لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے! 

  لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے! 
  لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے! 

  

کے تقریباً سبھی شہروں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جناب وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل کے آخر میں کہا تھا کہ یکم مئی سے لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہو سکا،لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ اب انہوں نے ہدایت جاری کی ہے کہ دن بھر میں دو گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے۔ لگتا ہے ان کی اس ہدایت پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہو رہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں بھی بجلی کئی کئی گھنٹے بند رہتی ہے جس کے باعث سبھی معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ 

آج کے دور کو بجا طور پر ڈیجیٹل دنیا کا نام دیا جاتا ہے۔ انسان آسمانوں کی وسعتوں کو توکھنگال ہی رہا ہے،کمیونی کیشن،آن لائن ٹریڈ،سائنسی آلات اور ترسیلات کے نئے نئے ذرائع اور طریقے بھی دریافت و ایجاد کئے جا رہے ہیں۔ پہلے کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا،لیکن آج کی دنیا یقیناً ایک گلوبل ویلیج ہے،جہاں کہیں بھی کسی سے بھی رابطہ اور تبادلہ خیالات چند منٹوں بلکہ چند سیکنڈوں کا معاملہ ہے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں،آنے والی نسل اس سے بھی زیادہ محیرالعقول ایجادات کا مشاہدہ اور استعمال کر رہی ہو گی۔ یہ واضح ہے کہ جو ترقی کی اس دوڑ میں شامل ہونے سے انکار کرے گا وہ پیچھے رہ جائے گا،وقت زمانہ اور جدید دنیا کی تہذیبیں آگے بڑھ جائیں گی۔ اس تیزی سے ترقی پذیر دنیا بلکہ گلوبل ولیج کی نت نئی ایجادات سے مستفید ہونے کے لئے سب سے بنیادی جزو توانائی ہے،جسے ہم بجلی کہتے ہیں۔

دنیا بھر میں تمام تر تحرک،سرگرمیوں،کارروائیوں،اقدامات اور کوششوں کی بنیاد توانائی کا یہی ذریعہ ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بس ایک لمحے کے لئے تصور کر لیجئے کہ بجلی بند ہو جائے تو کیا ہوتا ہے۔ کیا سارے کام ٹھپ نہیں ہو جاتے؟ کیا کاروبار،کیا صنعت،کیا تجارت،کیا گھریلو زندگی،سب کچھ معطل ہو کر نہیں رہ جاتا؟ سب لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بجلی آنے کے انتظار میں نہیں بیٹھ جاتے؟ تو سوال یہ ہے کہ ایسے میں جدید ایجادات اور جدید آلات کے استعمال سے عالمی برادری کے شانہ بشانہ آگے بڑھنے کے امکانات کتنے باقی رہ سکتے ہیں؟ یہاں لوڈ شیڈنگ کی جو صورت حال ہے،وہ سب کے سامنے ہے۔ دن بھر میں آدھا وقت بجلی بند رہے تو کوئی کارخانہ یا کوئی صنعتی یونٹ کتنا چل سکتا ہے؟ کوئی گھریلو صنعت کتنا فروغ پا سکتی ہے؟ کوئی کاروبار کتنا ترقی کر سکتا ہے؟ ان سارے سوالات کے جواب جاننے کے لئے ذہن پر زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیا ایک ماہر معیشت کا یہ کہنا سو فیصد درست اور بجا نہیں کہ کسی ملک کی معاشی خوشحالی کی بنیاد توانائی کا شعبہ ہے جسے مضبوط کیے بغیر ترقی ممکن نہیں ہو سکتی؟ پاکستان میں آئے روز گیس، تیل اور بجلی کے بحران عام شہری کی تکالیف میں اضافہ ہی نہیں کرتے بلکہ ملک کی مجموعی پیداوار کو بھی متاثر کرتے ہیں،جس کے باعث معاشی ترقی سست روی کا شکار رہتی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2019-20 کے مطابق پاکستان میں توانائی کے شعبے کو طلب و ضرورت میں فرق کا سامنا ہے جسے ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ فرق یقیناً مزید بڑھ چکا ہو گا،لیکن سوال یہ ہے کہ اس فرق کو ختم کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اب تک کیا کیا گیا ہے؟ 

پاکستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بجلی، تیل اور گیس کو بڑے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بجلی ڈیموں کے ذریعے،تھرمل ذرائع کے علاوہ نیوکلیئر، کوئلے، ہوا، اور شمسی توانائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ سب ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی بھی طلب سے کم رہتی ہے جس کا نتیجہ لوڈ شیڈنگ کی صورت میں نکلتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کچھ یہاں پیدا ہوتی ہیں،لیکن زیادہ تر بیرون ملک سے منگوانا پڑتی ہیں۔ پاکستان میں قدرتی گیس کی یومیہ پیداوار چار ارب مکعب فٹ ہے جبکہ ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کی جاتی ہے۔ 

پاکستان میں توانائی کا بحران اس لئے ہے کہ ایک تو ہمارے پاس توانائی کے پورے ذرائع نہیں ہیں اور جو ہیں،ان کا ہم ٹھیک استعمال نہیں کرتے۔ سردیوں میں گیس کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے اور گیس کے ہیٹر سارا سارا دن اور پوری پوری رات جلتے رہتے ہیں۔ یہی صورت حال گرمیوں میں بجلی کے حوالے سے ہے کہ اگر کہیں پنکھا یا اے سی چل رہا ہے تو لوگوں کے وہاں سے چلے جانے کے باوجود وہ چلتا رہتا ہے اور کوئی اسے بند نہیں کرتا،حالانکہ ہماری بچائی ہوئی گیس یا بجلی کسی دوسرے کے کام آ سکتی ہے،اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کچھ کم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار کے اضافوں، گیس اور بجلی کی شدید قلت، گردشی قرضوں اور بجلی و گیس کی تقسیم اور منتقلی کے کہنہ اور ناقص نظام نے ہمیں گزشتہ کچھ عرصے میں متعدد بار توانائی کے بحرانوں میں مبتلا کیا ہے۔ یہ مسائل حل کیوں نہیں ہو سکے؟ سیاسی سطح پر سنجیدگی کے فقدان، منصوبہ بندی کے دوران غلط ترجیحات، مناسب پالیسیوں کی غیر موجودگی اور کرپشن کی وجہ سے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بجلی بنانے والے کئی یونٹس اپنی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ پاکستان بجلی تو وافر پیدا کر  سکتا ہے،لیکن اس کی تقسیم کا نظام ناقص ہے جس کے باعث پیدا کردہ بہت سی توانائی ضائع ہو جاتی ہے جبکہ بیس فیصد بجلی چوری ہوتی ہے اور دس فیصد بجلی کے بل ادا ہی نہیں کیے جاتے۔ پھر بجلی کی تقسیم و ترسیل کا نظام بمشکل اٹھارہ سے انیس ہزار میگاواٹ کا لوڈ برداشت کر سکتا ہے۔ ان حالات میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جب مسائل کچھ اور ہوں اور توجہ کچھ دوسرے مسائل پر دی جا رہی ہو۔ پھر بھی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے اگر:

٭ توانائی کا استعمال سہولت کے ساتھ کیا جائے یعنی اتنا ہی جتنی ضرورت ہو۔

٭ نئے ڈیم ضرور بنائے جائیں لیکن بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے۔

٭ بجلی چوری اور لائن لاسز کو ختم نہیں کیا جا سکتا تو ان میں کمی ضرور لائی جائے۔

٭ بجلی کی ترسیل کے نظام کو اوورہال کیا جائے تاکہ نظام کی خرابیوں کی وجہ سے ضائع ہونے والی بجلی بچائی جا سکے۔

٭ بجلی کے بل فرد،ادارے،علاقے کی تفریق کے بغیر سب سے وصول کئے جائیں۔

٭ نجی اور سرکاری سطح پر شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے عملی کوششیں کی جائیں کہ قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔ گھروں میں سولر سسٹم نصب ہوں گے تو قومی گرڈ پر بوجھ کم ہو جائے گا۔

٭ بجلی پیدا کرنے والے جو یونٹ بیکار،بند پڑے ہیں اور ان کی ادائیگیاں ہو رہی ہیں،ان سے بجلی پیدا کر کے فروخت کی جائے یا پھر ان سے نجات حاصل کر لی جائے۔ 

مزید :

رائے -کالم -