توانائی بچت مہم، رات ساڑھے 8 بجے مارکیٹیں، بازار بند کرنیکا فیصلہ 

    توانائی بچت مہم، رات ساڑھے 8 بجے مارکیٹیں، بازار بند کرنیکا فیصلہ 

  

         اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل (این۔ای۔سی) کے اجلاس میں وزرا ئے اعلیٰ نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے ملک گیر اقدامات پر وفاقی کابینہ کے فیصلوں سے اصولی اتفاق کرلیا ہے۔ بدھ کو وزیراعظم  شہباز شریف کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، پنجاب کے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے شرکت کی۔اجلاس میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے قومی حکمت عملی پر وزرائے اعلیٰ سے اہم مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی کابینہ کے 7 جون 2022 کے اجلاس میں توانائی کی بچت کے حوالے سے تجاویز اور فیصلوں سے متعلق صوبائی وزرا اعلی کو آگاہ کیاگیا۔ چاروں صوبوں نے بازار اور دکانیں رات ساڑھے 8 بجے بند کرنے کی تجویز پر اصولی طور پر اتفاق کیا۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے وزرا اعلی نے دودن کی مہلت مانگی تاکہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں تجارتی وکارباری تنظیموں سے مشاورت مکمل کریں اجلاس میں صوبہ خیبرپختونخوا کی نمائندگی چیف سیکریٹری ڈاکٹر شہزاد خان بنگش نے کی۔ وزرا اعلی نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور اس ضمن میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ دوسری طرف قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 23-2022 کیلئے 800 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کی تجویز اور مالی سال 23-2022 کیلئے سالانہ احداف کی منظوری دیدی، معاشی نمو کا حدف 5فیصد رکھا گیا ہے جس کو 6 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی، زراعت سیکٹر کی نمو کا حدف 3.9 فیصد، صنعت کا 5.9 فیصد اور سروسز سیکٹر کی نمو کا حدف 5.1 فیصد رکھا جائیگا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کا فورم قومی وحدت کا مظہر ہے،بنیادی مقصد مربوط کوششوں سے وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے قومی ہم آہنگی بڑھانا ہے، قومی اقتصادی کونسل کو عدم مساوات کو مدنظر رکھنا چاہیے،وفاق اور صوبوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ متوازن علاقائی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں،ہماری اولین ترجیح ہے کہ معیشت شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اپنی پوری استعداد بروئے کار لائیں، اشیاء ضروریہ کی فراہمی اور مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے اور تمام صوبے اس ضمن میں اقدامات اٹھائیں۔ زراعت کے شعبے کی بڑھوتی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ بدھ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کا فورم قومی وحدت کا مظہر ہے اور اسکا بنیادی مقصد مربوط کوششوں سے وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے قومی ہم آہنگی بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قومی اقتصادی کونسل کو عدم مساوات کو مدنظر رکھنا چاہیے اور یہ وفاق اور صوبوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ متوازن علاقائی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کے غیر دانشمندانہ پالیسی اقدمات کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں بیرونی اور اندرونی چیلینجز نے معاشی استحکام کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری حکومت کو ورثے میں ایسی معیشت ملی جس کو غیر مستحکم مالی صورتحال اور بیرونی شعبے، مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور عدم استحکام جیسے خطرناک چیلنجز درپیش ہیں،ہمیں اندرونی غیر معمولی معاشی عدم استحکام اور بیرونی چیلنجز کا پورا ادراک ہے،حکومت نے نہ صرف معیشت کو صحیح سمت دی ہے بلکہ اپنے پہلے مختصر دور میں توانائی شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ اندرونی و بیرونی شعبوں میں عدم توازن کو ٹھیک کرنے کیلئے اصلاحاتی اقدانات اٹھائے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ لوگوں کے روزگار اور معیارِ زندگی کی بہتری ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،معاشرتی اعشاریوں میں بہتری اور افرادی قوت پر سرمایہ کاری میں اضافہ میری حکومت کے طویل مدتی ویژن کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سماجی بہبود، آبی وسائل کا تحفظ، زراعت، موسمیاتی تبدیلی، نالج اکانومی اور علاقائی مساوات سے معیشت کی استعداد سے مستفید ہونا ہمارے ترقیاتی فریم ورک کی توجہ کا بنیادی مرکز ہے،یہ ترجیحات ہمارے ترقیاتی فریم ورک کا کلیدی حصہ ہیں۔ شہباز شریف نے کہاکہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ معیشت شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اپنی پوری استعداد بروئے کار لائیں، انفراسٹرکچر اور انتظامی امور میں بہتری، بلاتعطل اور کم لاگت توانائی، معیاری تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات کی یکساں فراہمی پر ہماری حکومت کی بھرپور توجہ مرکوز ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم، تخفیفِ غربت، اداروں میں اصلاحات، انفراسٹرکچر، تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے مشترکہ علاقائی اقدار اور ذمہ داری کے ذریعے خطے کے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے پر یقین رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہاکہ حکومت کو عالمی معاشی ماحول اور ملکی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے حالات کٹھن ضرور ہیں تاہم ناقابلِ تسخیر نہیں،ہم ان مشکلات کو حل کرنے کیلئے پرعزم ہیں اور تمام ضروری اقدمات اٹھا رہے ہیں،کئی شعبوں میں ہماری کوششوں کے ثمرات آنا بھی شروع ہو گئے ہیں،ہمیں اس بات پر پورا بھروسہ ہے کہ مستحکم معیشت اور سیکیورٹی ماحول ہی پوری دنیا اور خطے میں امن اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وزارت منصوبہ بندی نے قومی اقتصادی کونسل کو سالانہ پلان برائے سال 22-2021 کا جائزہ پیش کیا اور سال 23-2022 کے احداف کے بارے تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہاکہ کونسل نے مالی سال 23-2022 کے لیے سالانہ احداف کی منظوری دی۔ معاشی نمو کا حدف 5فیصد رکھا گیا ہے جس کو 6 فیصد تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ زراعت سیکٹر کی نمو کا حدف 3.9 فیصد، صنعت کا 5.9 فیصد اور سروسز سیکٹر کی نمو کا حدف 5.1 فیصد رکھنے کی منظوری دی گئی ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حکومت نے اہم اقدام اٹھالیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے ٹاسک فورس بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی صنعتوں کے خام مال پر تمام ٹیکس ختم کئے جائیں، سیاحت، فارما، آئی ٹی، ای کامرس، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور زراعت پر ٹاسک فورس بنائی جارہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان میں ایکپسورٹ کوالٹی کی زرعی اجناس کی پیداوار یقینی بنا رہی ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ پالیسیوں کے تسلسل کی بات ہم نے کی ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف سے امریکن بزنس کونسل کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں فارما، فوڈ پراسیسنگ، آئی ٹی سیکٹر، ای کامرس، ریٹیل سیکٹر، ٹیکسٹائل، سپورٹس اور لاجسٹکس کے شعبوں کے نمائندوں، وفاقی وزرا نوید قمر، مخدوم مرتضی محمود، مریم اورنگزیب اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی۔وزیرِاعظم نے سرمایہ کاروں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر تمام مسائل کا سدِ باب کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں، ملکہ برطانیہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دولت مشترکہ کیلئے اتحاد، امید اور تسلسل کی علامت ہیں،پاکستان برطانیہ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے، دوطرفہ تعاون کا مزید فروغ ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے، 17 سال بعد برطانوی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد خوش آئند ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو برٹش ہائی کمیشن میں ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کے 75 سال مکمل ہونے کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت میرے لئے باعث افتخار ہے، برطانیہ کے ساتھ دوستی پر پاکستان کو فخر ہے، پاکستان کے عوام برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں، جب بھی برطانوی شاہی خاندان کے افراد نے پاکستان کا دورہ کیا تو ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہیں، پنجاب میں خادم پنجاب کے طور پر کام کرتے ہوئے برطانیہ نے ہماری حکومت سے بھرپور تعاون کیا اور پرائمری تعلیم، زبچہ و بچہ کی صحت اور پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے طلباء  و طالبات میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے برطانیہ نے ہماری بہت مدد کی جس پر برطانوی حکومت کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ میں دوطرفہ تعاون کا مزید فروغ ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن سے گذشتہ ہفتے ٹیلیفون پر بات ہوئی اور انہوں نے تجارت کے شعبہ میں تعاون کے فروغ کے امور پر تبادلہ خیال کیا، اس سلسلہ میں برطانیہ کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، 17 سال بعد برطانیہ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آ رہی ہے اور میں آپ کو پیشگی بتا رہا ہوں کہ ہم جیتیں گے۔ پاک۔برطانیہ تعلقات کے استحکام میں برطانوی ہائی کمشنر کا کردار لائق تحسین ہے، انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات ہیں، ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ان دوستانہ تعلقات کو تجارتی و سرمایہ کاری روابط میں تبدیل کرنے میں تعاون کریں گے

مارکیٹیں بند

مزید :

صفحہ اول -