ملتان کا مخدومی معرکہ 

 ملتان کا مخدومی معرکہ 
 ملتان کا مخدومی معرکہ 

  

 اب اس کا یہ کہنا تو بنتا ہے کہ والد کو شکست دی تھی اب بیٹے کو بھی دوں گا۔  سوال یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے یہ فیصلہ کیا ہی کیوں؟ پورے حلقے میں انہیں بیٹے کے سوا کوئی امیدوار نہیں ملا موروثی سیاست کی ایسی بدترین شکل ضرور دکھانی تھی، جی ہاں میں بات کر رہا ہوں ملتان کے صوبائی حلقے 217 کی جہاں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں اسی حلقے سے شاہ محمود قریشی کو شکست ہوئی تھی اور ان کے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے یہ حلقہ جس قومی اسمبلی کے حلقے میں واقع ہے، وہاں سے شاہ محمود قریشی جیت گئے تھے اور اس کے ساتھ والے حلقے سے ان کے بیٹے زین قریشی بھی کامیاب رہے تھے۔ ملتان میں شروع دن سے تحریک انصاف دو گروپوں میں بٹی ہوئی  تھی۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی گروپ۔ جس نوجوان سلمان نعیم نے شاہ محمود قریشی کو شکست دی اس کے کاندھے پر جہانگیر ترین کا ہاتھ تھا۔ وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہوا تاہم جہانگیر ترین کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ سو حیران کن نتیجہ سامنے آیا کہ شاہ محمود قریشی اپنے گھر کے قریب والے حلقے سے شکست کھا گئے۔ پھر یہ ایک طویل داستان ہے کہ کس طرح سلمان نعیم کو اسمبلی میں جانے سے روکنے کے لئے انتخابی عذرداری دائر کی گئی، ان کی رکنیت معطل کرائی گئی۔ اڑھائی تین سال اسی طرح گزر گئے، پھر سپریم کورٹ کے حکم سے سلمان نعیم کی بحالی ہوئی۔ شاہ محمود قریشی جو شروع دن سے سلمان نعیم کو اپنا دکھ بنائے ہوئے تھے، اس وقت بھی خوش نہیں ہوئے تھے جب جیت کے بعد جہانگیر ترین انہیں اپنے جہاز میں بٹھا کے بنی گالا عمران خان کے پاس لے گئے اور تحریک انصاف میں شمولیت کروائی، اپنی ہی پارٹی کے ایک صوبائی رکن سے مخالفت کی حدیں پار کرنے والے شاہ محمود قریشی اب اس سلمان نعیم کے مقابلے میں اپنے بیٹے زین قریشی کو لے آئے ہیں۔ اسی پر سلمان نعیم آج کل یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ باپ کو شکست دی تھی اب بیٹے کو شکست دینے کی باری ہے۔ میں سوچ رہا ہوں شاہ محمود قریشی نے اتنا بڑا رسک کیوں لیا ہے۔ وہ تحریک انصاف کے کسی اور رہنما کوٹکٹ دلوا کر پورا زور لگا سکتے تھے۔ اب بیٹے کے لئے پورا زور تو لگائیں گے لیکن اگر تاریخ دہرائی گئی اور بیٹا بھی ہار گیا تو آگے آنے والے انتخابات میں کیا ہوگا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن سلمان نعیم کو کامیاب کرانے کے لئے پورا زور لگا رہی ہے شنید ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے مقامی مسلم لیگی قیادت سے کہا ہے کہ وہ سلمان نعیم کی کمپین چلانے کے لئے پورا زور لگا دیں یاد رہے کہ سلمان نعیم ان ارکانِ اسمبلی میں شامل ہیں جنہوں نے جہانگیر ترین گروپ میں شمولیت اختیار کیا ور صوبائی اسمبلی میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرانے کے لئے ووٹ دیا۔ جس کے بعد انہیں الیکشن کمیشن نے ڈی سیٹ کر دیا، اسی دوران سلمان نعیم نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی  اور مسلم لیگ ن نے انہیں پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کا مشترکہ امیدوار نامزد کر دیا۔ اب شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ ہمارا مقابلہ مسلم لیگ سے نہیں پی ڈی ایم سے ہے۔ حالانکہ مقابلہ نہ ان کا مسلم لیگ ن یا پی ڈی ایم سے ہے بلکہ سلمان نعیم سے ہے شاہ محمود قریشی ملتان میں اپنے بیٹے کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے کل کہہ رہے تھے کہ سلمان نعیم کو عثمان بزدار حکومت نے حلقے کے لئے اربوں روپے کی گرانٹ دی، انہیں افسروں پر نگران مقرر کیا حد درجہ اہمیت دی، اس کے باوجود وہ لوٹے بن گئے۔ شاہ محمود قریشی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ سلمان نعیم کو اڑھائی سال تک پنجاب اسمبلی میں نمائندگی سے کس نے محروم کیا۔ اگر وہ تحریک انصاف کے رکن تھے تو ان کے خلاف عذرداریاں کیوں دائر کروائیں یہ ٹھیک ہے کہ سلمان نعیم نے ایک ایسے موقع پر مسلم لیگ ن میں جانے کا فیصلہ کیا جب زمینی حالات کچھ زیادہ اس کے حق میں نہیں۔ عمران خان کے بیانیئے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث لوگ خاصے متنفر نظر آ رہے ہیں، لیکن میرے نزدیک شاہ محمود قریشی نے سلمان نعیم کی جیت کے اسباب خود پیدا کر دیئے ہیں۔ اگر وہ اس صوبائی حلقے سے کسی نظریاتی کارکن کو ٹکٹ دیتے تو اس کی جیت ان کے بیٹے زین قریشی کی نسبت زیادہ یقینی تھی، مگر اب سلمان نعیم کو وہی ووٹ دوبارہ پڑنے کا امکان ہے جو 2018ء کے انتخابات میں ملا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت بھی وہ ووٹ تحریک انصاف کا نہیں بلکہ صرف سلمان نعیم کا تھا کہ وہ آزاد کھڑے ہوئے تھے۔ سلمان نعیم اور ان کے حامیوں کو یقین ہے کہ شاہ محمود قریشی والے حلقے کے لوگ انہیں ووٹ دیں گے اسی لئے وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پہلے والد کو شکست دی اور اب بیٹے کو دیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شاہ محمود قریشی نے سلمان نعیم کی رکنیت معطل کرائی تھی تو ملتان کے سیاہ و سفید کا مالک ہونے کے باوجود اسی حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرایا تھا۔ بلکہ الٹا ہر قسم کی گرانٹ بند کروا کے ایک طرح سے حلقہ 217 کے عوام کو یہ پیغام دیا تھا کہ مخدومیوں سے بگاڑ کے انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ کورونا کے دنوں میں سلمان نعیم نے اس حلقے میں بہت کام کیا۔ گھر گھر امداد پہنچائی، سڑکیں مرمت کرائیں، ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کیں۔ جبکہ شاہ محمود قریشی نے اس حلقے کا کبھی رخ نہیں کیا۔ اس کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سلمان نعیم شاہ محمود قریشی کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔ وہ ان کی گاڑی پر ڈرائیور بن کر ساتھ ہوتے تھے۔ صرف یہی نہیں انہوں نے شاہ محمود قریشی کے جلسے کرانے حتیٰ کہ زین قریشی کی شادی کے موقع پر تمامتر انتظامات کی ذمہ داری بھی خود اٹھائی۔ ملتانی مخدوم کا ان سے وعدہ تھا کہ صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ انہیں دلوائیں گے۔ لیکن انتخابات آئے تو شاہ محمود قریشی نے قومی حلقہ کے ساتھ ساتھ اس صوبائی حلقے سے بھی کاغذات جمع کرا دیئے یہ دیکھ کر سلمان نعیم ہکا بکا رہ گئے، انہوں نے کہا شاہ صاحب یہ زیادتی ہے، مگر پارٹی کا وائس چیئرمین ہونے کی وجہ سے شاہ محمود قریشی کا ملتان میں سکہ جما ہوا تھا، جہانگیر ترین کی کوششوں کے باوجود سلمان نعیم کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ جس پر انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرا دیئے مخدومی خمار میں مبتلا شاہ محمود قریشی کے لئے یہ کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا، انہیں صرف مسلم لیگ ن کے امیدوار کی فکر تھی۔ مگر حلقے کے لوگ جو یہ جانتے تھے سلمان نعیم کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے شاہ محمود قریشی کے خلاف اس نشست پر کھل کر سامنے آ گئے اور مخدوم صاحب کو بڑے مارجن سے شکست ہو گئی جو ملتان کی تاریخ کا ایک بڑا اپ سیٹ تھا۔ اب شاہ جی نے اپنے بیٹے زین قریشی کو سلمان نعیم کے مقابل کھڑا کر کے ایک بار پھر حلقے میں یہی صورت حال پیدا کر دی ہے البتہ اس بار انہیں امید ہے کہ عمران خان کے بیانیئے کی وجہ سے جو صورت حال بدلی ہے اور جس طرح سلمان نعیم نے وفاداری تبدیل کر کے ووٹرز کو ناراض کیا ہے، اس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو جتوانے میں کامیاب رہیں گے۔ اس سارے کھیل میں وہ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ پچھلی بار بھی اس حلقے کے عوام نے ووٹ شخصی بنیادوں پر دیا تھا۔ اس بار بھی شخصی ٹکراؤ وہی ہے جو پہلے تھا تو سلمان نعیم کی بات کہیں درست ثابت نہ ہو جائے کہ والد کے بعد بیٹے کی ہار بھی یقینی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -