے پی کے یوتھ ونگ اور طلبہ کونسل کے رکن ہیں۔ پولیس نے ان کیخلاف فوری کارروائی کرتے ہو ئے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جس کے بعد اْنہیں گرفتار کیا گیا۔واضح رہے بی جے پی رہنما نپور شرما کو 5 جون کو پیغمبرِ اسلام ؐکیخلاف توہین آمیز ریمارکس پر بی جے پی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ بی جے پی ترجمان نپور شرما نے ایک ٹی وی چینل پر اسلام اور پیغمبرِ اسلام ؐکی شان اقدس میں گستاخانہ باتیں کی تھیں۔اس گستاخی پر خود ہندوستان، ایران، پاکستان، کویت اور قطر سمیت پوری دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ عرب ممالک میں ’’بائیکاٹ انڈیا“ مہم بھی چل پڑی ہے۔

ملائیشیا مذمت

 نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبا تنظیم کے رہنما ہرشیت سری واستو کو گستاخانہ ٹوئٹ پر شدید پولیس نے حراست میں لے لیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بی جے پی نے گستاخانہ بیانات پر دنیا بھر احتجاج اور شدید سفارتی دباؤکے بعد اپنی ترجمان نوپور شرما اور دہلی کے میڈیا ہیڈ کو معطل کرتے ہوئے توہین آمیز بیان سے لاتعلقی کا تو اظہار کردیا ہے۔دوسری جانب کانپور کے رہائشی اور بی جے پی کی جماعت کے طلبا ونگ کے سرکردہ رہنما ہرشیت سری واستو ہیں جنھوں نے ٹوئٹر پر نبی کریم ؐ کی شان اقدس میں گستاخانہ ٹوئٹ کی اور مذہبی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کا معاملہ ابھی تھما نہیں تھا کہ ہرشیت کی ٹویٹ سے کان پور میں مسلم برادری میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور عوام نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا اور ایف آئی آر درج کرائی۔عوام کے شدید غم وغصے کو دیکھتے ہوئے کان پور پولیس گستاخی کے مرتکب بی جے پی کے طلبا رہنما ہرشیت سری واستو کو حراست میں لینے پر مجبور ہوگئی اور گستاخانہ ٹوئٹس کو حذف کردیا گیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق کسی کو مذہبی فسادات کو ہوا دینے یا سماجی ہم آہنگی کو تہہ و بالا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے کسی اقدام کے مرتکب شخص سے غیر جانبداری کے ساتھ اور سختی سے نمٹا جائے گا۔

گستاخانہ ٹویٹ

مزید :

صفحہ آخر -