کوھاٹ میں نئی حلقہ بندیوں پر عوامی حلقوں کے تحفظات

کوھاٹ میں نئی حلقہ بندیوں پر عوامی حلقوں کے تحفظات

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ میں نئی حلقہ بندیوں پر بلی ٹنگ کے عوام سمیت مختلف حلقوں کے تحفظات‘ شہری علاقوں کو دیہات میں شامل کرنے کر زیادتی قرار د دیا عوامی سماجی حلقوں نے اس حلقہ بندی کو مکمل طور پر مسترد کر کے سابقہ پوزیشن پر برقرار رکھنے کا مطالبہ کر دیا اس حوالے سے بلی ٹنگ‘ کوٹ‘ منداخیل‘ ڈھوڈہ‘ سیاب اور شادی خیل کے مشران کا بلی ٹنگ منڈی میں ون پوائنٹ ایجنڈا کے تحت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس سے چیئرمین عابد‘ عتیق‘ شیر زمان‘ مفتی سردار‘ ہاشم‘ فہیم‘ مصباح الدین اور دیگر نے خطاب کرتے ہوء حالیہ ضلعی حلقہ بندیوں کو یکسر مسترد کر دیا اور اسے عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف قرار دیا انہوں نے پی کے 89 میں نئی حلقہ بندی کے تحت بلی ٹنگ کی شمولیت کو نامنظور کرتے ہوئے اس کے تحت ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا اور اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا بصورت دیگر عدالت کا دورازہ کھٹکھٹانے اور احتجاج کے ذریعے اپنا حق لینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ پہلے بلی ٹنگ تحصیل گمبٹ کا حصہ تھا جو معمولی فاصلے پر ہے مگر اب اسے بہت دور تحصیل کے ساتھ ملا لیا گیا ہے جو ظلم و زیادتی ہے اسلام آباد والوں کا یہ فیصلہ ہمیں ہرگز قبول نہیں انہوں نے بیل ٹنگ کی سابقہ حیثیت بحال رکھنے کا پرزور مطالبہ کیا مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالتی جنگ اور سڑکوں پر احتجاج سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا اس موقع پر انہوں نے الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے مشران پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -