پاک‘ افغان و ایران میں تجارت مضبوط ہونی چاہئے‘ حامد رضا 

پاک‘ افغان و ایران میں تجارت مضبوط ہونی چاہئے‘ حامد رضا 

  

پشاور (سٹی رپورٹر)ایرانی کونسل جنرل حامد رضا قْمی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور افغانستان تینوں برادر اسلامی ممالک ہیں، اور وقت کا تقاضہ ہے کہ یہ ممالک آپس میں تجارت کو فروغ دیں تاکہ کاروباری طبقہ خوشحال اور معیشت مضبوط ہو سکے، تجارت کے فروغ کے لیے ہر قسم کی روکاوٹ کو مل بیٹھ کر اور قانونی طریقے سے ہٹایا جاسکتا ہے، اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں جب ان تعلقات کے ثمرات تینوں ممالک کی عوام کومیسر ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میئر پشاور حاجی زبیر علی، نائب صدر سارک چیمبر آف کامرس سابق سینیٹر حاجی غلام علی، ریجنل کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی سرتاج احمد خان، اور بزنس کمیونٹی پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے ایرانی کونسل جنرل کی دعوت پر ان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاک ایران افغان تجارت کے فروغ بارے تبادلہ خیال کیا گیا اور تجاویز پیش کی گئیں۔ اس حوالے سے درپیش مشکلات کے حل کے لیے تینوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔ ایرانی کونسل جنرل نے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور نو منتخب میئر پشاور حاجی زبیر علی کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ ایرانی کونسل جنرل کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ہمسائیہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ ہر سیکٹر میں بھر پور تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ پر یقین رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہاں جمع ہیں اور مستقبل میں تینوں ممالک کی ترقی کے لیے پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پشاور میں بلدیاتی نظام اور امور کی بخوبی انجام دہی کے لیے ایران اپنے بلدیاتی نظام کے سٹرکچر کو یہاں کے منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کرکے خوشی محسوس کریگا۔ لوکل گورنمنٹ میں جو کچھ ایران نے کیا اس سے پشاور کے منتخب نمائندوں کو آگاہ کیا جائیگا تاکہ تجربات سے استفادہ حاصل کیا جاسکے۔ کاروبار کی ترقی کے لیے پاکستان ایران اور افغانستان برادر اسلامی ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تینوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائینگے۔ میئر پشاور حاجی زبیر علی نے ایرانی کونسل جنرل اور انکے عملے کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ بلدیاتی نظام کو مزیدپر کشش اور پر اثر بنانے کے لیے تجربات اور خیالات کا تبادلہ ضرور کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ پشاور میں جدید آلات پر مشتمل مضبح خانہ کے قیام کا معائدہ کیا گیا ہے جس پر ایرانی کونسل جنرل نے جلد عمل درآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی اور وفد میں شامل حاجی اصغر کو اس حوالے سے کمیٹی کا رکن بھی نامذد کر دیا گیا۔ حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ ویسے تو ایکیسویں صدی کا تقاضہ ہے کہ جن ممالک کے ساتھ سرحدات ملتی ہیں ان کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط ہونے چاہیے تاہم ہمارہ یقین ہے کہ ہر ایک کے ساتھ تجارت و کاروبار کے تعلقات کو مستحکم کیا جائے بالخصوص ہمسائیہ ممالک۔ تیکنیکی معاملات میں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پاک ایران افغان بزنس کمیونٹی، چیمبرز، فیڈریشن اور ٹریڈ باڈیز کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ سرتاج احمد خان کا کہنا تھا کہ ایف پی سی سی آئی پاک افغان ایکسپو کرانے جارہی ہے اور مستقبل میں اسی طرز پر ایران کے ساتھ بھی اور پھر تینوں ممالک کی مشترکہ ایگزیبیشن کرائی جائیگی۔ بعد ازاں ایرانی کونسل جنرل کی جانب سے وفد کو ایران کی یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -