زندگی گزارنے کے تین بنیادی کلیے 

 زندگی گزارنے کے تین بنیادی کلیے 
 زندگی گزارنے کے تین بنیادی کلیے 

  

 انسان ایک غلط فہمی میں مارا جاتا ہے یا کامیاب زندگی نہیں گزارسکتا کہ مجھے ہر کام کرنے کے لئے کھلا میدان ملے یعنی مجھے کسی کی مداخلت، رکاوٹ، عداوت، دشمنی یا مقابلہ نہ ملے مگر وہ بھول جاتا ہے کہ اسی کا آغاز تو انسانیت کی ابتدا سے ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو جو رب تعالی نے ایک پھل کھانے سے منع فرمایا تھا، وہ کیا تھا؟ مقابلہ ہی تو تھا۔ابلیس ان کی زندگی میں مداخلت، رکاوٹ اور دشمن ہی تو تھا۔ رب تعالی نے حضرت آدم ؑ کو بتادیا کہ کامیابی کا راستہ اس پھل سے دوری ہے۔ وقتی طور پر وہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔

رب تعالی نے جس طرح انسانوں کے جوڑے بنائے، بالکل اسی طرح ہر چیز کے جوڑے بنائے۔ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ کامیاب زندگی اور ناکام زندگی۔ پھر اس کے لئے سورہ فاتحہ میں دعا بھی سکھائی، وہاں بھی دو چیزیں ہی آتی ہیں۔ ''اے اللہ مجھے سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کئے، ان کا نہیں جن پر تیرا غضب نازل ہوا۔'' اب انعام کا راستہ کچھ تقاضے بھی کرتا ہے۔ ان تقاضوں میں تین بنیادی تقاضوں کا ذکر یہاں کرنا چاہتا ہوں۔

1۔کوشش۔ رب تعالی کا فرمان ہے: ترجمہ اور مفہوم یہ ہے کہ جس نے جس طرح کی کوشش کی، وہی اس کو صلہ ملے گا۔ اب یہ کوشش کونسی ہونی چاہیے؟

در ست سمت میں کوشش۔ جس کو ہم Directional effort بھی کہتے ہیں۔ انعام والی زندگی  درست سمت میں کوشش سے ہی ملے گی۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ رب تعالی ہم سے یہ توقع رکھتا ہے کہ کامل کامیابی کے لئے ہم کامل کوشش بھی کریں۔ کوشش کیا ہے؟ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرنا۔ سادہ سا کلیہ ہے اگر آپ نے لاہور سے مدینہ شریف کے لئے جہاز پر بیٹھنا ہے تو آپ اسی جہاز پر بیٹھیں گے جس نے آپ کو وہاں لے کر جانا ہے، نہ کہ آپ ڈائیوو پر بیٹھ جائیں کہ یہ بس مجھے مدینہ شریف پہنچادے گی۔ انعام والی زندگی کے لئے انعام والی کوشش شرط ہے۔

2۔ یقین: دو باتوں کا یقین کرلیں۔ ایک ہماری کوشش درست سمت میں ہے۔ دوسری جو کام کرنے جارہا ہوں اللہ نے مجھے ایسا کرنے کی صلاحیت دی ہے۔ یقین کی دولت ہمیں آگے بڑھنے کا سبق دیتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف تشریف لے گئے، بدبخت لوگوں نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اتنی تکلیف پہنچائی کہ رب تعالی نے فرشتہ بھیج دیا کہ حکم ہو تو وادی کے مکینوں کو دو پہاڑوں کے درمیان کچل کر رکھ دیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باتوں کا یقین تھا کہ میری کوشش درست سمت میں ہے اور ان لوگوں میں سے ہی اسلام کے نام لیوا اٹھیں گے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالی کی پیشکش قبول نہ کی۔ یقین کامیابی کا ایک اہم راستہ ہے۔ 

3۔ اللہ پر بھروسہ/ توکل: رب تعالی کا فرمان ہے۔ ''جب کسی کام کا ارادہ کرلو تو پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔''

للہ پر بھروسہ اور توکل کا بہترین مفہوم، بہترین کوشش اور اپنی صلاحیتوں پر پختہ یقین ہے۔ بھروسہ یا توکل بغیر اسباب کے نہیں ہوسکتا۔ رب تعالی نے یہ دنیا، اسباب کی دنیا بنائی ہے پیغمبروں کی زندگیوں میں بھی معجزات کم اور اسباب زیادہ ہیں۔ رب تعالی کو سست مومن پسند نہیں۔ ہماری کمفرٹ زون والی زندگی ہمیں سست بناتی ہے۔ اس سے نکلنا پڑے گا۔ اسباب تلاش کرنے پڑیں گے۔ اسباب تلاش کرنے کے لئے کوشش کرنی ہوگی اور کوشش کے لئے نرم گرم بستروں، اے سی کمروں سے نکلنا پڑے گا۔ میں تمام پڑھنے والوں کو یقین دلاتا ہوں کہ خلوص نیت سے یہ تین بنیادی کلیے اپنالیں تو کافی فائدہ ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -